Updated: June 11, 2026, 10:04 PM IST
| Washington
’’ریجیم چینج‘‘ نامی کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے عہدیدار ایپسٹین تنازع پر اندرونی گھبراہٹ کا شکار ہیں، انہوں نے ایپسٹین فائل عیاں ہونے پر قابو پانے کیلئے ایمرجنسی سچویشن روم میٹنگ بلائی، جس میں جے ڈی وینس نے گھسلین میکسویل کے حوالے سے میڈیا حکمت عملی تجویز کی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس
نیویارک ٹائمز کی رپورٹر مگی ہیبرمین اور جوناتھن سوان کی زیرِ اشاعت کتاب ’’ ریجیم چینج‘‘ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے ایپسٹین فائلز کےعیاں ہونے پر قابو پانے کے لیے ایمرجنسی سچویشن روم میٹنگ بلائی، جس میں جے ڈی وینس نے گھسلین میکسویل کے حوالے سے میڈیا حکمت عملی تجویز کی۔ کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدیداران بشمول نائب صدر جے ڈی وینس اور چیف آف اسٹاف سوزی وائلز گزشتہ موسمِ گرما میں۱۷؍ جولائی کو سچویشن روم میں جمع ہوئے تاکہ بڑھتے ہوئے اسکینڈل سے نمٹنے کے طریقوں پر بحث کریں۔ یہ کتاب۲۳؍ جون کو شائع ہوگی۔نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک پی آر حکمت عملی تجویز کی کہ جیفری ایپسٹین کی طویل عرصے کی دوست اور ساتھی مجرم گھسلین میکسویل کا انٹرویو کرنے کے لیے ٹکر کارلسن کو بلایا جائے، اور یہ بیان حاصل کیا جائے کہ ٹرمپ کا ایپسٹین سے کوئی تعلق نہیں۔ ہیبرمین اور سوان کے مضمون کے ایک اقتباس میں لکھا ہے: ’’صدر کے لیے یہ مددگار ثابت ہو سکتا تھا اگر میکسویل یہ بتانے پر راضی ہو جاتی کہ ٹرمپ ایپسٹین کے ساتھ کسی غلط کام کا حصہ نہیں تھے۔‘‘بعد ازاں وینس چاہتے تھے کہ تمام فائلیں جلد از جلد جاری کر دی جائیں، جبکہ ٹرمپ چاہتے تھے کہ انہیں ’’دفن‘‘کر دیا جائے۔ جبکہ وہ کسی کو بھی اس کا ذکر کرنے پر جھڑک دیتے تھے۔ ان کے عملے نے زیادہ تر اس موضوع سے گریز کیا، اور مجبوراً آپس میں فکر مند رہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران میں شدید تصادم، مشرقِ وسطیٰ نئے خطرناک مرحلے میں داخل
دریں اثناء ڈین بونگینو، جو اس وقت ٹرمپ کے ڈپٹی ایف بی آئی ڈائریکٹر تھے، نے کہا کہ یہ ٹرمپ کا ’’ایران-کونٹرا‘‘ بننے جا رہا ہے۔ مصنفینکے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدار تقریباً واضح تھے لیکن اعتراف سے انکار کر رہے تھے۔ کیونکہ صدر اداروں کو توڑ سکتے تھے، وفاقی حکومت کو اپنے دشمنوں کے خلاف کر سکتے تھے، اور دنیا کے امیر ترین افراد کو اوول آفس میں خراج تحسین پیش کرنے کیلئے لا سکتے تھے۔ لیکن وہ جیفری ایپسٹین کو غائب نہیں کر سکتے تھے۔‘‘ مزید برآںمصنفین کا دعویٰ ہے کہ وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ سے ٹھیک پہلے جس میں ٹرمپ کے ایپسٹین کو بھیجے گئے سالگرہ کے خط کا ذکر تھا (جس کے باعث ٹرمپ نے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا)، ٹرمپ نے نیوز کارپورپ کے چیف ایگزیکٹو رابرٹ تھامسن، نیوز کارپورپ کے مالک روپرٹ مرڈوک، اور دی جرنل کے چیف ایڈیٹر ایما ٹکر کو فون کر کے کہا کہ وہ اس خبر کی اشاعت روک دیں۔ مبینہ طور پر انہوں نے ٹکر کو غدار قرار دیا جو امریکہ سے نفرت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فیفاورلڈ کپ: کھلاڑی حراست میں، ریفریز ملک بدر، امریکی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید
وہائٹ ہاؤس کی ترجمان ایبیگیل جیکسن نے کہا کہ’’ ٹرمپ کو ایپسٹین معاملے میں مکمل طور پر بری کیا جا چکا ہے اور انہوں نے کسی بھی دوسرے صدر کے مقابلے میں ایپسٹین کے متاثرین کی زیادہ مدد کی ہے۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ خود کہہ چکے ہیں، وہ ایپسٹین سے متعلق ہر معاملے میں مکمل طور پر بری ہو چکے ہیں۔ اور ہزاروں صفحات کی دستاویزات جاری کرکے، ہاؤس اوورسائٹ کمیٹی کے سمن کی درخواست پر تعاون کرکے، ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ پر دستخط کرکے، اور ایپسٹین کے ڈیموکریٹ دوستوں کے خلاف مزید تحقیقات کا مطالبہ کرکے، صدر ٹرمپ نے اپنے سے پہلے کسی بھی شخص کے مقابلے میں ایپسٹین کے متاثرین کے لیے زیادہ کام کیا ہے۔‘‘