Updated: May 25, 2026, 10:04 PM IST
| New delhi
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ناروے اور ہالینڈ کے دوروں کے دوران صحافیوں سے سوالات نہ لینے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’’شرمناک‘‘ قرار دیا ہے۔ گلڈ نے کہا کہ بین الاقوامی صحافیوں اور ہندوستانی حکام کے درمیان پیدا ہونے والا تناؤ میڈیا کے ساتھ بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو ظاہر کرتا ہے۔ ادارے نے یاد دلایا کہ ناروے اور نیدرلینڈس عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں، جبکہ ہندوستان ۱۵۷؍ ویں نمبر پر ہے۔
گزشتہ دن Editors Guild of India نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ یورپی دورے کے دوران ہندوستانی حکام اور غیر ملکی صحافیوں کے درمیان ہونے والے تنازعات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’’شرمناک‘‘ قرار دیا۔ گلڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ ناروے اور ہالینڈ میں ہندوستانی وفد اور صحافیوں کے درمیان پیدا ہونے والا ’’اسٹینڈ آف‘‘ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ وزیر اعظم مسلسل پریس بریفنگ کے بعد صحافیوں کے سوالات لینے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب ۱۸؍ مئی کو ناروے کی صحافی Hege Langsæth Svendsen نے اوسلو میں وزیر اعظم مودی سے سوال کیا کہ وہ ’’دنیا کے آزاد ترین پریس‘‘ کے سوالات لینے سے کیوں انکار کرتے ہیں۔
مودی اس سوال کا جواب دیے بغیر پوڈیم سے چلے گئے، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیر بحث آ گیا۔ بعد ازاں صحافی نے کہا کہ انہیں دراصل توقع ہی نہیں تھی کہ ہندوستانی وزیر اعظم ان کا سوال لیں گے۔ ایڈیٹرز گلڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ ناروے اور نیدرلینڈس عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں، جبکہ ۱۸۰؍ ممالک کی فہرست میں ہندوستان ۱۵۷؍ ویں نمبر پر ہے۔ گلڈ کے مطابق اگرچہ عالمی پریس آزادی کی درجہ بندی کے طریقہ کار پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے، لیکن ہندوستان کی ’’غیر معمولی طور پر کم پوزیشن‘‘ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک میں میڈیا کے لیے جمہوری کردار ادا کرنے کی جگہ مسلسل محدود ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : سپریم کورٹ نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف سی بی آئی انکوائری کی درخواست مسترد کردی
پریس باڈی نے مزید کہا کہ غیر ملکی صحافی شاید ہندوستان کی تاریخ یا آزادی کی تحریک میں پریس کے کردار سے پوری طرح واقف نہ ہوں، تاہم ان کا یہ مؤقف درست تھا کہ جمہوریت میں صحافیوں کو سوالات پوچھنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’میڈیا پر پابندیاں نہ صرف صحافت بلکہ معیشت اور معاشرے دونوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔‘‘ گلڈ نے یہ بھی افسوس ظاہر کیا کہ مودی نے بطور وزیر اعظم اپنے تقریباً ۱۲؍ سالہ دور اقتدار میں ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کی۔ ادارے کے مطابق سوالات اور تنقید سے گریز کی یہی روش مرکز اور ریاستی حکومتوں دونوں میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : ’’دنیا میں ہر۳۰۰؍میں سے ایک شخص شیزوفرینیا کا شکار ہے‘‘
گلڈ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ میڈیا کو مخالف فریق سمجھنے کے بجائے اسے احتساب کے جمہوری نظام کا اہم ستون تسلیم کرے۔ یاد رہے کہ اوسلو میں پیش آنے والے واقعے کے بعد ناروے میں ہندوستانی سفارت خانے نے متعلقہ صحافی کو بعد میں ایک پریس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ تاہم اس دوران بھی متعدد حساس سوالات کے براہ راست جواب نہیں دیے گئے۔ تقریب میں صحافی نے سوال اٹھایا تھا کہ اوسلو نئی دہلی پر کیوں اعتماد کرے اور کیا ہندوستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کو روکا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ آیا وزیر اعظم مستقبل میں ہندوستانی میڈیا کے تنقیدی سوالات کا سامنا کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے : ’’دنیا میں ہر۳۰۰؍میں سے ایک شخص شیزوفرینیا کا شکار ہے‘‘
جواب میں وزارت خارجہ کے سیکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے تقریباً ۱۳؍ منٹ تک گفتگو کی لیکن سوالات کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ انہوں نے ہندوستان کو ’۵؍ ہزار سال پرانی تہذیب‘‘ قرار دیتے ہوئے یوگا، شطرنج اور صفر کی ایجاد کا حوالہ دیا۔ ادھر نیدرلینڈس کے دورے کے دوران ڈچ لیڈر روب جیٹن نے بھی ہندوستان میں پریس آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق خدشات کا اظہار کیا تھا۔ ان کے مطابق خاص طور پر مسلم کمیونٹی سمیت کئی اقلیتیں شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ بعد ازاں ہندوستانی حکام نے ان تنقیدوں کو ’’غلط فہمی‘‘ اور ’’بیرونی این جی اوز کے بیانیے‘‘ پر مبنی قرار دیا۔