Inquilab Logo

’’کیا حکومت ملزم کے خلاف بلڈوزر کارروائی کرے گی؟‘‘

Updated: July 10, 2024, 10:41 PM IST | Mumbai

ورلی ہٹ اینڈ رن معاملے میں ہلاک ہونے والی خاتون کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد آدتیہ اور اسلم شیخ کا سوال

Members of Assembly Aslam Shaikh and Aditya Thackeray meeting the Naqua family.
اراکین اسمبلی اسلم شیخ اور آدتیہ ٹھاکرے ناکوا فیملی سے ملاقات کرتے ہوئے۔

 ورلی میں ہٹ اینڈ رن معاملے میں ہلاک ہونے والی  خاتون کے اہل خانہ سے بدھ کو سابق  وزراء اسلم شیخ اور آدتیہ ٹھاکرے  نے ملاقات کی۔ 
  اہل خانہ سے ملا قات کے بعد میڈیا  سے بات  چیت کرتے ہوئے ان دونوں نے اس معاملے کو حادثہ نہیں بلکہ قتل قرار دیا اور حکومت سے سوال کیا کہ کیا حکومت ملزم کیخلاف بلڈوزر کارروائی کرے گی؟
 اس تعلق سے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ کاویری نکوا کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ دل د ہلا دینے والا ہے۔ ممبئی میں اتنا خوفناک قتل کبھی نہیں ہوا تھا۔ یہ ہٹ اینڈ رن کا معاملہ نہیں بلکہ قتل ہے۔ اس معاملے میں ملزم مہیر راجیش شاہ کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس کے گھر پر بلڈوزر چلے گا؟
 سابق ریاستی وزیر ا ور رکن اسمبلی اسلم شیخ نے کہا کہ یہ عام لوگوں کی حکومت نہیں ہے بلکہ انہیں گاڑی تلے کچلنے والوں کی حمایت کرنے والی حکومت ہے۔ ناکوا خاندان کے آنسو اور دکھ کا خمیازہ حکومت کو بھگتنا پڑے گا۔  
  اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اسلم شیخ نے ریاستی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی مشہور شخصیت کا دھمکی آمیز فون آنے کے بعد پولیس انتظامیہ فوری طور پر اس مشہور شخصیت کے گھر کے باہر سیکوریٹی  مامور کردیتی ہے، ریاستی حکومت ہر چیز میں جلد بازی کا مظاہرہ کرتی ہے لیکن ایک عام خاتون کی موت کے بعد ملزم کی گرفتاری میں۶۰؍ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔
 اُنہوں نے کہا کہ پورے ممبئی میں سی سی ٹی وی نصب ہیں پھر بھی ملزم کو پکڑنے میں۶۰؍ گھنٹے لگ جاتے ہیں، یہ پولیس انتظامیہ کی ناکامی ہے۔ اسلم شیخ کے مطابق حکومت کے آشیرواد کے بغیر ملزم کا۶۰؍ گھنٹے تک آزاد پھرنا ممکن نہیں۔ ایک طرف حکومت کروڑوں روپے کی امداد تقسیم کر رہی ہے لیکن متوفی خاتون کے اہل خانہ کی مدد کیلئے اب تک کسی بھی قسم کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت سنجیدہ  نہیں ہے۔اسلم شیخ نے  یہ بھی کہا کہ ہم متوفی خاتون کے اہلِ خانہ کو انصاف ملنے تک یہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK