• Mon, 14 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اخوان المسلمون کے خلاف خفیہ مہم میں کلاؤڈ اے آئی کے استعمال کا انکشاف

Updated: September 14, 2026, 3:15 PM IST | Agency | Washington

اے آئی کمپنی انتھروپک کے مطابق اس کیلئےانسانی حقوق کی جعلی تنظیم بنائی گئی ، فرضی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے گئے اورا قوام متحدہ کے بیانات تک ریکارڈ کئےگئے۔

The Muslim Brotherhood has held political sway in Egypt. Photo: INN
مصر میں اخوان المسلمون کا سیاسی دبدبہ رہ چکا ہے۔ تصویر: آئی این این

مصنوعی ذہانت کمپنی انتھروپک کے مطابق متحدہ عرب امارات کے حکام کی ہدایت پر مبینہ طور پر چلائی جانے والی ایک خفیہ اثرانداز مہم میں کمپنی کے کلاؤڈ اے آئی چیٹ بوٹ کا استعمال اخوان المسلمون کے خلاف عالمی سطح  پر منفی شبیہ مہم چلانےکیلئے کیا گیا۔ اینتھرو پک کی جانب سے۱۰؍ستمبر کو جاری کی گئی تھریٹ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایک جعلی انسانی حقوق کی تنظیم بنائی گئی، اقوامِ متحدہ کے لیے بیانات تیار کیے گئے، جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے گئے اور یوروپی قانون سازوں اور صحافیوں کے پروفائلز مرتب کیے گئے۔ یہ کارروائی رپورٹ میں زیر جائزہ لیے گئے۹؍ واقعات میں شامل تھی۔ رپورٹ میں دسمبر۲۰۲۵ء سے اگست۲۰۲۶ء کے درمیان انتھرو پک کے اے آئی ماڈلز کے غلط استعمال کے معاملات کا جائزہ لیا گیا تھا۔انتھرو پک نے کہا کہ اسے’مکمل یقین‘ ہے کہ اس مہم کی ہدایات متحدہ عرب امارات کی حکومت کے حکام کی جانب سے دی گئی تھیں۔ کمپنی کے مطابق اس کارروائی سے منسلک ایک داخلی دستاویز میں متحدہ عرب امارات کی اعلیٰ شخصیات کو اس کام کے مطلوبہ وصول کنندگان کے طور پر شناخت کیا گیا تھا۔ متحدہ عرب امارات نے ان الزامات پر تاحال عوامی طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر بھی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہشت گرد اب نوجوانوں اور بچوں کو نشانہ بنانے کے لئے گیمنگ پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں: یواین

انتھرو پک نے کہا کہ یہ نتائج اس کی اپنی تحقیقات پر مبنی ہیں کیونکہ کمپنی کی اے آئی سروس کو اس کارروائی میں استعمال کیا گیا تھا۔ کمپنی کے مطابق متعلقہ اکاؤنٹ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اضافی حفاظتی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ اینتھرو پک نے یہ بھی کہا کہ اس نے کارروائی سے متعلق معلومات دیگر اداروں کے ساتھ بھی شیئر کی ہیں۔ مبینہ طور پر اس کارروائی میں تقریباً۳۰۰؍جعلی سوشل میڈیا انفلوئنسر اکاؤنٹس شامل تھے۔ اس کے علاوہ ایک ایسی فرنٹ تنظیم بھی قائم کی گئی جس نے سوئٹزرلینڈ میں موجود ایک حقیقی انسانی حقوق کی تنظیم کی شناخت کی نقل کی اور ایسی رپورٹس شائع کیں جنہیں آزادانہ مواد کے طور پر پیش کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK