• Tue, 17 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی میں دُنیا کی سب سے بڑی اے آئی کا نفرنس

Updated: February 17, 2026, 5:54 AM IST

وزیراعظم مودی نے افتتاح کیا، ترقی کو ہر شخص تک پہنچانے کا عزم، ۳۰۰؍ سے زائد کمپنیوں کی شرکت، اپنی اختراعات کو پیش کیا

Prime Minister Narendra Modi visiting various pavilions after inaugurating the AI ​​Summit at the `Bharat Mandapam`.
وزیراعظم نریندر مودی ’بھارت منڈپم ‘ میں اے آئی سمٹ کا افتتاح کرنے کے بعد مختلف پویلین پر جاتے ہوئے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو نئی دہلی کے’’بھارت منڈپم ‘‘میں’’اے آئی امپیکٹ سمٹ۲۰۲۶ء‘‘  کے عنوان سے دنیا کی سب سے بڑی اے آئی کانفرنس کا  باقاعدہ افتتاح  اور  اس میں شرکت کیلئے پہنچنے والے سربراہان مملکت، صنعت کاروں، موجدوں اور محققین کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے واضح کیا کہ ہندوستان مصنوعی ذہانت ( اے آئی) کو انسانی ترقی اوراس  کو  سب کی شمولیت کیلئےاستعمال کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ وزیراعظم نے سمٹ کی مرکزی تھیم ’’سروجن ہتائے، سروجن سُکھائے‘‘ (سب کی فلاح، سب کی خوشحالی) پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے جہاں ٹیکنالوجی کا مقصد صرف منافع نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت ہے۔ انہوں نے ’’ایکس‘‘پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ ہندوستان آج سے اے آئی امپیکٹ سمٹ کی میزبانی کر رہا ہے۔ میں دنیا بھر سے آئے ہوئے تمام شرکاء کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ ہمارا مقصد اے آئی کے ذریعے ایسی ترقی کو یقینی بنانا ہے جو ہر انسان تک پہنچے۔‘‘
وہ شعبے جن میں اے آئی  انقلاب لارہاہے
 وزیراعظم نے اپنے تبصرے میں ان شعبوں کا ذکر کیا جہاں اے آئی انقلاب برپا کر رہا ہے۔ ا ن  میں صحت اور تعلیم، زراعت اور گورننس، تجارت اور اسٹارٹ اپس شامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سمٹ کے نتائج ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھیں گے جو ترقی پسند، اختراعی اور مواقع سے بھرپور ہو۔ زیراعظم مودی نے زور دے کر کہا کہ ’’ہندوستان اپنے۱ء۴؍ ارب عوام کی طاقت، مضبوط ڈجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر اور متحرک اسٹارٹ اپ نظام کی بدولت عالمی سطح پر اے آئی کی تبدیلی میں سب سے آگے ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی اے آئی میں پیش قدمی نہ صرف اس کے عزم کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس کی ذمہ داری کا بھی ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال محفوظ اور اخلاقی حدود میں رہ کر کیا جائے۔ 
مودی نے اسٹارٹ اپس کا جائزہ لیا
 افتتاح کے بعد  وزیراعظم نے سمٹ میں شامل اسٹارٹ اپس کے پویلین کا دورہ کیا اور اُن کی  اختراعات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔  یہ سمٹ ۲۰؍   فروری تک  جاری رہے گی جس میں  ۳۰۰؍ سے زیادہ کمپنیاں شرکت کررہی ہیں۔
  عام لوگ سمٹ میں شرکت کرکے دیکھ سکتے ہیں کہ اے آئی حقیقی زندگی میں کیسے کام کرتا ہے اور مستقبل میں زراعت، صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں کیا تبدیلیاں لا سکتا ہے۔
 سمٹ میں ماہرین نے کیا کہا؟
 ا س موقع پر اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمیننے کہا کہ امریکہ کے بعد ہندوستان  چیٹ جی پی ٹی کا دوسرا سب سے بڑا صارف  ہے۔ یہاں  طلبہ کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے جو چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں۔ انفو ایج کے بانی  اور  ایگزیکٹو وائس چیئرمین سنجیو بِکھ چندانی نے  اطمینان دلایا کہ ’’ اے آئی نوکریاں ختم نہیں کر رہا، بلکہ پیداواریت بڑھانے میں معاون ہے ۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اے آئی ٹولز کو اپنائیں ورنہ پیچھے رہ جائیں گے۔‘‘ سسکو سسٹمز انڈیا کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہریش کرشنن نے کہا کہ  اے آئی آنے والی نسلوں کیلئے  معاشرے کو بہتر بنا رہا ہے اور انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK