Inquilab Logo Happiest Places to Work

قابل تشویش! ناگپور میں پستول۲۵؍ ہزار روپےمیں بہ آسانی دستیاب !

Updated: July 07, 2026, 11:31 PM IST | Nagpur

خوش قسمتی ہےکہ پولیس نے صرف ۶؍ مہینوں میں ۳۰؍ پستول اور ۶۰؍ سے زائد راؤنڈ کارتوس ضبط کیا ہے اور ۲۸؍افراد کو گرفتار کیا ہے

Police say pistols in Nagpur come from Madhya Pradesh. (File photo)
پولیس کاکہنا ہے ناگپور میں پستول مدھیہ پردیش سے آتے ہیں۔(فائل فوٹو)

 ناگپور پولیس نے صرف ۶؍ مہینے میں تیس پستول، ۶۰؍ سے زائد راؤنڈ کارتوس ضبط کئے ہیں اور ۲۸؍افراد کو آرمس ایکٹ کے تحت گرفتار کیا ہے، لیکن یہ خوش قسمتی ہے کہ پولیس مختلف کارروائیوں میں یہ پستول برآمد کرنے میں کامیاب رہی ہے، تاہم یہ مسئلہ تشویشناک ہے اور پستول کی یہ سپلائی بڑے ریکیٹ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پولیس کے مطابق اس معاملے کے تار مدھیہ پردیش کے کھرگون، باروانی، کھنڈوا، برہان پور اور بیتول اضلاع میں چل رہے غیر قانونی کارخانوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ ہتھیار براہ راست اسمگلنگ نہیں ہوتے۔ بلکہ بسوں، ٹرینوں میں مختلف جرائم پیشہ افراد کے ذریعے سپلائی کئے جاتے ہیں ۔ انہیںپرائیویٹ کاروں اور مال بردار ٹرکوں کے اندر چھپا کر اسمگل کیا جاتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق خاموشی سے روز ہتھیاروں کی نقل و حمل کی جارہی ہے۔ ایک بار جب ہتھیاروں کی یہ کھیپ اصل ایجنٹ تک پہنچ جاتی ہے، تو دلالوں کا نیٹ ورک اپنے قبضے میں لے لیتا ہے پھر انہیں عادی مجرموں، بھتہ خوروں اور مقامی گروہوں کے ہاتھ ۲۵؍ سے ۵۰؍ہزار روپے میں فروخت کیا جاتا ہے ۔ قتل، بھتہ خوری اور گینگ وار کیلئے یہ بہت سستا سودا  ہے۔ پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ بندوقیں ضبط کرنا فیکٹری بند کرنے کے مترادف نہیں ہے ۔ جب تک مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کے درمیان سرحدی راستے غیر محفوظ ہیں، یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ اس لئے کریک ڈاؤن کا اگلا مرحلہ صرف ہتھیاروں کو ضبط کرنے تک محدود نہ کرتے ہوئے اس پوری تجارت کو ختم کرنا ہوگا۔پولیس ذرائع کے مطابق جنوری میںکرائم برانچ آپریشن کے ذریعے ۲؍ پستول برآمدکئے گئے۔ اس کے علاوہ فروری میں ایم آئی ڈی سی سے ایک ،مارچ میںپارڈی اور لکڑ گنج سے ۳؍،اپریل میںاین ڈی پی ایس اورکرائم برانچ کے مشترکہ آپریشن میں ۲؍، مئی میں ننداون ، کپل نگراور یشودھرا نگرسے۴؍،جون میں  بیل ٹروڑی ، اجنی اورپاچ پاؤلی سے ۳؍اوررواں مہینے جولائی میںیشودھرا نگر،تحصیل اور سکردراسے ۳ ؍ پستول برآمد کئے جاچکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK