Updated: August 17, 2026, 4:04 PM IST
| Washington
ایوی ایشن کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سویڈن میں قائم اور امریکہ میں کام کرنے والی کمپنی ہارٹ ایئرو اسپیس(Heart Aerospace)کے تیار کردہ وَن ایکس بیٹری الیکٹرک طیارے نے نیویارک کے پلیٹس برگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اپنی پہلی کامیاب پرواز مکمل کرلی۔ طیارہ تقریباً ۲۷؍ منٹ تک فضا میں رہا۔
الیکٹرک طیارہ۔ تصویر:آئی این این
ایوی ایشن کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سویڈن میں قائم اور امریکہ میں کام کرنے والی کمپنی ہارٹ ایئرو اسپیس(Heart Aerospace)کے تیار کردہ وَن ایکس بیٹری الیکٹرک طیارے نے نیویارک کے پلیٹس برگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اپنی پہلی کامیاب پرواز مکمل کرلی۔ طیارہ تقریباً ۲۷؍ منٹ تک فضا میں رہا اور اس تجرباتی پرواز کے لیے تقریباً ۵؍امریکی ڈالر کی بجلی استعمال ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے:اسرائیل نے ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ مسترد کیا، ترکی سمیت ۷؍ ممالک نے شدید مذمت کی
وَن ایکس کا وزن ٹیک آف کے وقت۲۵؍ہزار پاؤنڈ سے زیادہ، یعنی تقریباً ۱۱۳۴۰؍ کلوگرام ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اب تک اڑایا جانے والا دنیا کا سب سے بڑا بیٹری الیکٹرک طیارہ ہے۔۱۲؍ اگست ۲۰۲۶ء کو ہونے والی پہلی پرواز کے دوران وَن ایکس نے تقریباً ۳۳۵؍ میٹر (۱۱۰۰؍فٹ) کی بلندی حاصل کی اور اس کے چار الیکٹرک موٹرز نے مجموعی طور پر ایک میگاواٹ سے زیادہ برقی طاقت فراہم کی۔
اس پرواز کی سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی بات تقریباً ۵؍ڈالرس کا بجلی کا خرچ ہے۔ تاہم اس رقم کو طیارے کی مکمل آپریٹنگ لاگت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ صرف اس مخصوص تجرباتی پرواز میں استعمال ہونے والی بجلی کی قیمت ہے۔ اس میں پائلٹ، دیکھ بھال، ایئرپورٹ فیس، انشورنس، بیٹری کی قیمت یا بیٹری کی مستقبل میں تبدیلی جیسے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ یعنی ۵؍ڈالر کا اعداد و شمار الیکٹرک پروپلشن کی توانائی کی لاگت کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ مسافر طیارے کی مکمل پرواز کی قیمت۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ وَن ایکس خود کوئی تجارتی مسافر طیارہ نہیں بلکہ ایک فل اسکیل ٹیکنالوجی ڈیمانسٹریٹر ہے۔ہارٹ ایئر اسپیس اسے اپنی مستقبل کی ای ایس ۳۰؍ ریجنل ایئرلائنر کے لیے ٹیکنالوجی، بیٹری سسٹم، الیکٹرک موٹرز، فلائٹ کنٹرول اور دیگر نظاموں کی جانچ کے لیے استعمال کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رنویر سنگھ کی نئی فلم ’’پرلے‘‘ کی شوٹنگ شروع، دنیا کے خاتمے کی کہانی پر مبنی فلم
یہ وَن ایکس کے برعکس مکمل طور پر بیٹری پر انحصار نہیں کرے گا بلکہ ہائبرڈ الیکٹرک ٹیکنالوجی استعمال کرے گا۔ کمپنی کے موجودہ منصوبے کے مطابق ای ایس ۳۰؍ تقریباً ۲۰۰؍ کلومیٹر تک مکمل الیکٹرک موڈ میں پرواز کرسکے گا، جبکہ ہائبرڈ موڈ میں اس کی منصوبہ بند رینج تقریباً ۸۰۰؍کلومیٹر ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل کے طیارے کی بیٹری کو تقریباً ۳۰؍ منٹ میں چارج کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ہو ا بازی دنیا کے ان شعبوں میں شامل ہے جہاں کاربن اخراج کم کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔ بڑے مسافر طیاروں کو بجلی پر منتقل کرنے میں سب سے بڑا مسئلہ بیٹری کی توانائی کی کثافت اور وزن ہے۔ اسی لیے ہارٹ ایئر اسپیس کا منصوبہ فوری طور پر بڑےبوئنگ اور ایئربس طیاروں کو تبدیل کرنا نہیں بلکہ مختصر فاصلے کی علاقائی پروازوں پر توجہ دینا ہے۔