Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’انشاء اللہ ‘‘مرکزی انگریزی زبان کا حصہ بن چکا ہے، ڈیٹا سے ثابت

Updated: July 05, 2026, 9:05 PM IST | Washington

عربی زبان کا لفظ انشاء اللہ اب مرکزی انگریزی زبان کا حصہ بن چکا ہے، اس بات کے ثبوت کے طور پر ڈیٹا موجود ہے، عربی زبان کے اس مقبول ترین لفظ کو کئی مشہور ہستیوں نے استعمال کیا ہے، ان میں این ہیتھ وے، اسٹنگ اور ِلنڈسے لوہان شامل ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

جب این ہیتھ وے نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران سہل انداز میں لفظ ’ان شاء اللہ‘ کہا تو یہ کلپ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی اوراس کلپ نے لاکھوں لائکس حاصل کیے۔ لیکن اداکارہ کا محض ’’انشاء اللہ ‘‘کہنا اس رجحان کا تازہ ترین مظہر ہے جو برسوں سے بڑھ رہا ہے۔’’دی نیشنل ‘‘کی جانب سے جی ڈی ایل ٹی عالمی خبروں کے ڈیٹا بیس کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ انگریزی خبروں کے ذرائع ابلاغ میں ’ان شاء اللہ‘ کے تذکرے۲۰۱۷ء کے بعد سے تین گنا بڑھ گئے ہیں۔ یہ  مقبول لفظ مغربی ثقافت میں پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گیا تھا، بشمول ا سٹنگ کا۲۰۱۶ء کا گانا ’ان شاء اللہ‘۔ لیکن مرکزی انگریزی خبروں میں اس کا استعمال اس کے بعد مزید تیز ہو گیا۔تاہم یہ عربی جملہ، جس کا مطلب ہے ’اگر اللہ نے چاہا‘، اب بغیر کسی وضاحت کے تیزی سے استعمال ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کا میٹا کو انسٹاگرام سے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی اشتہارات ہٹانے کا حکم

جی ڈی ایل ٹی دنیا بھر میں ہزاروں آن لائن، براڈکاسٹ اور پرنٹ خبروں کی تنظیموں کی زبان کی نگرانی کرتا ہے، جس سے یہ ٹریک کرنا ممکن ہوتا ہے کہ الفاظ میڈیا میں کیسے داخل ہوتے اور پھیلتے ہیں۔ ڈیٹا بتاتا ہے کہ ’ان شاء اللہ‘ بتدریج انگریزی خبروں کی لغت کا حصہ بن چکا ہے۔اور یہ صرف خبروں کے تذکروں تک محدود نہیں۔ گوگل کی تلاش کے رجحانات بھی یہی نمونہ ظاہر کرتے ہیں۔گزشتہ  پانچ سالوں میں، ’meaning inshallah‘ کی تلاش میں تقریباً ۱۳۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔  جبکہ ’translate inshallah from Arabic‘ کی تلاش۷۰۰؍ فیصد سے زیادہ بڑھی ہے، جبکہ ’mashallah vs inshallah‘ کی تلاش میں تقریباً ۱۸۰۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ تلاش انگریزی بولنے والے سامعین میں بڑھتے ہوئے تجسس کی عکاسی کرتی ہے۔
واضح رہے کہ خبروں میں پہلا نمایاں اضافہ ۲۰۱۷ءء میں اس وقت ہوا جب لنڈسے لوہان نے انسٹاگرام پر ’ان شاء اللہ‘ پوسٹ کیا، جس کے بعد کئی دن تک قیاس آرائیاں ہوتی رہیں کہ کیا انھوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ دو سال بعد، امریکی کانگریس میں پہلی مسلم خواتین کے طور پر الہان عمر اور رشیدہ طلیب کا انتخاب عربی اور اسلامی زبان کو سیاسی خبروں کی کوریج میں مزید کثرت سے لے آیا۔اس کے بعد۲۰۲۰ءء میں ایک اور اضافہ اس وقت ہوا جب بیروت کی بندرگاہ میں دھماکے نے لبنان سے وسیع بین الاقوامی رپورٹنگ کو جنم دیا۔بعد ازاں چند ہفتوں بعد، جو بائیڈن نے ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف امریکی صدارتی مباحثے کے دوران یہ لفظ استعمال کیا، جس نے امریکی میڈیا میں ایک اور لہر پیدا کی۔ علاوہ ازیں جیسے ہی اکتوبر۲۰۲۳ء میں غزہ میں جنگ چھڑی،’ ’ان شاء اللہ‘‘ مزید مانوس ہو گیا کیونکہ مغربی دنیا میں بہت سے لوگ وہاں کے متاثر ین اور عینی شاہدین کی پیروی کرنے لگے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس لفظ کے تذکرے بلند رہے اور اس سال پھر سے بڑھ گئے، جب این ہیتھ وے کے انٹرویو سے نئی دلچسپی پیدا ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا،‘‘ایران میں ایک پنڈت کی تقریر وائرل

الفاظ اکثر ڈکشنریوں میں شامل ہونے سے کافی پہلے سرحدیں عبور کر لیتے ہیں، اور خبروں کی کوریج، ہجرت، تفریح اور سوشل میڈیا کے ذریعے مانوس ہو جاتے ہیں۔ عربی اظہار جیسے ’ان شاء اللہ (اللہ نے چاہا)‘، ’حبیبی‘ (میری محبت) اور ’ما شاء اللہ‘  اب انگریزی گفتگو میں ترجمے کے بغیر تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں۔ ڈریک کا حالیہ البم ’حبیبتی‘ مقبول  عربی کے مرکزی ثقافت میں داخل ہونے کی ایک اور مثال ہے۔ دراصل عربی جذر ’حبیب‘ (محبوب) سے ماخوذ، ’حبیبتی‘ پیار کا ایک عام لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’میری محبت‘، ’میرے عزیز‘ یا ’میری پیاری‘ جبکہ کسی عورت سے خطاب کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK