القدس میئر آفس کے مطابق مسجد اقصیٰ کے صحن میں تلمودی رسومات بھی ادا کی گئیں۔ اس کے پیش نظر فلسطینیوں سے مسجد اقصیٰ کی طرف سفر کرنے ، رباط کو تیز کرنے اور یہودی انتہاپسندوں کی ان کوششوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اپیلیں۔
مسجداقصیٰ کے صحن میں یہودی انتہاپسند اور پولیس اہلکار نظر آرہے ہیں۔ تصویر: آئی این این
مقبوضہ بیت المقدس میں سیکڑوں یہودی انتہاپسندوں نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔ عرب میڈیا کے مطابق اتوار کی صبح۴۸۰؍ یہودی انتہاپسند مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہوئے۔القدس میئر آفس کے مطابق یہودی انتہاپسندوں نے مسجد اقصیٰ کے صحن میں تلمودی رسومات بھی ادا کیں۔ اس کے پیش نظر فلسطینیوں کی طرف سے مسجد کی طرف سفر کرنے ، رباط کو تیز کرنے اور یہودی انتہاپسندوں کی ان کوششوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اپیلیں کی جا رہی ہیں۔
بیت المقدس کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران تقریباً ایک ہزار ۲۳۶؍ یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کے صحنوں پر دھاوے بولے اور اس دوران اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں تلمودی رسومات، دعائیں اور ’عظیم سجدے‘ ادا کئے۔اس کے برعکس اسرائیلی پولیس نے فلسطینیوں کے مسجد اقصیٰ تک پہنچنے پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور یہودی تہواروں کی آمد کے قریب ہونے کے سائے میں مختلف ادوار کیلئے مسجد سے جلاوطنی کی مہمات میں تیزی کے ساتھ اس کے دروازوں پر ان کے شناختی کارڈ ضبط کر رہی ہے۔
اس کے پیش نظر ’حماس‘ کے رہنما ماجد ابوقطیش نے مقبوضہ بیت المقدس، مغربی کنارے اور اندرونِ ملک کے فلسطینی عوام کو مسجد اقصیٰ کی طرف سفر کرنے اور اس کے صحنوں میں رباط تیز کرنے کی دعوت دی جو ’ہیکل‘ کے گروہوں کی نقل و حرکت اور مسجد کے اندر اپنی رسومات مسلط کرنے کی کوششوں کے ساتھ موافق ہے۔ابو قطیش نے فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ اقصیٰ میں اپنی موجودگی کو تیز کریں، قابض اسرائیل اور یہودی آبادکاروں کے اس منصوبے کو ناکام بنائیں جس کا مقصد دھاوؤں اور تلمودی رسومات کو مسجد کے اندر ایک معمول کا منظر بنانا ہے۔مرکز اطلاعات فلسطین کی خبر کے مطابق انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کا ہر قدم مسجد کے مقام اور اس کی اسلامی شناخت کو نشانہ بناتا ہے اور یہودیٹائزیشن اور تقسیم کے مزید اقدامات کا راستہ کھولتا ہے نیز بیت المقدس اور اس کے اہل کیلئے وسیع ترین عوامی حمایت کی دعوت دی۔ابو قطیش نے اس بات کی تصدیق کی کہ مسجد اقصیٰ کی حفاظت ایک فلسطینی، عرب اور اسلامی ذمہ داری ہے۔ ان منصوبوں کے سامنے لاپروائی قابض اسرائیل کو مزید آگے بڑھنے کیلئے اضافی جگہ دیتی ہے۔
حماس کے رہنما نے عرب اور اسلامی ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور مقبوضہ بیت المقدس شہر کو یہودیٹائز کرنے کی قابض اسرائیل کی تیز رفتار کوششوں کو روکنے کیلئے سیاسی، عوامی اور میڈیا کی سطح پر حرکت میں آئے۔