گزشتہ ۲۰؍ دنوںسے دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کر رہے سونم وانگ چک کی حالت بگڑتی جا رہی ہے ۔ لہٰذا ان کے حق میں آوازیں بھی بلند ہونے لگی ہیں۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 9:17 AM IST | Mumbai
گزشتہ ۲۰؍ دنوںسے دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کر رہے سونم وانگ چک کی حالت بگڑتی جا رہی ہے ۔ لہٰذا ان کے حق میں آوازیں بھی بلند ہونے لگی ہیں۔
گزشتہ ۲۰؍ دنوںسے دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کر رہے سونم وانگ چک کی حالت بگڑتی جا رہی ہے ۔ لہٰذا ان کے حق میں آوازیں بھی بلند ہونے لگی ہیں۔ جمعرات کو مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک طویل پوسٹ میں سوال کیا ہے کہ ’’ کیا حکومت سونم وانگ چک کی جان لے کر رہے گی؟ ‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’بی جے پی کو کچھ الگ ہی نشہ چڑھا ہوا ہے۔ ‘‘
عالمی شہرت یافتہ سماجی اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگ نیٹ پیپر لیک کے خلاف گزشتہ ۲۰؍ دنوں سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بینر تلے دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں مگر حکومت نے ان کی اب تک کوئی خبر نہیں لی ہے ۔ اس پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے راج ٹھاکرے نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے ’’ سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کا آج ۱۹؍ واں دن ہے ۔ ان کی طبیعت کے تعلق سے سوشل میڈیا پر جسطرح کی خبریں یا مناظر آ رہے ہیں وہ پریشان کن ہیں۔ یہ کہتے ہوئے بہت برا لگتا ہے کہ اس حکومت نے سونم وانگ چک کی جان لینے اور ملک میں احتجاج کی جو گنجائش ہے اسے ختم کر دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ حکومت اگر ’شری رام کی تجوری لوٹنے پر خاموش رہ سکتی ہے تو پھر اسے عام آدمی کے احتجاج سے کیا فرق پڑے گا؟‘‘
ایم این ایس سربراہ نے یاد دلایا کہ ’’ ایک وقت تھا جب بی جے پی کو سونم وانگ چک سے عقیدت تھی۔ یہ بھی خوب ہے کہ جب بی جے پی کو کسی کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ انسان اسے بے حد عزیز لگنے لگتا ہے ۔ ۲۰۱۸ء میں ری انوینٹ کانفرنس میں انہیں بلاکر روایتی توانائی کے تعلق سے لیکچر سنا گیا۔ اور ان کی خوب تعریفیں کی گئیں ۔ مقصد یہ دکھانا تھا کہ آپ روایتی توانائی کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں۔پھر جب لداخ کو ایک علاحدہ ریاست قرار دیا گیا تو سونم وانگ چک نے بھی بی جے پی کی تعریفیں کیں لیکن بہت جلد سوانم وانگ چک کو معلوم ہو گیا کہ ان (حکومت) کی نیت ٹھیک نہیں ہے تو انہوں نے احتجاج شروع کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ لداخ کو ایک ریاست کا درجہ دیا جائے، وہاں کی زمین پر مقامی لوگوں کے حق کو برقرار رکھا جائے۔ وانگ چک نے بھوک ہڑتال بھی کی لیکن حکومت نے ان کی ایک نہیں سنی اور انہیں کنارے کر دیا کیونکہ حکومت کا مقصد دکھانے کا کچھ اور ہوتا ہے ، اور حقیقت میں کچھ اور۔
راج ٹھاکرے کا کہنا ہے ’’ اب سونم وانگ چک کا مطالبہ ہے کہ نیٹ پیپر لیک معاملے میں جو لوگ قصور وار ہیں ، ان پر کارروائی کی جائے اور وزیر تعلیم کو برطرف کیا جائے ، نیز امتحانات میں شفافیت لائی جائے۔یہ مطالبہ بالکل بھی غلط نہیں ہے۔‘‘ ایم این ایس سربراہ نے کہا ’’ میں وزیر اعظم سے کہنا چاہتا ہوں کہ نیٹ پیپر لیک معاملہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، اس کی وجہ سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہوا ہے۔ اس لئے اس معاملے کو سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھنے کے بجائے سماجی مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔ ‘‘ راج ٹھاکرے نے کہا کہ ’’ یہ حکومت ایسے کسی بھی احتجاج پر توجہ نہیں دیتی جس سے اس کے سیاسی یا انتخابی نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔ وہ ہمیشہ مظاہرین کو غدار وطن قرار دینے اور احتجاج میں کسی سازش کو ڈھونڈنے میں لگ جاتی ہے۔ ‘‘ انہوں نے سونم وانگ چک کی حمایت کرتے ہوئے کہا’’ سونم وانگ چک کے مطالبات پوری طرح درست ہیں۔ ایم این ایس سونم وانگ چک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
راج ٹھاکرے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صرف سوشل میڈیا پر لائیک اور شیئر نہ کریں بلکہ اسکرین سے باہر آئیں اور حکومت سے سوال کریں کیونکہ حکومت مسلسل آپ کے ووٹوں کی توہین کر رہی ہے۔ اور اگر ایسا ہی چلتا رہا تو آگے بھی کرے گی۔