شولاپور میں امیدوار پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ ان کے بیٹے نےبٹن دبا کر ووٹ دیا۔ اورنگ آباد میں رکن اسمبلی اپنے نابالغ بیٹے کو بھی پولنگ بوتھ میں لے گئے۔ الیکشن کمیشن نے انکوائری کا حکم دیا۔
EPAPER
Updated: February 09, 2026, 12:45 PM IST | Solapur
شولاپور میں امیدوار پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ ان کے بیٹے نےبٹن دبا کر ووٹ دیا۔ اورنگ آباد میں رکن اسمبلی اپنے نابالغ بیٹے کو بھی پولنگ بوتھ میں لے گئے۔ الیکشن کمیشن نے انکوائری کا حکم دیا۔
یہاں ضلع پریشد الیکشن میں ۲؍ ایسے معاملات سامنے آئے جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن کے انتظامات پر سوال قائم کئے جارہے ہیں۔ ۲؍ امیدواروں نے اپنے نابالغوں کے ہمراہ پولنگ پہنچ کر ووٹنگ کی۔ ان معاملات کی تفتیش کا حکم دے دیا گیا ہے۔
شولاپور ضلع کے اکلوج کے یشونت نگر پولنگ اسٹیشن پر امیدوار ارجن سنگھ موہیتے پاٹل اپنے ۱۴؍ سالہ بیٹے کے ہمراہ پولنگ بوتھ پہنچے۔ ’دینک بھاسکر‘ کی خبر کے مطابق الزام ہے کہ ان کے نابالغ بیٹے نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کا بٹن دبایا۔
اسی طرح اورنگ آباد (چھترپتی سمبھاج نگر) ضلع میں شیو سینا کے ایک رکن اسمبلی اپنے نابالغ بیٹے کو پولنگ بوتھ کے اندر لے گئے۔ رکن ا سمبلی نے اپنی اور اپنے بیٹے کی دونوں انگلیوں پر سیاہی لگائی۔ واضح رہے کہ سنیچر کو ریاست کے ۱۲؍ اضلاع میں ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی کے انتخابات ہوئے۔
’’بیٹا صرف ووٹنگ کے عمل کو سمجھنا چاہتا تھا‘‘
امیدوارارجن سنگھ موہیتے پاٹل نے کہا کہ ان کا بیٹا صرف ووٹنگ کے عمل کو سمجھنا چاہتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ’’میرا بیٹا یہ سمجھنا چاہتا تھا کہ ووٹنگ مشین کیسے کام کرتی ہے اس لیے میں اسے اندر لے گیا۔ پولنگ حکام نے اعتراض کیا لیکن میں نے درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ کھڑے ہوں۔ مجھے اس میں کچھ غلط نظر نہیں آتا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’ امریکہ سے ۵۰۰؍ بلین ڈالر کی خریداری مشکل نہیں‘‘
رکن اسمبلی بیٹے کے ساتھ پولنگ بوتھ میں پہنچے
اورنگ آباد ضلع کے پاچوڑ پولنگ اسٹیشن پر شیوسینا کے رکن اسمبلی ولاس بھمرے اپنے نابالغ بیٹے کو پولنگ اسٹیشن کے اندر لے گئے۔ عینی شاہدین اور ویڈیو کے مطابق رکن اسمبلی نے اپنی اور اپنے بیٹے کی انگلیوں پر سیاہی لگائی اور پھر ای وی ایم کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالا۔
کلکٹر نے تحقیقات کا حکم دے دیا
اورنگ آباد کے ضلع کلکٹر دلیپ سوامی نے کہا کہ پاچوڑ پولنگ اسٹیشن پر ہوئے واقعہ کی تفصیلی جانچ کی جائے گی۔ حالات کا جائزہ لیا جائے گا اور اگر ووٹنگ کے قوانین کی کوئی خلاف ورزی پائی جاتی ہے تو اس میں ملوث پریسائیڈنگ افسر یا عملے کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔