اپنے چشمہ کے ٹوٹنے پر پھوٹ پھوٹ کر رو نے والے غزہ کے ۷؍ سالہ بچے ایوب جنید کی ویڈیو نے غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی اور فوجی حملوں کے درمیان بچوں کو درپیش طبی بحران کی طرف توجہ دلائی ہے
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 9:14 AM IST | Gaza
اپنے چشمہ کے ٹوٹنے پر پھوٹ پھوٹ کر رو نے والے غزہ کے ۷؍ سالہ بچے ایوب جنید کی ویڈیو نے غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی اور فوجی حملوں کے درمیان بچوں کو درپیش طبی بحران کی طرف توجہ دلائی ہے
اپنے چشمہ کے ٹوٹنے پر پھوٹ پھوٹ کر رو نے والے غزہ کے ۷؍ سالہ بچے ایوب جنید کی ویڈیو نے غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی اور فوجی حملوں کے درمیان بچوں کو درپیش طبی بحران کی طرف توجہ دلائی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ایوب کی نزدیک کی نظر ازحد کمزور ہے۔ دو سال کی عمر میں تیز بخار کے بعد اسے یہ کمزوری لاحق ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسے فوری سرجری کی ضرورت ہے۔ لیکن، غزہ کی ناکہ بندی کے سبب سرجری نہیں ہوسکتی۔ اسے ٹھیک طریقے سے دیکھ پانے کیلئے درکار لینس غزہ میں دستیاب نہیں ہے۔ غزہ جنگ میں بے گھر ہونے والی، ایوب کی والدہ ایمان جنید نے اخبار ’دی گارڈین‘ کو بتایا کہ اس کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جو چشمہ اسے ملا وہ اس کی ضرورت کے مطابق صحیح نمبر کا نہیں ہے۔ مذکورہ ویڈیو اپریل کے اواخر کی ہے جب خاندان کے ایک فرد کے ساتھ مکانوں کے ملبے سے گزرتے ہوئے ایوب گر پڑا تھا جس کے سبب اس کا چشمہ ٹوٹ گیا تھا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور مایوسی کے عالم میں چشمے کے ٹکڑے دوبارہ جوڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ چشمے کے بغیر، ایوب بمشکل حرکت کرسکتا تھا۔ اس صدمے کے باعث وہ تین دن تک خیمے سے باہر نہیں نکلا بلکہ مسلسل زمین کے قریب جھک کر بیٹھا رہا۔ رشتہ دار ٹوٹے ہوئے چشمے کو ٹھیک کروانے میں ناکام رہے۔ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ کسی بھی جھٹکے یا گرنے سے اس کے پردۂ چشم (Retinas) کو مستقل نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، جس کی وجہ سے وہ دوسرے بچوں کی طرح کھیل کود سکتا ہے نہ ہی گھوم پھر سکتا ہے۔ اسے خوف رہتا ہے کہ کہیں گر نہ پڑے۔ ویڈیو میں ایوب اپنی والدہ سے پوچھتا ہے: ”میں دوسرے بچوں کی طرح اسکول کیوں نہیں جا سکتا؟“