Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنوبی لبنان: اسرائیلی ڈرونز بچوں کی آوازوں سے شہریوں کو چکمہ دے رہے ہیں: رپورٹ

Updated: June 13, 2026, 10:19 PM IST | Beirut

جنوبی لبنان کے متعدد دیہاتوں میں باشندوں اور امدادی کارکنوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرونز رات کے وقت بچوں کے رونے، خواتین کی چیخوں، ایمبولینس سائرن اور مدد کی اپیلوں جیسی آوازیں نشر کر کے خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق یہ حربہ لوگوں کو گھروں سے باہر نکالنے، ذہنی دباؤ بڑھانے اور ممکنہ اہداف کی شناخت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ باشندوں کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیاں جنگ کے نفسیاتی پہلو کو مزید گہرا کر رہی ہیں اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔

An Israeli drone. Photo: X
ایک اسرائیلی ڈرون۔ تصویر: ایکس

لبنان کے جنوبی گاؤں حبوش میں ایک رات اچانک بچوں کے رونے اور مدد کے لیے پکارنے کی آوازیں گونجنے لگیں۔ ابتدا میں مقامی لوگوں کو لگا کہ شاید کوئی بچہ واقعی مصیبت میں ہے، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ آوازیں آسمان پر منڈلاتے ایک اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرون سے نشر ہو رہی تھیں۔ گاؤں کے پیرامیڈیک ہاشم نے بتایا کہ یہ کوئی منفرد واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو حالیہ مہینوں میں جنوبی لبنان کے مختلف دیہاتوں میں بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ پہلا موقع نہیں جب ڈرونز ہمارے اوپر منڈلا کر مختلف آوازیں نشر کر رہے ہوں۔ کبھی بچوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں، کبھی ایمبولینس کا سائرن، کبھی قرآنِ کریم کی تلاوت اور کبھی کسی عورت کی مدد کے لیے پکارنے کی آواز۔ ہم تقریباً روزانہ اس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘

مقامی باشندوں کے مطابق اسرائیلی ڈرونز اب جنوبی لبنان کے آسمان پر مستقل موجودگی اختیار کر چکے ہیں۔ یہ نہ صرف نگرانی کرتے ہیں بلکہ مختلف پیغامات اور آوازیں نشر کر کے لوگوں کے ذہنوں پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہاشم نے بتایا کہ ’’جب رات کے سناٹے میں کسی بچے کے رونے یا کسی انسان کے مدد مانگنے کی آواز سنائی دے تو فطری طور پر انسان باہر نکل کر صورتحال جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اب ہمیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ آوازیں حقیقی نہیں بلکہ ڈرونز سے نشر کی جا رہی ہیں۔‘‘ ان کے مطابق اس عمل کا ایک مقصد مقامی آبادی میں خوف پیدا کرنا اور انہیں اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کرنا ہے، جبکہ دوسرا مقصد ممکنہ طور پر ان افراد کی شناخت کرنا ہو سکتا ہے جو اب بھی سرحدی علاقوں میں موجود ہیں۔

غزہ میں بھی یہی طریقہ کار
یہ طریقہ کار غزہ میں بھی رپورٹ ہو چکا ہے، جہاں انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور مقامی شہریوں نے اسرائیلی ڈرونز کی جانب سے بچوں کے رونے، خواتین کی چیخوں اور مدد کی اپیلوں جیسی آوازوں کے استعمال کی متعدد اطلاعات دی تھیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ایسی آوازیں بعض اوقات شہریوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جاتی تھیں کہ کوئی شخص واقعی خطرے میں ہے۔ جنوبی لبنان کے تباہ شدہ قصبے حولہ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن طارق مزانی نے بھی ایسے واقعات کا تجربہ بیان کیا۔ ان کے مطابق ۲۰۲۵ء میں اسرائیلی ڈرونز نے متعدد دیہاتوں کے اوپر ان کا نام لے کر پیغامات نشر کیے اور ان پر حزب اللہ سے وابستگی کا الزام عائد کیا۔

مزانی نے کہا کہ ’’جب میرے بارے میں پیغامات نشر کیے گئے تو مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں مجھے یا میرے آس پاس کے لوگوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ اسی خوف کے باعث مجھے اپنا عارضی ٹھکانہ چھوڑنا پڑا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں اس قسم کے پیغامات صرف مخصوص افراد کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کو خوفزدہ کرنے کے لیے نشر کیے جاتے ہیں تاکہ لوگ واپسی، تعمیرِ نو یا مزاحمت جیسے موضوعات پر سرگرم ہونے سے گریز کریں۔

یہ بھی پڑھئے: ’مَیں دوسرے بچوں کی طرح کیوں نہیں ہوں؟‘: عینک ٹوٹ جانے پر ۷؍ سالہ فلسطینی بچہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا

ماہرین کے مطابق نفسیاتی جنگ کے یہ طریقے روایتی عسکری کارروائیوں سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد براہِ راست جسمانی نقصان پہنچانے کے بجائے شہری آبادی کے ذہنی سکون، اعتماد اور سماجی روابط کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ جنوبی لبنان کے باشندوں کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال نے عام زندگی کو غیر معمولی حد تک مشکل بنا دیا ہے۔ اب ہر آواز، ہر پکار اور ہر چیخ شک و شبہ کا باعث بن جاتی ہے۔ ایک طرف حقیقی مدد کی ضرورت رکھنے والے شخص کو نظرانداز کرنے کا خوف رہتا ہے، جبکہ دوسری جانب کسی جال میں پھنس جانے کا خدشہ بھی موجود ہوتا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق مسلسل نگرانی، بے گھر ہونے کے تجربات اور ڈرونز سے نشر ہونے والی خوفناک آوازوں نے جنوبی لبنان میں رہنے والے لوگوں کے لیے روزمرہ زندگی کو ایک نفسیاتی آزمائش میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ ڈرونز صرف فوجی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ دباؤ، نگرانی اور خوف کی ایک ایسی علامت بن چکے ہیں جو ہر وقت ان کے سروں پر منڈلاتی رہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK