• Mon, 14 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی مارچ کے دوران مجھے گولی مارنے کی سازش ہے: جرنگے

Updated: September 14, 2026, 4:01 PM IST | Agency | Jalna

الزام لگایا کہ مجوزہ ’پرامن‘ مارچ کے دوران انہیں ہلاک کرنے اور گڑبڑ پیدا کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ کہا : میں موت قبول کر لوں گا لیکن ہتھیار نہیں ڈالوں گا۔

Maratha leader Manoj Jarange-Patil addressing a gathering during a hunger strike in Jalna. Photo: INN
جالنہ میں بھوک ہڑتال کے دوران مراٹھا لیڈر منوج جرنگے پاٹل خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

سماجی کارکن منوج جرنگے پاٹل نے اتوار کوالزام لگاتے ہوئے کہ مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے کیلئے ممبئی تک ان کے مجوزہ ’پرامن‘ مارچ کے دوران انہیں ہلاک کرنے اور گڑبڑ پیدا کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ کسی بھی دباؤ کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔

انترولی سراٹی  میں جاری احتجاج کے مقام پراپنے حامیوں اور میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے منوج جرنگے جن کی بھوک ہڑتال کا اتوار کو۱۶؍واں دن تھا ‘نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعتوں سے وابستہ افراد کو اس مارچ میں بھیجا جا سکتا ہے تاکہ افراتفری پھیلائی جا سکے اور انہیں نشانہ بنایا جا سکے۔  انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں موت قبول کر لوں گا لیکن ہتھیار نہیں ڈالوں گا۔‘‘یہ بھی کہا  کہ ممبئی میں   احتجاج سے قبل اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے حکومت کے پاس اب بھی ۸؍ دن کا وقت ہے۔‘‘ منوج جرنگے نے کہا کہ ’’جب کوئی سانپ کی دم پر پاؤں رکھے گا تو ہمیں ردعمل ظاہر کرنا ہی پڑے گا۔‘‘اور متنبہ کیا کہ ان کے حامی کچھ وزراء کو سیاسی طور پر چیلنج کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دہشت گرد اب نوجوانوں اور بچوں کو نشانہ بنانے کے لئے گیمنگ پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں: یواین

وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو ہدف بناتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ اقتدار میں موجود لوگ ان کے خلاف سازش کر رہے ہیں  اور دعویٰ کیا کہ ممبئی کی جانب ان کے مجوزہ ’مراٹھا مارچ‘ کے دوران گڑبڑ پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

اتوار کومنوج جرنگے نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی اور ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا کے کچھ مراٹھا  اراکین اسمبلی   نےان کے حامیوں کو فون کر کے انہیں مارچ میں شرکت نہ کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ ا نہوں نے ا لزام لگایا کہ مارچ کے دوران مجھے گولی مارنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ وہ مراٹھوں کو نہیں بلکہ مجھے نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔  انہوں نے  دو ٹوک الفاظ میں کہاکہ ’’میں ہتھیار نہیں ڈالوں گا۔‘‘

منوج جرنگے پاٹل نے اپنے حامیوں پر زور دیا کہ اگر وہ خوفزدہ ہیں تو اس میں شامل نہ ہوں لیکن جذباتی اپیل کی کہ انہیں ممبئی تک مارچ کرنا چاہئے  اور اگر ضرورت پڑے تو ان کی آخری رسوم میں بھی شرکت کرنی چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: اخوان المسلمون کے خلاف خفیہ مہم میں کلاؤڈ اے آئی کے استعمال کا انکشاف

جرنگے نے کہا کہ وہ۱۵؍ ستمبر کو ممبئی  کیلئے انترولی سراٹی  سے روانہ ہوں گے۔ اور ۱۹؍ستمبر کو ممبئی پہنچیں گے اور صبح ۱۰؍ بجے آزاد میدان میں بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔انہیں قانون اور عدلیہ پر یقین ہے۔انہوںنے یہ بھی بتایا  کہ احتجاج کی اجازت کیلئے درخواست دی  گئی ہے اور حکومت اس تحریک پر شرائط عائد کر سکتی ہے۔انہوں نے مزید  کہا کہ انہوں نے اس سے قبل ایکناتھ شندے پر اعتماد کیا تھا اور مراٹھا کوٹہ کے مطالبات پر جی آر جاری ہونے کے بعد جنوری۲۰۲۴ء میں نوی ممبئی کے علاقے واشی سے   لوٹ گئے تھے۔

انہوں نے سوال کیا کہ ’’جب ہم نے شندے کو اعزاز سے نوازا تھا تو مراٹھے انہیں عزیز تھے۔ اگر فرنویس ہمارے تمام مطالبات تسلیم کر کے یہ لڑائی جیت جاتے ہیں  تو دوسروں کا کیا بنے گا؟‘‘ انہوںنے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے یا اپنے ساتھیوں کے خلاف حکومت کی جانب سے تحقیقات سے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ’’ اگر تحقیقات کا حکم بھی دے دیا جائے تب بھی میں ہتھیار نہیں ڈالوں گا۔ میں موت قبول کر لوں گا لیکن ہتھیار نہیں ڈالوں گا۔‘‘

سڑکوں اور گرام پنچایت کی چھت سے لوگوں نےمنوج جرنگے کی تقریر سنی 

مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے کی جاری تحریک کے پس منظر میں منوج جرنگے پاٹل کی جانب سے  اتوار کوانترولی سراٹی میں بلائی گئی میٹنگ میں ریاست کے مختلف حصوں سے ہزاروں کی تعداد میں مراٹھا برادری کے افراد پہنچے۔ بڑی تعداد میں شرکاء   کے باعث میٹنگ کیلئے لگایا گیا خیمہ ناکافی ثابت ہوا   جس کے بعد کئی افراد سڑک پر کھڑے ہوکر  جبکہ کچھ لوگوں نے گرام پنچایت کی چھت پر جاکر جرنگے پاٹل کی تقریر سنی۔بڑی تعداد میں پہنچنے والے حامیوں کو کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے، اس  کیلئے   گودا پٹی کے۱۲۳؍ گاؤں کے باشندوں نے اجتماعی طور پر انتظامات کی ذمہ داری سنبھالی۔

مختلف گاؤں سے آئے شہری اور رضاکار صبح سے ہی انتظامی امور میں مصروف رہے۔ شرکاء کیلئے کھانے اور پانی کا انتظام، بھیڑ کو منظم کرنا اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے رضاکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔میٹنگ دوپہر ۱۲؍ بجے شروع ہونی تھی، تاہم مراٹھا رضاکار صبح۷؍ بجے سے ہی انترولی سراٹی پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔ مغربی مہاراشٹر سے آنے والے بعض افراد جمعہ کی رات ہی انترولی پہنچ کر قیام کرچکے تھے۔ مراٹھا ریزرویشن کی تحریک کے پیش نظر۱۲؍ ستمبر کی اس میٹنگ پر پوری مراٹھا برادری کی نظریں مرکوز تھیں۔میٹنگ کے مقام پر۱۲۳؍ گاؤں کے باشندوں کی جانب سے کئے گئے انتظامات نمایاں طور پر نظر آئے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK