ترکی میں آیا صوفیہ کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے پر پوری دنیا میں کھلبلی،چوطرفہ تنقیدیں

Updated: July 13, 2020, 9:17 AM IST | Agency | Ankara

امریکہ نے شدید مذمت کی،یونیسکو نے کہا کہ فیصلہ سے قبل مذاکرات کئے جانے چاہئے تھے،دیگر متعدد ممالک اور چرچ سے متعلق دنیا کی مختلف تنظیموں نے بھی اعتراض کیا

Hagia Sofia Mosque - Pic : PTI
آیا صوفیا مسجد ۔ تصویر : پی ٹی آئی

ترکی میں واقع مشہور تاریخی عمارت آیا صوفیہ کو میوزیم کے بجائے دوباہر مسجد میں تبدیل کرنے کے فیصلے پرپوری دنیا میں تنقید کی جارہی ہے۔ لیکن ترک صدر رجب طیب اردگان نے تمام تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے ملک کے ’’خودمختار حقوق‘ کے استعمال کا حق قرار دیا ہے۔
امریکہ نے تبدیلی کو افسوسناک قرار دیا
 امریکہ نے ترکی کے اس فیصلے پرمایوسی کا اظہار کیا ہے، جس کے تحت بازنطینی دور کے یادگاری مقام آیا صوفیہ کو پھر سے مسجد میں تبدیل کر دیاگیا ہے۔ اس بیان میں واشنگٹن حکومت نےتمام سیاحوں کو اس مقام تک مساوی رسائی دینےکامطالبہ کیاہے۔ یہ امر اہم ہے کہ تاریخی ترک شہر استنبول میں واقع یہ مقام اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثےمیں بھی شامل ہے۔امریکی وزارتِ خارجہ کی خاتون ترجمان مورگن اورٹیگس نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آیا صوفیہ کی حیثیت میں تبدیلی افسوسناک ہے۔مورگن اورٹیگس نےمزید کہا کہ اس کی توقع کی جاتی ہے کہ ترک حکومت آیا صوفیہ تک سبھی سیاحوں کو جانے کی اجازت دینےکی موجودہ صورت کو برقرار رکھےگی۔امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے امید ظاہر کی کہ انقرہ حکومت جلد ہی اپنی پالیسی وضع کرے گی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا تھا لیکن ترک صدر ان کےبیان کو بھی خاطر میں نہیںلائے۔ پومپیو نے اپنے بیان میں کہا تھا کے آیا صوفیہ کی بطور عجائب گھرحیثیت ترکی کے اُس رویے کی مظہر ہے کہ وہ عقیدوں، روایتوں اور مختلف جہتوں کا حامل ملک ہے۔ پومپیو نے یہ بھی کہا تھا کہ آیا صوفیہ کی موجودہ ہیت میں تبدیلی سے اس عمارت اور ترکی کا وقار مجروح ہو گا۔
یونیسکو کی ترکی کو مسجد بنانے پر تنبیہ
 اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے ترکی کو استنبول میں بازنطینی دور کے آیا صوفیہ کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے سے خبردار کرتے ہوئے زور دیا تھا کہ اس فیصلے سے قبل مذاکرات کریں۔یونیسکو کی ترجمان نے کہاتھاکہ ’’اس اقدام سے متعدد وعدے اور قانونی پیچیدگیاں وابستہ ہیں۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ ’’ایک ریاست کو اس کی حدود میں غیر معمولی عالمی حیثیت کے ورثے پر کوئی اثر نہ پڑنے کو یقینی بنانا چاہیے۔‘‘ترجمان نے کہا تھا کہ کسی بھی قسم کی تبدیلی سے قبل یونیسکو اور اس کی عالمی ورثہ کمیٹی کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔
دیگر ممالک کو بھی اعتراض
 یونان نے اس اقدام کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی جبکہ فرانس نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا اور امریکہ نے بھی مایوسی کا اظہار کیا۔روس کے نائب وزیرخارجہ الیگزنڈر گروشکو نے کہا  کہ ماسکو کو اس فیصلے پر افسوس ہے۔انہوں نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’’یہ گرجا گھر ترکی کی سرزمین پر ہے تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہر کسی کے لیے ایک ورثہ ہے۔‘‘
 تاہم جرمن مارشل فنڈ کے انقرہ کے ڈائریکٹر اوزگور انلوحسیرکلی نے کہاکہ ’’اس اقدام سے عوام کا دل و دماغ جیت لیا جائے گا کیونکہ بیشتر ترک `مذہبی یا قوم پرست جذبات کے ایسے فیصلے کے حامی ہوں گے۔‘‘انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی بحث ہےجسے صدر اردگان ہار نہیں سکتے اور اپوزیشن جیت نہیں سکتی،حقیقت میں یہ مسئلہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔‘‘
چرچ سے متعلق تنظیموں نے ناراضگی کا اظہار کیا
 روسی آرتھوڈوکس چرچ کا کہنا تھا کہ ہمیں افسوس ہے کہ عدالت نے فیصلہ کرتےہوئے تشویش کو مدنظر نہیں رکھا اور اس فیصلے سے بڑے اختلافات جنم لے سکتے ہیں۔دنیا بھر کے ۳۰؍کروڑ آرتھوڈوکس عیسائیوں کےروحانی پیشوا کاکہنا تھا کہ عمارت کو مسجد میں تبدیل کرنے سے عیسائیوں کومایوسی ہوگی اور مشرق اور مغرب میں تقسیم ہوگی۔گرجا گھروں کی عالمی کونسل نے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان سےمطالبہ کیا کہ وہ آیا صوفیہ میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے کے اپنے فیصلے کو واپس لیں۔دی ورلڈ کونسل آف چرچیز۳۵۰؍گرجا گھروں کی نمائندگی کرتی ہےجس نے ترک صدر کو لکھے گئے مراسلے میں کہا کہ ’’میوزیم کو مسجد میں بدلنے سے تفریق کی فضا قائم ہوگی۔‘‘
اردگان کے اتحادیوں نے خیرمقدم کیا
 ترک صدر کے قوم پرست اتحادی ڈیولیٹ باہسیلی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’’آیا صوفیہ کو دوبارہ مسلمان عبادت گاہ کے طور پر کھولنے کی `ہماری خواہش طویل عرصے سے ہے۔‘‘
 جمعہ کے روز سامنے آنے والے فیصلے کے بعد سیکڑوں افرادمشہور عمارت کے باہر جمع ہوئے اور شام کی نماز ادا کی جبکہ سنیچرکےروز پولیس نے آیا صوفیہ کے اطراف میں رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں۔
تمام زائرین کیلئے کھلا رکھنے کی یقین دہانی
 ترک صدر نے یقین دہانی کرائی کہ آیا صوفیہ غیر مسلمانوں سمیت تمام زائرین کے لیے کھلا رہے گا۔ان کےمعاون برائے میڈیا فرحتین التون نے ٹویٹ کیا کہ ’’آیا صوفیہ کے دروازے پوری دنیا کے زائرین کے لیے کھلے رہیں گے۔‘‘ان کا کہنا تھاکہ `تمام مذہبی طبقات کے لوگوں کو اس کا دورہ کرنے کے لیے خیرمقدم اور حوصلہ افزائی کرتےہیں، بالکل اسی طرح جیسے وہ نیلی مسجدسمیت دیگر مساجد کا دورہ کرسکتے ہیں۔‘‘
معاملہ کیا ہے؟
 واضح رہے کہ ۱۹۳۴ءمیںترکی کی جدید سیکولر ریاست کےبانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے دور حکومت میں سلطنت عثمانیہ کے دور کی مسجد کو میوزیم میں تبدیل کرنے کے کابینہ کے فیصلے کو ترکی کی اعلیٰ عدالت نے منسوخ کردیا تھا۔ عدالت نے فیصلہ سنایاکہ’’  (عالمی ثقافتی اور قدرتی ورثہ کے تحفظ سےمتعلق)کنونشن میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے جو مقامی قانون کے مطابق آیا صوفیہ کے استعمال کو روکتی ہے۔‘‘اس کے بعد رجب طیب اردوان نے صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے جس میں ’آیا صوفیہ مسجد‘ کا کنٹرول ترکی کے مذہبی امور کے ڈائریکٹوریٹ دیانت کے حوالے کردیا گیا۔ ترک لیڈرکا کہنا تھا کہ `ہم نے یہ فیصلہ اس بات پر نہیں کیا کہ دوسرے کیا کہتے ہیں بلکہ یہ دیکھ کر کیا ہے کہ ہمارا حق کیا ہے اور ہماری قوم کیا چاہتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہم نے شام، لیبیا اور کہیں اور کیا تھا۔‘‘ ترک صدر نے نیٹو اتحادی امریکہ اور روس کی اپیلوں کے باوجود اس منصوبے کو آگے بڑھایا جس کے ساتھ انقرہ نے حالیہ برسوں میں قریبی تعلقات استوار کیے۔
آیا صوفیہ کی تاریخ
 آیا صوفیہ تقریباً۱۵؍ صدیوں پر مشتمل تاریخ کی حامل ہے۔ بازنطینی سلطنت کے بادشاہ جسٹینین نے چھٹی صدی عیسوی میں اس کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔۹۰۰؍سال سے زائد عرصے تک یہ آرتھوڈوکس چرچ کا مرکز رہا۔ ۱۴۵۳؍ میں خلافت عثمانيہ کے سلطان محمد ثانی نے قسطنطنیہ فتح کیا تو آیاصوفیہ کو مسجد میں تبدیل کر دیا۔ جديد ترکی کی بنياد رکھتے وقت کمال اتا ترک نے آيا صوفيہ کو ايک عجائب گھر کی حيثيت دے دی تھی۔  

turkey Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK