• Mon, 14 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یمن: حوثیوں کا سعودی عرب پرپھر حملوں کا دعویٰ

Updated: September 14, 2026, 3:25 PM IST | Agency | Jizan

نجران اور جیزان کو نشانہ بنایا، مسجد سمیت متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کوشدید نقصان، اسلحہ گوداموں، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور دیگر فوجی تنصیبات پر حملے،۲؍ زخمی۔

The conflict between Yemen`s Houthi rebels and Saudi Arabia is intensifying. Photo: INN
یمن کے حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازع شدید ہوتا جارہا ہے۔ تصویر: آئی این این

سعودی عرب کے علاقے جیزان میں یمنی حوثیوں کے میزائل حملے میں دو افراد زخمی ہوگئے، جبکہ مسجد، متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔سعودی سول ڈیفنس کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ حکام نے حملے کے بعد متاثرہ علاقے میں ضروری کارروائی شروع کردی ہے۔اس سے قبل یمن کی حوثی تحریک انصار اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب نے ۴۸؍ گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں ۱۲۹؍ فضائی حملے کیے ہیں۔ انصار اللہ نے کہا کہ ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حملہ جنوبی سعودی عرب میں واقع شرورہ فوجی اڈے پر کیا گیا۔ان کے مطابق حملوں میں سعودی عرب کے اسلحہ گوداموں، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حملے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے انجام دیے گئے۔یحییٰ ساری نے حملے کے وقت یا ممکنہ نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم انھوں نے سعودی عرب کو خبردار کیا کہ اگر یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو سعودی سرزمین کے اندر مزید وسیع اور شدید حملے کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: اخوان المسلمون کے خلاف خفیہ مہم میں کلاؤڈ اے آئی کے استعمال کا انکشاف

تاحال سعودی حکام کی جانب سے حوثیوں کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔دوسری جانب رائٹر نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی نے امریکہ کو ایک نئی مشکل میں ڈال دیا ہے، حوثیوں کی پیش قدمی اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول کے قریب پہنچ گئی اور اس پیش رفت سے امریکہ کیلئے خطے میں ایک نیا سیکوریٹی چیلنج پیدا ہو گیا ہے۔رائٹر نے لکھا کہ ایران کے اتحادی حوثیوں نے اتنی برق رفتاری سے کارروائی کی ہےکہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ اس صورتِ حال نےجبکہ ایران کے ساتھ ان کی جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے ایک نیا بڑا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کا تنازعہ پھیلتا جا رہا ہے، اس کے ساتھ ہی حوثی جنگجوؤں نے یمن کے ساحلی علاقے میں جنوب کی جانب پیش قدمی کر لی ہے، جس سے باب المندب آبنائے کو بند کرنے کی ان کی صلاحیت بڑھ گئی ہے۔ یہ صورتِ حال امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے نئی مشکل ہےکیونکہ ایران کے ساتھ جنگ پہلے ہی ساتویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے اور امریکی معیشت پر جنگ کے اثرات، خصوصاً پٹرول کی بلند قیمتیں، سیاسی مسئلہ بن رہی ہیں۔دوسری جانب محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے امریکی فوجی مدد مانگی، مگر واشنگٹن نے فی الحال براہِ راست فوجی مداخلت سے انکار کیا ہے، البتہ انٹیلی جنس مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق حوثیوں نے بھی امریکی انتظامیہ سے رابطہ کر کے امریکہ سے براہِ راست جنگ میں شامل نہ ہونے کی درخواست کی ہے۔امریکہ فی الحال یہ چاہتا ہے کہ علاقائی اتحادی خود علاقائی سلامتی کے معاملات کی قیادت کریں، جبکہ واشنگٹن بحیرۂ احمر میں آزادانہ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے پر توجہ دے۔ 

’’حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں، ایران سعودی سے نہیں لڑ رہا ہے‘‘

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران سعودی عرب کے ساتھ حالت  جنگ میں نہیں ہے اور یمنی حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں۔ انہوں نے خطے کے تمام ممالک پر زور دیا کہ ایک میز پر بیٹھ کر امن و سلامتی کے قیام کے لیے کوشش کریں۔ایرانی صدر نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر پیر کو مسقط میں ہونے والے متوقع اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں وہ تمام ممالک شریک ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملے کئے گئے ہیں۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اپنے بین الاقوامی حقوق کا خواہاں ہے، جنگ نہیں چاہتا اور اب بھی امن کو ترجیح دیتا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK