امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی جوہری تخفیف کا عمل بحسن و خوبی جاری ہے، جبکہ قطر میں امن مذاکرات کا اگلا دور بھی جاری ہے،اس مذاکرات کے سلسلے میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ میں موجود ہیں۔
EPAPER
Updated: July 01, 2026, 8:01 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی جوہری تخفیف کا عمل بحسن و خوبی جاری ہے، جبکہ قطر میں امن مذاکرات کا اگلا دور بھی جاری ہے،اس مذاکرات کے سلسلے میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ میں موجود ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ ایران کی جوہری تخفیف کا عمل اچھی طرح آگے بڑھ رہا ہے جبکہ قطر میں مذاکرات جاری ہیں۔ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا، ’’انہوں نے بہت اچھی ملاقاتیں کی ہیں۔‘‘ ان کا اشارہ اپنے ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی طرف تھا جو دوحہ میں موجود ہیں۔ٹرمپ نے جنگ کی ممکنہ واپسی کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران ’’بہت طویل سفر طے کر چکا ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ اگرچہ فوج نے گزشتہہفتے بہت سخت وار کیا ہے، لیکن ان کے خیال میں سفارتی عمل اس وقت مؤثر ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھی طرح نبھا رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: غیرملکی حاملہ خواتین کی آمد روکنے کیلئے نئی امریکی پالیسی زیر غور
واضح رہے کہ ۲۸؍ فروری کو امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کردیا تھا، حالانکہ اس وقت بھی جوہری توانائی پر مذاکرات جاری تھے، اس کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل اور ڈرون سے حملے کئے اور دنیا کے ۲۰؍ فیصد ایندھن کی ترسیل کیلئے اہم بحری راستہ آبنائے ہرمز کو بند کردیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری دنیا میں ایندھن کا بحران پیدا ہوگیا، عالمی دباؤ کے پیش نظر پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امن معاہدے کا ۱۴؍ نکاتی یادداشت وضع کیا گیا، جس میں فوری جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو کھولنا شامل تھا۔ جبکہ ۶۰؍ دنوں کے درمیان ایک واضح جنگ بندی کا منصوبہ عمل میں آنا تھا۔ اسی سلسلے میں مذاکرات کیلئے امریکی مندوبین قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود ہیں، ٹرمپ کا مذاکرات میں پیشرفت کا اعلان اسی مذاکرات کی کامیابی کا اعتراف ہے۔