Inquilab Logo Happiest Places to Work

’مَیں دوسرے بچوں کی طرح کیوں نہیں ہوں؟‘: عینک ٹوٹ جانے پر ۷؍ سالہ فلسطینی بچہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا

Updated: June 13, 2026, 4:02 PM IST | Gaza

سات سالہ فلسطینی بچے ایوب جنید کی نزدیک کی نظر شدید کمزور ہے۔ دو سال کی عمر تیز بخار کے بعد اسے یہ کمزوری لاحق ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں کے مطابق، اسے فوری سرجری کی ضرورت ہے، لیکن غزہ کی ناکہ بندی نے اسے ناممکن بنا دیا ہے۔ اس کے آنکھ کے نمبر کیلئے درکار لینس اب غزہ میں دستیاب نہیں ہیں۔

Ayoub Junaid. Photo: X
ایوب جنید۔ تصویر: ایکس

اپنے چشمہ کے ٹوٹنے پر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑنے والے غزہ کے سات سالہ بچے ایوب جنید کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک کروڑ سے زائد صارفین نے اسے دیکھا ہے۔ اس ویڈیو نے غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی اور فوجی حملوں کے درمیان بچوں کو درپیش طبی بحران کی طرف توجہ دلائی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، ایوب کی نزدیک کی نظر شدید کمزور ہے۔ دو سال کی عمر میں تیز بخار کے بعد اسے یہ کمزوری لاحق ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں نے اس کے خاندان کو بتایا ہے کہ اسے فوری سرجری کی ضرورت ہے، لیکن غزہ کی ناکہ بندی نے اسے ناممکن بنا دیا ہے۔ اس کے آنکھ کے نمبر کیلئے درکار لینس اب غزہ کے اندر دستیاب نہیں ہیں۔ غزہ تنازع میں بے گھر ہونے والی، ایوب کی ۳۰ سالہ والدہ ایمان جنید نے ’دی گارڈین‘ کو بتایا کہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملنے والا نیا چشمہ بھی اس کے بیٹے کی ضرورت کے مطابق صحیح نمبر کا نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو اپریل کے اواخر کی ہے جب خاندان کے ایک رکن کے ساتھ ملبے سے بھری سڑکوں سے گزرتے ہوئے، ایوب گر گیا تھا۔ اس کا چہرہ زمین سے جا ٹکرایا، جس کے باعث اس کا چشمہ ٹوٹ گیا تھا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور مایوسی کے عالم میں ان ٹکڑوں کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ اپنے چشمے کے بغیر، ایوب بمشکل حرکت کرسکتا تھا۔ اس نے تین دن سے زیادہ وقت تک خیمے سے باہر نکلنے سے انکار کر دیا اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو سمجھنے کیلئے زمین کے قریب جھک کر بیٹھا رہا۔ رشتہ داروں کی طرف سے ٹوٹے ہوئے چشمے کو ٹھیک کرنے کی بار بار کی کوششیں بھی ناکام رہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں بچے منصوبہ بندی کے تحت بھوکے رکھے جارہے: عالمی انسانی تنظیم کی مذمت

ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ کسی بھی جھٹکے یا گرنے سے اس کے پردۂ چشم (retinas) کو مستقل نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، جس کی وجہ سے یہ سات سالہ بچہ دوسرے بچوں کی طرح کودنے، کھیلنے یا آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے سے بہت زیادہ خوفزدہ ہے۔ ویڈیو میں ایوب اپنی والدہ سے پوچھتا ہے: ”میں ان کی طرح اسکول کیوں نہیں جا سکتا؟“

اسرائیل کے ذریعے غزہ کی ناکہ بندی بچوں کی بینائی تباہ کر رہی ہے

ایوب کی مثال، پورے محصور غزہ میں آنکھوں کی دیکھ بھال کے نظام کی تباہی اور بدحالی کی عکاسی کرتا ہے۔ غصہ شہر میں آنکھوں کے امراض کا سرکاری اسپتال، جو شہر میں آنکھوں کی دیکھ بھال کا واحد سرکاری مرکز ہے، عارضی طور پر بند ہے۔ صحت کے حکام کا تخمینہ ہے کہ تقریباً ۴۰۰۰ بچوں کو فوری طور پر غزہ سے طبی بنیادوں پر نکالنے کی ضرورت ہے۔ ۴۰۰۰ سے زائد مریضوں کو آنکھوں کی فوری سرجریوں کی ضرورت ہے جن میں کارنیا کی پیوند کاری، کالا موتیا کے آپریشن، اور تعمیری طریقہ ہائے کار شامل ہیں، جبکہ ۲۸۰۰ مریض سفید موتیا کی سرجری کے انتظار میں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’اسرائیل کینسر کے مریضوں کو علاج کیلئے غزہ سے باہر جانے دے‘‘

اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام داؤد نے بتایا کہ یہ طبی مرکز جنگ سے پہلے کی اپنی گنجائش کے مقابلے صرف ۶۰ فیصد پر کام کر رہا ہے کیونکہ اسرائیل مسلسل طبی آلات اور جراحی کے اوزاروں کی آمد کو روک رہا ہے۔ فلاحی تنظیم ’ایمرجنسی‘ (Emergency) کے سرجن ڈاکٹر ایردی میماج نے کہا کہ القرارہ میں ان کے کلینک میں تقریباً ۴۰ فیصد مریض ۱۴ سال سے کم عمر کے بچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”ایک بچہ جس کا چشمہ ٹوٹ جاتا ہے، وہ طویل عرصے تک عملی طور پر بینائی سے محروم رہ سکتا ہے کیونکہ نیا چشمہ ملنا ناممکن ہوگیا ہے۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK