فوجی بغاوت کے بعد پہلی بار ہونے والے انتخابات کو جعلی قرار دیا جا رہا ہے، پرانی پارٹیوں کو تحلیل کر دیا گیا ہے جبکہ فوج کی حمایت یافتہ پارٹی الیکشن لڑ رہی ہے، انتخابات پر کئی طرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں ۔
EPAPER
Updated: January 03, 2026, 2:57 PM IST | Inquilab Desk
فوجی بغاوت کے بعد پہلی بار ہونے والے انتخابات کو جعلی قرار دیا جا رہا ہے، پرانی پارٹیوں کو تحلیل کر دیا گیا ہے جبکہ فوج کی حمایت یافتہ پارٹی الیکشن لڑ رہی ہے، انتخابات پر کئی طرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں ۔
فوجی بغاوت کے ۴؍ سال بعد میانمار میں الیکشن ہو رہے ہیں۔ اس الیکشن کوجعلی‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں تحلیل کر دی گئی ہیں، ان کے کئی لیڈران جیل میں ہیں اور خانہ جنگی کے باعث نصف آبادی کے ووٹ ڈالنے کی توقع نہیں ہے۔ فوجی حکومت تقریباً ۵؍ برس بعد مرحلہ وار ووٹنگ کروا رہی ہے۔ یہ وہی حکومت ہے جس نے بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا تھا، جس کے بعد ملک میں شدید مخالفت اور خانہ جنگی شروع ہو گئی۔
کہا جا رہا ہے کہ فوجی حکومت چین کی ایما پراپنی طاقت کو قانونی جواز دینے اور اسے مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ نئے قوانین کے تحت انتخابات میں رکاوٹ ڈالنے یا مخالفت کرنے پر سخت سزائیں دی جا رہی ہیں، جن میں سزائے موت بھی شامل ہے۔ اب تک ۲۰۰؍ سے زائد افراد پر کیس درج کئے جا چکے ہیں۔ ۲۸؍ دسمبرکو ووٹنگ کے آغاز سے قبل کم از کم دو علاقوں میں دھماکے ہوئے۔ کچھ ووٹرس کا کہنا ہے کہ اس بار ووٹنگ کا عمل پہلے کے مقابلے میں زیادہ ’منظم‘ محسوس ہو رہا ہے۔ منڈالے ریجن کی رہائشی ما سو زارچی نے کہا کہ ’پہلے ووٹ ڈالنے سے خوف آتا تھا، لیکن اب ووٹ ڈالنے کے بعد سکون محسوس ہو رہا ہے۔ میں نے ملک کیلئے ووٹ ڈالا ہے۔ پہلی بار ووٹ ڈالنے والی ۲۲؍ برس کی ای پیاے فیو ماؤنگ نے کہا کہ میں ووٹ اسلئے ڈال رہی ہوں کہ یہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میری امید غریب طبقے کیلئے ہے۔ اس وقت اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، اور میں ایسے شخص کی حمایت کرنا چاہتی ہوں جو انھیں کم کر سکے۔ میں ایسا صدر چاہتی ہوں جو سب کیلئے برابر سہولتیں فراہم کرے۔ ‘
فوجی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ملک کو ’کثیر الجماعتی جمہوری نظام‘ کی طرف واپس لے جانا ہے۔ میانمار کے فوجی سربراہ من آنگ ہلائنگ نے ووٹ ڈالنے کے بعددعویٰ کیا کہ انتخابات آزاد اور منصفانہ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں مسلح افواج کا کمانڈر ان چیف اور ایک سرکاری ملازم ہوں۔ میں صرف یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں صدر بننا چاہتا ہوں۔ ‘ انھوں نے کہا کہ انتخابات تین مراحل میں ہوں گے۔ اس ہفتے کے آغاز میں انھوں نے خبردار کیا تھا کہ جو لوگ ووٹ نہیں ڈالیں گے وہ ’جمہوریت کی طرف پیش رفت‘ کو مسترد کر رہے ہیں۔ ادھر فلم ڈائریکٹر مائیک ٹی، اداکار کیاو ون ہتوت اور مزاحیہ فنکار اون ڈائنگ سمیت کئی نمایاں شخصیات کو جولائی میں نافذ کئے گئے قانون کے تحت ۷؍سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے انتخابات کی تشہیر کرنے والی ایک فلم پر تنقید کی تھی۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا ہے کہ ملک میں آزادیِ اظہار، اجتماع اور پُرامن احتجاج کے حقوق استعمال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کے مطابق عام شہری ’ہر طرف سے دباؤ کا شکار ہیں ‘۔ ساتھ ہی باغی گروہوں نے عوام کو انتخابات کے بائیکاٹ کی دھمکیاں دی ہیں۔
فوجی حکومت اس وقت کئی محاذوں پر لڑ رہی ہے، ایک طرف بغاوت کے مخالف مزاحمتی گروہ ہیں اور دوسری جانب نسلی فوجی تنظیمیں ہیں۔ فوج نے حالیہ برسوں میں ملک کے بڑے حصے پر کنٹرول کھو دیا تھا لیکن چین اور روس کی مدد سے فضائی حملوں کے ذریعے کچھ علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ واضح رہے کہ یہ خانہ جنگی ہزاروں افراد کی جان لے چکی ہے، لاکھوں بے گھر ہو چکےہیں، معیشت تباہ ہو چکی ہے اور انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ مارچ میں آنے والے تباہ کن زلزلے اور عالمی امداد میں کمی نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔ انتخابات کے انعقاد میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ملک کے بڑے حصے اب بھی اپوزیشن کے کنٹرول میں ہیں۔ ووٹنگ تین مراحل میں ایک ماہ کے دوران ۳۳۰؍ میں سے ۲۶۵؍ ٹاؤن شپ میں ہوگی، باقی علاقوں کو غیر مستحکم قرار دیا گیا ہے۔ نتائج جنوری کے آخر تک متوقع ہیں۔
ملک کے نصف حصے میں ووٹنگ نہ ہونے کا خدشہ ہے اور جہاں ووٹنگ ہو گی وہاں بھی تمام حلقوں میں نہیں ہوگی، جس سے ووٹنگ کی شرح کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔ میانمار میں ۶؍ پارٹیاں ہیں، جن میں فوجی حمایت یافتہ یونین سالیڈیرٹی اینڈ ڈیو لپمنٹ پارٹی بھی ہے جو ملک بھر میں امیدوار کھڑے کر رہی ہے۔ نیز ۵۱؍ پارٹیاں اور آزاد امیدوار صرف ریاستی یا علاقائی سطح پر مقابلہ کریں گے۔ تقریباً ۴۰؍ پارٹیوں پر پابندی عائد ہے، جن میں آنگ سان سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی بھی شامل ہے۔ اسی پارٹی نے ۲۰۱۵ء اور ۲۰۲۰ء کے انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کی تھی۔ سوچی اور جماعت کے کئی اہم رہنما سیاسی نوعیت کے الزامات کے تحت جیل میں ہیں جبکہ دیگر جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ الیکشن مانیٹرنگ گروپ ’اسپرنگ ا سپروٹس‘ کے ترجمان ہٹن کیاو آئے نے بتایا کہ ’ووٹنگ کو مرحلوں میں تقسیم کر کے حکام اپنی حکمتِ عملی بدل سکتے ہیں خاص طور پر جب پہلے مرحلے کے نتائج ان کے حق میں نہ ہوں۔ ‘مغربی ریاست چِن کے رہائشی رال اُک تھان کا کہنا ہے کہ عوام ’انتخابات نہیں چاہتے کیونکہ’فوج ملک کو چلانا نہیں جانتی۔ وہ صرف اپنے اعلیٰ عہدیداروں کے فائدے کیلئے کام کرتے ہیں ۔ جب آنگ سان سوچی اقتدار میں تھیں تو ہمیں کچھ حد تک جمہوریت کا تجربہ ہوا۔ لیکن اب ہم صرف روتے ہیں اور آنسو بہاتے ہیں۔ ‘برطانیہ اور یورپ سمیت مغربی حکومتوں نے ان انتخابات کو ’جعلی‘ قرار دیا ہے، جبکہ علاقائی تنظیم آسیان نے کہا ہے کہ کسی بھی انتخاب سے پہلے سیاسی مکالمہ ضروری ہے۔