اسرائیل کو ہتھیار سپلائی کرنے پر مزدوروں نے ’بندرگاہوں کے مزدور جنگ کیلئے کام نہیں کرتے‘ کے نعرے کے تحت پورے ایک دن کیلئے اپنا کام معطل کر دیا۔
EPAPER
Updated: February 09, 2026, 11:20 AM IST | Gaza
اسرائیل کو ہتھیار سپلائی کرنے پر مزدوروں نے ’بندرگاہوں کے مزدور جنگ کیلئے کام نہیں کرتے‘ کے نعرے کے تحت پورے ایک دن کیلئے اپنا کام معطل کر دیا۔
اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے اتوار کو بحیرہ روم کی ۲۰؍ سے زائد بندرگاہوں بالخصوص یونان، اٹلی، ترکی، اسپین اور مراکش میں پورٹ ورکرز یونین کی جانب سے کی جانے والی ہڑتال کی بھرپور ستائش اور حوصلہ افزائی کی ہے۔ مزدوروں نے ’بندرگاہوں کے مزدور جنگ کیلئے کام نہیں کرتے‘ کے نعرے کے تحت ایک مکمل دن کے لیے اپنا کام معطل کر دیا تاکہ قابض اسرائیل کو اسلحہ کی ترسیل روک کر فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔ حماس نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس قدم کی قدر کرتی ہے جو فلسطینیوں کے خلاف جاری مسلسل جارحیت کے سائے میں ان کی حمایت میں ایک انسانی اور اخلاقی موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ حماس نے ان اقدامات کو قابض دشمن پر دباؤ ڈالنے کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔
حماس نے دنیا بھر کی بندرگاہوں کی لیبر یونینز اور تمام مزدور تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کی مہم کو وسعت دیں، قابض اسرائیل کو اسلحہ کی منتقلی میں حصہ لینے سے انکار کریں اور بائیکاٹ کے لیے ایک مؤثر محاذ بنانے کے لیے کام کریں۔ جماعت نے اس بات پر زور دیا کہ جارحیت کو روکنے، قابض دشمن کو سیز فائر کے معاہدے کی پابندی کروانے اور بین الاقوامی قوانین و فلسطینی عوام کے حقوق کا احترام کرنے پر مجبور کرنے کیلئے ان کوششوں کا تسلسل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
پورٹ ورکرز یونین کا یہ اقدام متعدد یورپی اور بحیرہ روم کے ممالک میں ان بڑھتی ہوئی عوامی تحریکوں کے تسلسل میں سامنے آیا ہے جو غزہ میں قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصان کے باعث اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔ گزشتہ روز بحیرہ روم کے ساحلوں پر واقع۲۱؍ سے زائد بندرگاہوں نے ’بندرگاہوں کے مزدور نسل کشی کے لیے کام نہیں کرتے ‘کے عنوان سے احتجاج اور ہڑتال کا عالمی دن منایا۔ اس حوالے سے اٹلی کی بندرگاہوں کے مزدوروں کے ویڈیوز بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ تحریک بین الاقوامی تنازعات بالخصوص مسئلہ فلسطین سے متعلق سیاسی اور اخلاقی موقف کے اظہار میں مزدور یونینوں کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے جس میں وہ کام کی معطلی اور ترسیل کو روکنے جیسے معاشی و پیشہ وارانہ دباؤ کے اوزار استعمال کر رہے ہیں۔
یہ ہڑتال ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب قابض اسرائیل کو اسلحہ کی برآمدات جاری رکھنے پر عالمی سطح پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے، باوجود اس کے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا ان برآمدات کو روکنے کا مطالبہ کر چکی ہیں کیونکہ یہ اسلحہ غزہ میں فوجی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی حقوق انسانی کی تنظیمیں ماضی میں بھی اس تنازع سے وابستہ اسلحہ کی تجارت پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر چکی ہیں۔