• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

منڈھوا زمین گھوٹالے میں پارتھ پوار کو ملزم کیوں نہیں بنایا؟

Updated: October 02, 2026, 3:37 PM IST | Agency | Mumbai

بامبے ہائیکورٹ کی بینچ نے تفتیشی افسر کے حلف نامے پر حیرت کا اظہار کیااورمزید تفتیش کرکے ۶؍ہفتوں کے اندر رپورٹ داخل کرنے کا حکم دیا۔

File photo of the Bombay High Court`s main building. Inset: Photo of Parth Pawar. Photo: INN.
بامبے ہائیکورٹ کی مرکزی عمارت کی فائل فوٹو۔ انسیٹ میں پارتھ پوار کی تصویر۔ تصویر: آئی این این

پونے کے امیڈیا لینڈ اسکیم (مُنڈھوا زمین گھوٹالہ )معاملے میں پارتھ پوار کو ملزم نہ بنائے جانے پر بامبے ہائی کورٹ نے سوال اٹھایا ہے۔ معاملے کی سماعت کے دوران جسٹس مادھو جادھو بینچ نے تفتیشی افسر کے حلف نامے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ چونکانے والی بات ہے کہ۹۹؍ فیصد حصص رکھنے والے شخص کو ذمہ دار نہیں مانا گیا، جبکہ صرف ایک فیصد حصص رکھنے والے شخص کو ذمہ دار بتایا گیا ہے۔

بینچ نے کہا کہ ڈی جی پی نے اپنے حلف نامے میں مزید تفتیش جاری رہنے کی بات کہی ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا۹۹؍ فیصد شراکت داری رکھنے والے پارتھ پوار اتنی بڑی سرکاری زمین کے بینیفشری نہیں ہوں گے؟زمین کی قیمت کتنی ہے؟ یہ کتنی بڑی زمین ہے؟ ایل ایل پی میں۹۹؍ فیصد حصص رکھنے والے شخص کے بارے میں تفتیشی افسر کے حلف نامے میں کیا کہا گیا ہے؟ کیا انہیں اس لین دین کے بارے میں علم نہیں تھا؟ اگر یہ لین دین کامیاب ہو جاتا تو اس کا فائدہ کس کو ملتا؟وہیں، پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ ایک شراکت داری فرم ہے۔ یہ ایک ایل ایل پی  فرم ہے اور اس کا فائدہ ایل ایل پی کو ہوتا۔ اس پر عدالت نے سوال کیا کہ آخر اس کا فائدہ۹۹؍ فیصد حصص رکھنے والے شخص کو ملتا یا ایک فیصد حصص رکھنے والے شخص کو؟

یہ بھی پڑھئے:دھولیہ: خشک سالی سے پریشان کسان نے پپیتے کی فصل پرٹریکٹرچلادیا

بار اینڈ بینچ کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کوبامبے ہائیکورٹ نے مہاراشٹر حکومت سے سوال کیا کہ پارتھ پوارجو راجیہ سبھا کے رکن پارلیمان بھی ہیں کو منڈھوا لینڈ اسکیم معاملے میں ملزم کیوں نہیں بنایا گیا، جبکہ خریداری کرنے والی کمپنی امیڈیا انٹرپرائزز ایل ایل پی میں ان کی ۹۹؍فیصد شراکت داری ہے۔یہ ریمارکس جسٹس مادھو جادھو نے دیے، جو اس مبینہ لینڈ اسکیم معاملے میں معطل پونے سٹی تحصیلدار سوریہ کانت یولے کی جانب سے دائر پیشگی ضمانت کی درخواست پر سماعت کر رہے تھے۔ عدالت نے افسر کو ضمانت دے دی، تاہم تفتیشی افسر کی جانب سے پارتھ پوار کو ملزمین کی فہرست میں شامل نہ کیے جانے پر سوال اٹھایا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ دگ وجے پاٹل، جن کے پاس صرف ایک فیصد حصص ہیں، کو ملزم بنایا گیا ہے، جبکہ۹۹؍ فیصد حصص رکھنے والے پارتھ پوار کو ملزم نہیں بنایا گیا۔عدالت کے مطابق اس معاملے میں منڈھوا میں واقع۴۰؍ ایکڑ سرکاری زمین کو مبینہ طور پر غیر مجاز طریقے سے۳۰۰؍ کروڑ روپے میں امیڈیا انٹرپرائزز کو فروخت کیے جانے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ یہ زمین  بوٹانیکل سروے آف انڈیا کو لِیز پر دی گئی تھی۔مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے اپنے حلف نامے میں کہا کہ اس معاملے میں مزید پیشہ ورانہ اور تفصیلی تحقیقات کی ضرورت ہے۔ عدالت نے پونے پولیس کمشنر کو مزید تحقیقات کرنے، تفتیش کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور ۶؍ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کرنےکی ہدایت دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK