Inquilab Logo Happiest Places to Work

’غیر قانونی تجاوزات‘ کیلئے یوگی سرکار کا یادوؤںاور مسلمانوں پر نشانہ، احتجاج کے بعدفرمان واپس

Updated: August 06, 2025, 9:49 AM IST | Lucknow

ہدایت نامے میں تمام ضلع مجسٹریٹس کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ ’غیر قانونی قبضوں ‘ کیخلاف ایک خصوصی مہم شروع کریں جو خاص طور پر یادو ذات اور مسلم برادری کو نشانہ بناتی ہو

Uttar Pradesh Chief Minister Yogi Adityanath
اُترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ

ایک متنازع ہدایت نامہ، جو ڈائریکٹوریٹ آف پنچایتی راج، اتر پردیش کی جانب سے جاری کیا گیا، نے شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ اس ہدایت نامے میں تمام ضلعی مجسٹریٹس کو حکم دیا گیا کہ وہ ریاست بھر کی دیہی زمینوں پر مبینہ ’غیر قانونی قبضوں ‘ کے خلاف ایک خصوصی مہم شروع کریں جو خاص طور پر یادو ذات اور مسلم برادری کو نشانہ بناتی ہو۔ ۲۹؍ جولائی۲۰۲۵ء کو جاری کردہ ایک خط میں، ڈائریکٹوریٹ نے بی جے پی کسان لیڈر وویک کمار سریواستو کی  اپیل پر کارروائی کرتے ہوئے تمام ضلعی مجسٹریٹس کو ہدایت دی کہ وہ ’ایک خاص ذات (یادو) اور ایک خاص مذہب (مسلمان)‘کے افراد کی جانب سے ۵۷؍ ہزار ۶۹۱؍ گرام پنچایتوں میں مبینہ غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائی کریں۔ 
 پنچایتی راج کے جوائنٹ ڈائریکٹر، سریندر ناتھ سنگھ کی جانب سے جاری کردہ ہدایت میں کہا گیا کہ’’یہ گزارش کی گئی ہے کہ مناسب ہدایات جاری کی جائیں تاکہ گرام سبھا کی زمینیں، تالاب، کھاد کے گڑھے، مویشیوں کے باڑے، کھیل کے میدان، شمشان گھاٹ اور گرام پنچایت کی عمارتوں کویادو اورمسلمانوں کے غیر قانونی قبضوں سے آزاد کرایا جا سکے۔ ‘‘یہ ہدایت نامہ بی جے پی لیڈر سریواستو کے وزیر اعلیٰ کو۶؍ جولائی ۲۰۲۵ء کو لکھے گئے خط کی نقل کے ساتھ جاری کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں شدت اس وقت آئی جب۳؍ اگست کو بلیا ضلع کے پنچایتی راج افسر، اوینیش کمار سریواستو نے بلاک ڈیولپمنٹ افسران کو ایک فالو اپ حکم نامہ جاری کیا۔ بلیا کے افسر نے لکھا کہ’’براہ کرم اپنے اپنے بلاکس میں مہم چلا کر مذکورہ برادریوں کے غیر قانونی قبضے سے گرام سبھا کی املاک کو آزاد کرانے کیلئے ضروری کارروائی کریں۔‘‘ یہ ہدایت نامہ سامنے آتے ہی شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔ بہت سے لوگوں نے اسے ’غیر آئینی،فرقہ وارانہ اورذات پر مبنی امتیاز‘قرار دیا اور اسے’سیاسی مقاصد کے تحت کیا گیا اقدام‘ کہا جو آئین کے آرٹیکل۱۴؍ اور۱۵؍ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس پر سی بی آئی انکوائری اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
  عوامی دباؤ کے بعد یہ حکم فوراً واپس لے لیا گیا اور سریندر ناتھ سنگھ کو معطل کر دیا گیا۔ سماجوادی پارٹی کے لیڈرآئی پی سنگھ نے اس اقدام کو ’چھوٹی مچھلی کی قربانی‘ قرار دیا ہے۔ بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد نے اس حکم کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ’’یادو اور مسلم برادریوں کو نشانہ بناتے ہوئے گرام سبھا کی زمینوں سے قبضہ ہٹانے کا جو حکم یوگی آدتیہ ناتھ کے محکمہ پنچایتی راج کے افسروں کی جانب سے جاری کیا گیا، وہ نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ گہری ذات پرستی اور فرقہ واریت کا مظہر ہے۔ ‘‘انہوں نے الزام لگایا کہ یہ حکم ’سیاسی محرکات کے تحت‘ جاری کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK