دونوں ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی، وزیر اعلیٰ نے عذر پیش کیا کہ اوسط سے کئی گنا زیادہ بارش اور طوفانی ہواؤں سے حادثات ہوئے۔
دیویندرفرنویس۔ تصویر:پی ٹی آئی
ممبئی کے ودھان بھون میں جاری مہاراشٹر اسمبلی کے مانسو ن اجلاس میں پیر کودونوں ہی ایوانوں میں ممبئی سمیت میٹرو پولیٹن ریجن(ایم ایم آر) میں متعدد حادثات میں ۱۳؍افراد کی موت کا معاملہ اپوزیشن نے اٹھایا۔ اپوزیشن کےاراکین نے ان اموات کیلئے بلدیہ اور حکومت کو ذمہ دار قرار دیااور اس کیلئے جانچ کرنے ، ذمہ داری طے کرنے اور خاطی افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسی دوران وزیر اعلیٰ نے قانون ساز اسمبلی میں عذر پیش کیا کہ اوسط سے کئی گنا ہ زیادہ بارش ہونے اور ۷۰؍ تا ۸۰؍ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کےسبب درخت گرنے کے حادثات ہوئے ہیں۔انہوں نے ۸؍جولائی تک موسلا دھار بارش ہونے اور طوفانی ہوائیں چلنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتیاطی اقدامات کے تحت نجی کمپنیوں کے ملازمین کو’ورک فرام ہوم‘کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اسی کے علاوہ سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر میں پیر کو آدھے دن سے چھٹی دے دی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ منگل کو مانسون میں ہونیوالے حادثات کے تعلق سے تفصیل دونوں ایوان میںپیش کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ کے بیان کے بعد قانون ساز اسمبلی کی کارروائی اسپیکر ایڈوکیٹ راہل نارویکر نے دن بھر کیلئے ملتوی کردی۔اسمبلی میں ۱۰؍ منٹ ہی کام کاج ہواجبکہ قانون ساز کونسل کی کارروائی ۳۹؍ منٹ تک ہی چلی۔
حادثات کی ذمہ دار طے کرنا چاہئے: وجے وڈیٹیوار
وجے وڈیٹیوار نے کہاکہ’’ممبئی میں مین ہول میں گرنے سے ۲؍افراد، درخت گرنے سے۳؍ افراد، عمارت منہدم ہونے سے ۶؍ شہریوں کی اور دیگر حادثات میں مجموعی طور پر۱۳؍افراد کی موت ہوئی ہے۔ مین ہول میں گرنےسے اور درخت گرنے سے جو اموات ہوئی ہیں اس کیلئے ذمہ داری طے کرنا چاہئے۔ حکومت اور بی ایم سی کو اس کا علم تھاکہ طوفانی ہواؤں کے ساتھ بارش ہونے والی ہے اسکے باوجود احتیاطی اقدام کیوں نہیں کئے گئے۔‘‘انہوں نے کہاکہ ممبئی۔پونے کو جوڑنے والے مسکنگ لنک پر چٹان کھسکنے کے سبب روڈ بند ہو گیا ،دیگر سڑکوں پر بھی ٹریفک کا مسئلہ پیدا ہوا ہے ۔
۲۵؍ لاکھ روپے کا معاوضہ دیاجائے: امین پٹیل
رکن اسمبلی امین پٹیل نے کہاکہ ’’ممبئی اور ایم ایم آر میں ہونے والے حادثات میں جن شہریوں کی موت ہوئی ہیں، حکومت کو ان کےاہلِ خانہ کو ۲۵۔۲۵؍ لاکھ روپے معاوضہ دینا چاہئے کیونکہ یہ حادثات بلدیہ اور حکومت کی بد نظمی کے سبب ہوئی ہیں۔‘‘رکن اسمبلی اجے چودھری نے بھی ممبئی میں بنائے گئے سیمنٹ کنکریٹ پر درار پڑنے کی بھی شکایت کی۔
قانون ساز کونسل میں رکن ستیج عرف بنٹی پاٹل کے کہا کہ ’’مانخورد کی عمارت اگر غیر قانونی تھی تو اس کے خلاف کارروائی کی نہیں کی گئی کیوں اس حادثہ کیلئے اسے چھوڑ دیا گیا تھا۔‘‘ انہوںنے کہا کہ’’ایم ایم آر میں روزآنہ ایک کروڑ ۵ ؍لاکھ شہریوں لوکل ٹرین، میٹرو اور بسوں سے نقل و حمل کرتے ہیں۔ ان کے تحفظ کی ذمہ داری لینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘‘ رکن کونسل ایڈوکیٹ انل پرب نے کہاکہ چھوٹی چھوٹی گلیوں کی سڑک کنکریٹ کی تعمیر کر دی گئی ہےجس کی وجہ سے درخت گر رہے ہیں۔ جہاں جہاں درخت گرنے کا اندیشہ ہےوہاں احتیاطی اقدامات کئے جائیں تا کہ جانی اور مالی نقصان نہ ہو۔
خطرناک عمارت کے مکینوں کو متبادل مکان دیاجائے
رکن کونسل بھائی جگتاپ نے کہا کہ سی ون کا نوٹس لگا کر عمارت خالی کروا دی جاتی ہے اور مکینوں کو بے سہارا چھوڑ دیا جاتا ہے۔اسی لئے مکین خطرناک ہونے باوجود نہیں چالی اور عمارتیں خالی نہیں کرتےہیں ، لہٰذا انہیں متبادل جگہ دینا چاہیے ۔ کابینی وزیر گریش مہاجن نے کونسل کو وزیر اعلیٰ منگل کو ایوان میں مانسون کےحادثات پر تفصیلی وضاحت کریں گے۔
قانون ساز اسمبلی میں وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے کہا کہ ممبئی میں گزشتہ روز ۵۰؍ کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ہوائیں چلی ہیں جس کی وجہ سے درخت گرنے کے حادثات ہوئے ہیں۔ ہر سال مانسون میں ۸۰۰؍ درخت گرنے ہیںلیکن کل محض ایک دن میں ۳۵۰؍ درخت گرے ہیں ۔ منگل کو ۷۰؍ تا ۹۰؍ کلو میٹر کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا اندیشہ ظاہر کیاگیا ہے اسی لئے نجی کمپنیوں کےملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اپیل کی گئی ہے ۔‘‘
مانخورد میں جو عمارت گری وہ غیر قانونی تھی
وزیر اعلیٰ نے ایوان اسمبلی میں بتایا کہ ’’ اتوار کو مانخورد میں جو عمارت گرنے کا حادثہ ہوا ہے وہ افسوسناک ہے ۔ جو عمارت گری وہ غیر قانونی تھی۔ اس حادثہ میں جو ۶؍افراد ہلاک ہوئے ہیں ، وہ عمارت میں رہنے والی نہیں بلکہ عمارت کے بازو میں واقع جھوپڑ پٹی میں رہنے والے تھے۔انہوںنے کہاکہ’’ ممبئی ۔ پونے مسنگ لنک پر پتھر گرے ہیں ، یہ تمام حادثات قدرتی آفت ہے۔یہ حادثات تیاریوں سے کئی گناہ زیادہ ہوئےہیں ۔ ‘‘