اسکولوں کو ۵۰؍فیصد گنجائش کیساتھ جاری رکھنے کی اجازت کیوں نہیں؟

Updated: January 17, 2022, 11:09 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

شاپنگ مالس، ہوٹل، سنیماگھر اور ڈراماتھیٹر وغیرہ کو ۵۰؍فیصد گنجائش کے ساتھ جاری رکھنے کی اجازت دی جاسکتی ہے تواسکولوںکو اس طرح کی سہولت کیوں نہیں دی جارہی ہے: ماہرین تعلیم ، اساتذہ اور تعلیمی تنظیموںکا حکومت سے سوال

It is being demanded to start school with precautionary measures..Picture:INN
احتیاطی اقدامات کے ساتھ اسکول شرو ع کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔۔ تصویر: آئی این این

 کوروناوائرس کے نئے ویئرینٹ اومیکرون کے معاملات میں اضافے کے پیش نظر ریاستی حکومت نے پھر سے متعددقسم کی سرگرمیوںپر پابند ی عائد کردی ہے ۔ ان پابندیوں کے دوران مالس ، ہوٹل، سنیما گھر اور ڈراماتھیٹروںکو ۵۰؍ فیصد کی حاضری کے ساتھ جاری رکھنےکی اجازت دی گئی ہے مگر اسکولوں کو ۱۵؍فروری تک بندرکھنےکا اعلان کیاہے۔ یہ فیصلہ طلبہ کے حق میں نہیں ہے ۔اس لئےاچانک اسکول بندکرنےکے فیصلہ کے خلاف پہلی مرتبہ ایسا دیکھنے میں آرہا ہے کہ ماہرین تعلیم ، اساتذہ اور تعلیمی تنظیمیں حکومت سے اسکول شروع کرنےکی اپیل کررہے ہیں۔ ان کاکہناہےکہ اگر شاپنگ مالس، ہوٹل، سنیماگھر اور ڈراماتھیٹر وغیرہ کو ۵۰؍فیصد کی گنجائش کے ساتھ جاری رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے تو اسکولوںکو اس طرح کی سہولت کیوں نہیں دی جارہی ہے۔ ممبئی سمیت ریاست میں ۵۰؍فیصد سے زیادہ ایسے اسکول ہیں جہاں صرف ۲؍ٹیچراور ۵۰؍طلبہ کے ذریعے اسکول جاری ہیں ۔ ایسے اسکولوںکو جاری رکھنےمیں کیا خطرہ ہے۔  تعلیمی کارکن بھائو صاحب چاسکر کےمطابق ’’ اچانک اسکول بندکرنے کےفیصلہ سے بالخصوص دیہی علاقوں کے طلبہ کی نفسیات پر اس کا برا اثر پڑے گا۔ریاست کی تقریباً ۵۰ ؍فیصد ضلع پریشد اسکولوں میں صرف ۲؍ٹیچر ہیں۔اسی طرح بیشتر اسکولوںمیں طلبہ کی تعداد ۵۰؍سے زیادہ نہیں ہے ۔ یہ اسکول جن علاقوںمیں ہیں وہاں کوروناکی تیسری لہر ابھی نہیں پہنچی ہے ۔ لہٰذا ان اسکولو ں کواچانک بند کرنےکا فیصلہ سمجھ میں نہیں آرہاہے ۔ ان اضلاع کے اسکولوں کو مقامی عہدیداران اور ذمہ داران کے مشورے سے شروع کردیا جانا چاہئے ۔ اس سے طلبہ کو فائدہ پہنچے گا۔‘‘
 اکھل مہاراشر اُردو اساتذہ تنظیم کے رکن شیخ ضمیر رضا نے کہاکہ ’’اس بار جب حکومت نے اسکولوں کو بند کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تو تقریباً سبھی اساتذہ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسکولوں کو شروع رکھنے کی اپیل کی ۔ اس سے معاشرہ میں ایک اچھا پیغام گیا کہ اساتذہ اپنے پیشے کے تئیں حساس اور ذمہ دار ہیں۔‘‘  مہاراشٹر اسٹیٹ ہیڈماسٹر اسوسی ایشن کے ترجمان مہندر گُڑپُولے نے کہاکہ ’’ریاست کے اسکولوںکو   بند کرنے کا فیصلہ غلط ہے ۔ اسکولوںکو بندکرنے سے پہلے علاقائی سطح پر وہاںکا جائزہ لینےکےبعد مقامی عہدیداران کا مشورہ کرکے اسکولوںکو بندیاجاری رکھنےکا فیصلہ کیاجاناچاہئے ۔ باربار اسکولوںکو بندکرنے سے تعلیمی سطح پر طلبہ کافی پیچھے  ہورہےہیں ۔ جن مقامات پر کورونا کااثر کم یا نہیں ہے وہاں احتیاطی تدابیر کے ساتھ اسکول کوشروع کرنےکی اجازت دی جانی چاہئے ۔ اسکولوںکو بندکرکے حقِ تعلیم کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی ہے کیا؟ اگر طلبہ اس معاملے میں کچھ نہیں کہہ رہےہیں تو کیا والدین اور سرپرست بھی اس بارےمیں بولنےیا آوازبلندکرنےکی ضرورت محسوس نہیںکرر ہےہیں؟   سابق ایجوکیشن ڈائریکٹر ڈاکٹر وسنت کال پانڈےنےکہاکہ ’’امریکہ میں روزانہ ۵؍لاکھ سے زیادہ کورونا کےمریض سامنے آ رہےتھے۔ اس کےباوجود وہاں کی حکومت نے ۱۰؍جنوری سے اسکولوںکو شروع کردیاہے ۔ تمام طلبہ کو کووڈ ٹیسٹ کٹ دے کر گھرپر کوروناکی جانچ کرنےکی ہدایت دی گئی ہے ۔ ہماری حکومت کوبھی اس طرح کی کوئی تجویز نکالنی چاہئے تاکہ طلبہ کا تعلیمی  نقصان نہ ہو۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK