Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی عرب: خلیفہ دوم حضرت عمرؓ کے نام کا نادر سنگی نوشتہ دریافت

Updated: June 11, 2026, 10:04 PM IST | Madinah

سعودی عرب کے ہیریٹیج کمیشن نے مدینہ کے المہد گورنری میں آثارِ قدیمہ کے ایک وسیع سروے کے دوران خلیفۂ دوم حضرت عمر بن الخطابؓ کے نام پر مشتمل ایک نادر سنگی نوشتہ دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ دریافت ابتدائی اسلامی تاریخ اور جزیرۂ عرب کے ثقافتی ورثے کے حوالے سے نہایت اہم قرار دی جا رہی ہے۔ سروے کے دوران آثار قدیمہ کے مجموعی طور پر ۱۷۷۴؍ نوادرات دریافت ہوئے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سعودی عرب کے ہیریٹیج کمیشن نے مدینہ منورہ کے علاقے میں آثارِ قدیمہ کے سروے کے دوران ایک اہم تاریخی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ماہرین کو ایک چٹان پر خلیفۂ دوم حضرت عمر بن الخطابؓ کے نام پر مشتمل سنگی نوشتہ ملا ہے۔ اس دریافت کو مملکت کے ابتدائی اسلامی ورثے کے مطالعے میں ایک نمایاں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ کمیشن کے مطابق یہ نوشتہ المہد گورنری میں کیے گئے وسیع آثارِ قدیمہ سروے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے دوران سامنے آنے والی ۱۷۷۴؍ دریافتوں میں شامل ہے۔ سروے کا مقصد خطے کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی دستاویز بندی اور اس کے تحفظ کے لیے جامع معلومات جمع کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل پرمقبوضہ مغربی کنارے میں نسل کشی تیز کرنے کا الزام

ہیریٹیج کمیشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سروے ٹیموں نے ۱۷۳؍ ایسے آثارِ قدیمہ کے مقامات کی نشاندہی کی جو اس سے قبل ریکارڈ پر موجود نہیں تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ المہد گورنری اور اس کے اطراف کا علاقہ مختلف ادوار میں انسانی آبادی، تجارت اور تہذیبی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ سروے کے دوران سامنے آنے والی نمایاں دریافتوں میں حضرت عمر بن الخطابؓ کے نام سے منسوب سنگی نوشتہ خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہے۔ اس کے علاوہ ۱۷۳؍ چٹانی نقوش، قدیم عربی شاعری پر مشتمل تحریریں اور مختلف تاریخی ادوار سے تعلق رکھنے والے متعدد آثار بھی دریافت کیے گئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق مجموعی دریافتوں میں ۱۲۵۹؍  راک آرٹ ڈرائنگز، ۴۶۱؍ اسلامی کتبے، ثمودی زبان میں تحریر کردہ ۳۴؍ نوشتہ جات، ۱۱؍ پتھریلے ڈھانچے، تین محلات اور دیگر آثارِ قدیمہ کی عمارتیں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ قدیم قافلوں کے راستوں سے متعلق دو سنگِ میل اور چار تاریخی کنویں بھی دریافت ہوئے ہیں۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ اس قسم کے سنگی نوشتے نہ صرف قدیم آبادیوں کی موجودگی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں بلکہ ان سے اس دور کے سماجی، مذہبی اور ثقافتی حالات کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ خاص طور پر ابتدائی اسلامی دور سے متعلق تحریری شواہد تاریخی تحقیق کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا دعویٰ: ایرانی حکام نے فون کرکے حملہ روکنے کی درخواست کی، ایران کی تردید

حضرت عمر بن الخطابؓ اسلام کے دوسرے خلیفہ تھے اور ۶۳۴؍ سے ۶۴۴؍  عیسوی تک اسلامی ریاست کی قیادت کرتے رہے۔ آپؓ رسول اکرم ﷺ کے قریبی صحابہ میں شمار ہوتے ہیں اور اسلامی تاریخ میں عدل، انتظامی اصلاحات اور ریاستی توسیع کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ آپ کے دورِ خلافت میں اسلامی ریاست نے غیر معمولی وسعت حاصل کی اور انتظامی و عدالتی نظام کی مضبوط بنیادیں رکھی گئیں۔

سعودی حکام کے مطابق المہد گورنری میں جاری آثارِ قدیمہ سروے مستقبل میں بھی جاری رہے گا تاکہ مزید تاریخی شواہد سامنے لائے جا سکیں اور مملکت کے ثقافتی و تاریخی ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ دریافتیں نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری اسلامی دنیا کی تاریخ کے مطالعے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK