بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بین اسٹوکس آئندہ ہفتے اپنی گھریلو کاؤنٹی ٹیم ڈرہم کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک بار پھر میدان میں نظر آئیں گے۔ اسٹوکس ۲۱؍ جولائی سے شروع ہونے والے گھریلو ون ڈے کپ میں ڈربی شائر کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلیں گے۔
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 9:18 PM IST | London
بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بین اسٹوکس آئندہ ہفتے اپنی گھریلو کاؤنٹی ٹیم ڈرہم کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک بار پھر میدان میں نظر آئیں گے۔ اسٹوکس ۲۱؍ جولائی سے شروع ہونے والے گھریلو ون ڈے کپ میں ڈربی شائر کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلیں گے۔
بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بین اسٹوکس آئندہ ہفتے اپنی گھریلو کاؤنٹی ٹیم ڈرہم کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک بار پھر میدان میں نظر آئیں گے۔ اسٹوکس ۲۱؍ جولائی سے شروع ہونے والے گھریلو ون ڈے کپ میں ڈربی شائر کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلیں گے۔ اگر وہ مکمل طور پر فٹ رہے تو۵۰؍ اوورز کے میٹرو بینک کپ اور کاؤنٹی چیمپئن شپ سیزن کے باقی تمام میچوں کے لیے بھی ڈرہم کو دستیاب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے:میسی نے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں کامیابی شائقین کے نام کر دی
ڈرہم کے ہیڈ کوچ ریان کیمپ بیل نے اسٹوکس کی واپسی پر کہا’’وہ اب بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے سپر اسٹار ہیں، لیکن ڈرہم کے کرکٹر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔ انہوں نے ٹریننگ شروع کر دی ہے اور ہماری خواہش ہے کہ وہ تمام میچ کھیلیں۔ ظاہر ہے ہمیں ان کے ورک لوڈ کا خیال رکھنا ہوگا، کیونکہ انہوں نے کافی کرکٹ کھیلی ہے، اس لیے ان کی مناسب دیکھ بھال ضروری ہے۔ فی الحال وہ واپس آ چکے ہیں اور ہم انہیں ٹیم میں پا کر بے حد خوش ہیں۔‘‘
ڈرہم اس وقت کاؤنٹی چیمپئن شپ کے دوسرے ڈویژن میں سرفہرست ہے اور ٹیم کو امید ہے کہ خطاب کی دوڑ میں اسٹوکس کی خدمات حاصل رہیں گی۔ میٹرو بینک کپ میں بھی ڈرہم مضبوط ٹیم کے ساتھ میدان میں اترے گا، جس میں ایلیکس لیز، ایمیلیو گے اور اولی رابنسن جیسے کھلاڑی شامل ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد اسٹوکس اپنے اہل خانہ کے ساتھ سفاری پر گئے تھے، تاہم اس کے بعد وہ ڈرہم کے گھریلو ٹی۲۰؍ بلاسٹ مقابلوں کے دوران اسٹیڈیم میں شائقین کے درمیان موجود رہے، جہاں انہوں نے مداحوں کو آٹوگراف بھی دیے۔
یہ بھی پڑھئے:۱۳؍ سالہ خواب پوراہوا، وامیقا گبی کی مادھوری دکشت سے ملاقات
ریٹائرمنٹ کے بعد مسلسل یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ اگلے سال ایشیز سیریز کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر اتوار کو برینڈن میکولم کے انگلینڈ کے ٹیسٹ کوچ کے عہدے سے ہٹنے کے بعد یہ بحث مزید تیز ہو گئی ہے، تاہم اسٹوکس ایسی تمام خبروں کی تردید کرتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اسٹوکس نے ٹرینٹ برج میں نیوزی لینڈ کے خلاف ۱۶۰؍ رنز سے ٹیسٹ شکست کے بعد اپنے بین الاقوامی کریئر کا اختتام کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ ایک بین الاقوامی کرکٹر کے طور پر اب ان کے اندر مزید’ ’لڑنے کی طاقت نہیں بچی۔‘‘