؍۵؍ جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے ساتھ ہی ہندوستان میں۵؍ جی سروس کی راہ ہموار

Updated: August 03, 2022, 1:19 PM IST | Agency | New Delhi

اس کے آغاز سے نیٹ ورک کی خرابی جیسامسئلہ حل ہوجائے گا۔ مواصلات کے وزیر اشونی ویشنو کے مطابق ۵؍جی ٹیلی کام خدمات کا اس سال اکتوبر سے آغاز ہوسکتا ہے

 Online education in lockdown was hampered by network failure..Picture:INN
لاک ڈاؤن میں آن لائن تعلیم میں نیٹ ورک کی خرابی سے دشواری ہوئی۔ ۔ تصویر:آئی این این

؍۵؍ جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے ساتھ  ہی  ہندوستان میں۵؍ جی  سروس کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔  تمام۲۲؍ٹیلی کام سرکلس میں پریمیم ۷؍ سو میگا ہرٹز بینڈ میں۵؍ جی ا سپیکٹرم خریدنے والا جیو واحد آپریٹر ہے۔  ۵؍جی کیلئے بہترین سمجھے جانے والے اس بینڈ پر سبھی  آپریٹرز کی نظر تھی۔ لیکن اس پریمیم ۷؍ سومیگاہرٹز بینڈ کے نام کے ساتھ جیو نے۵؍ جی  ریس میں ابتدائی برتری حاصل کر لی ہے۔ دنیا بھر میں۷؍ سو میگاہرٹز بینڈ ۵؍ جی  کیلئے غالب بینڈ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ اور یورپی یونین نے بھی اسے ۵؍ جی سروس کیلئے ` پریمیم بینڈقرار دیا ہے۔ دنیا بھر میں اس بینڈ کی مقبولیت کے بہت سے اسباب ہیں۔  ٹیلی کام سیکٹر پر نظر رکھنے والے روہن دھمیجا۷؍سومیگاہرٹز کو اس کی مقبولیت کی بنیادی وجہ کے طور پر اس کی اعلیٰ انڈور اور آؤٹ ڈور کوریج کو مانتے ہیں۔ اس کے کم فریکوئنسی بینڈ کی وجہ سے، اس کے سگنل عمارتوں کے اندر کہیں بھی گھس سکتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ انڈور کوریج کے لحاظ سے بہترین ہے۔ اس لئے۷؍سو میگا ہرٹز بینڈ کو گنجان آبادی والے علاقوں اور ڈیٹا کی بھاری کھپت والے علاقوں کیلئےمثالی سمجھا جاتا ہے۔ایک اور وجہ اس کی طویل بیرونی کوریج ہے۔۷؍سو میگاہرٹز بینڈ میں ایک ٹاور۱۰؍ کلومیٹر تک کوریج فراہم کر سکتا ہے۔ اس کی کوریج کی وجہ سے آپریٹر کو کم ٹاورز لگانے پڑتے ہیں جس  سے آپریٹنگ لاگت کم ہوتی ہےلہٰذا مہنگا ہونے کے باوجود، یہ بینڈ سستی ۵؍ جی  خدمات کیلئے موزوں ہے۔ہندوستان جیسے ملک میں جہاں بڑی تعداد اب بھی دیہاتوں میں رہتی ہے،۷؍سو میگا ہرٹز بینڈ کی وسیع کوریج دیہی ہندوستان کو جوڑنے میں مدد دے سکتی ہے۔ یعنی۵؍ جی صرف شہروں تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کا فائدہ دیہات تک بھی پہنچنا یقینی ہے۔  مواصلات کے وزیر اشونی ویشنو نے بھی کہا تھا کہ۷؍سو میگا ہرٹز بینڈ دور دراز کے دیہی  اور گنجان علاقوں میں رابطہ فراہم کرنے میں مدد کرے گا۔تیسرا اور سب سے اہم   ڈیٹا ٹریفک ہینڈلنگ میں اس کی مہارت ہے۔ یہ بینڈ اسٹینڈ اسٹون ۵؍ جی  نیٹ ورکس کو سپورٹ کرتا ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ۷؍سو میگا ہرٹز بینڈ ایک ہزار ۸؍سو میگا ہرٹز سے۵؍ گنا زیادہ موثر اور۹؍ سو میگا ہرٹز سے دوگنا موثر ہے۔ ۲۶؍گیگا  ہرٹزہائی فریکوئنسی ملی میٹر بینڈ  کی رفتار توتیز ہے لیکن اس کی کوریج بہت محدود ہے۔ نیز۲۱؍سو میگاہرٹز کے مقابلے میں۷؍سو میگا ہرٹز میں براڈ بینڈ خدمات فراہم کرنا سستا ہے۔  قبل ازیں نئی د ہلی میں  میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئےمواصلات کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا   تھاکہ ۵؍جی ٹیلی کام خدمات کا اس سال اکتوبر سے آغاز ہوسکتا ہے۔  اس کے ساتھ ہی نیٹ ورک کی خامی کامسئلہ حل ہوجائے گا ۔و اضح رہےکہ لا ک ڈاؤن کےود ران نیٹ ورک خرابی سے ورک فرام ہوم  میںبھی دقت ہوئی۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK