الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا کہ پولیس صوابدیدی طور پر ہسٹ شیٹس ( جرائم کے رجسٹر) نہیں کھول سکتی،عدالت نے زور دے کر کہا کہ اس کے لیے معقول اور قابل اعتماد مواد ضروری ہے۔
EPAPER
Updated: August 30, 2025, 5:06 PM IST | Lukhnow
الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا کہ پولیس صوابدیدی طور پر ہسٹ شیٹس ( جرائم کے رجسٹر) نہیں کھول سکتی،عدالت نے زور دے کر کہا کہ اس کے لیے معقول اور قابل اعتماد مواد ضروری ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک مسلمان شخص کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ پولیس صوابدیدی طور پر ہسٹ شیٹس ( جرائم کے رجسٹر) نہیں کھول سکتی۔ عدالت نے زور دے کر کہا کہ اس کے لیے معقول اور قابل اعتماد مواد ضروری ہے۔ درخواست دہندہ کو ناکافی بنیاد پر نگرانی کے رجسٹر میں شامل کیا گیا تھا۔عدالت نے کہا، ’’ہمارا متفقہ خیال ہے کہ ضابطے۲۲۸؍ اور۲۴۰؍ پولیس کو یہ غیر محدود، غیر مربوط اختیار نہیں دیتے کہ وہ اسے اس طرح استعمال کریں جس کا لازمی نتیجہ شہری کی بنیادی آزادی کو سلب کرنا ہو۔‘‘
الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سدھارتھ اور جسٹس سنتوش رائے کی ڈویژن بنچ نے سدھارتھ نگر کے سپرنٹنڈنٹ پولیس کے جون ۲۰۲۵ء کے حکم نامے کو کالعدم قرار دے دیا، جس میں محمد وزیر کی ہسٹ شیٹ بند کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ بنچ نے کہا کہ یو پی پولیس ریگولیشن کے ضابطے ۲۲۸؍اور۲۴۰؍ پولیس کو یہ اختیار نہیں دیتے کہ وہ معقول اور قابل اعتماد مواد کے بغیر شہریوں کی بنیادی آزادیوں کو محدود کرنے والے اقدامات کرے۔درخواست دہندہ نے دلیل دی کہ محمد وزیر کوئی عادی مجرم نہیں ہے۔ گائے ذبیحہ ایکٹ کی دفعہ ۷/۵/۳ ؍کے تحت صرف ایک مقدمہ، ان کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کی تفتیش پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے، عدالت میں چارج شیٹ دائر کی جا چکی ہے، اور درخواست دہندہ کو ضمانت مل چکی ہے۔مذکورہ مقدمے کے علاوہ ان کے خلاف کوئی دیگر ایف آئی آر، این سی آر یا شکایت درج نہیں کی گئی ہے۔انہوں نے دلیل دی کہ، ’’متعلقہ پولیس اتھارٹی نے معقول اور قابل اعتماد مواد کے بغیر اور اتر پردیش پولیس ضوابط اور دیگر متعلقہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درخواست دہندہ کے خلاف ہسٹ شیٹ غلط طریقے سے کھولی ہے۔‘‘انہوں نے مزید دلیل دی کہ ہسٹ شیٹ نمبر۱۸؍ اے کے زمرے کے طور پر کھولی جانا مکمل طور پر ’’غیر قانونی‘‘ ہے اور یہکالعدم قرار دیے جانے کے قابل ہے۔
واضح رہے کہ پولیس ریگولیشن کے تحت ہسٹ شیٹ کھولنے کا مقصد پولیس کے ہاتھوں میں خصوصی اختیار دینا ہے تاکہ وہ ہشٹ شیٹرکی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکے جو ممکنہ طور پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ہسٹ شیٹس صرف ان افراد کے لیے کھولی جانی چاہئیں جو عادی مجرم ہیں یا ایسے مجرموں کے معاون ہونے کا امکان رکھتے ہیں۔الہ آباد ہائی کورٹ نے درخواست دہندہ محمد وزیر کے خلاف کھولی گئی ہسٹ شیٹ کو کالعدم قرار دے دیا، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ ان کے خلاف۲۰۱۶ء میں یو پی گائے ذبیحہ ایکٹ کے تحت صرف ایک مقدمہ درج ہوا تھا اور اس کے بعد سے کوئی دیگر مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے وزیر کی ہشٹ شیٹ بند کرنے کی درخواست کو ’’بہت سرسری طور پر‘‘ مسترد کر دیا تھا، بغیر کسی مضبوط مواد کے، حالانکہ پولیس ریگولیشن کے تحت مطلوب عادی مجرم ثابت کرنے والا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ایک ٹیچر کا تبادلہ منسوخ کروانے کیلئے گائوں کے تمام باشندے متحد
گوند بمقابلہ ریاست مدھیہ پردیش (۹۷۵ء) اور ملک سنگھ بمقابلہ ریاست پنجاب اور ہریانہ (۱۹۸۰ء) میں سپریم کورٹ کے سابقی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے، بنچ نے کہا کہ اگرچہ پولیس ریگولیشن کو قانونی حیثیت حاصل ہے، لیکن انہیں شہریوں کو خودساختہ طور پر نگرانی میں رکھنے کے لیے غلط استعمال نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ’’پولیس کے پاس نگرانی کے رجسٹر میں اپنی پسند یا ناپسند کے کسی بھی شخص کا نام درج کرنے کا کوئی لائسنس نہیں ہے۔‘‘عدالت نے کہا، ’’عام طور پر صرف ان افراد کے نام جن کا پہلے سے مجرمانہ ریکارڈ ہو، نگرانی کے رجسٹر میں درج کیے جاتے ہیں۔عدالت نے مزید کہا کہ، ’’ہم مطمئن ہیں کہ درخواست دہندہ کے معاملے میں نگرانی کی ضرورت کو برقرار رکھنے کے لیے کوئی معقول جواز موجود نہیں تھا۔‘‘آٹھ سال پرانے مقدمے کو نگرانی کی جواز قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے، عدالت نے وزیر کی رٹ پٹیشن کو منظور کرتے ہوئے ہسٹ شیٹ کو کالعدم قرار دینے کا حکم دیا۔