ویڈیو شیئر کرنے پر کارروائی،۸؍ ایف آئی آر درج ، کانگریس میدان میں اُتری، سوال کیا کہ اگر ویڈیو اے آئی سے بنے ہیں تو مورتیاں عوام کے سامنے پیش کریں۔
کانگریس لیڈر اجے رائے لکھنؤ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
بنارس (ایجنسی): ترقی اور خوبصورت بنانے کے نام پر بنارس کے منی کرنیکا گھاٹ پر مورتیوں کو توڑے جانے سے متعلق ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد سے یوگی حکومت تنقیدوں کی زد پر ہے۔ اس سے نمٹنے کیلئے اتر پردیش سرکار نے مذکورہ ویڈیوز کو ’’اے آئی سے بنایا ہوا‘‘قرار دے کر انہیں شیئر کرنےوالوں کےخلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔اس کیلئے ۸؍ ایف آئی آر بھی درج کرلی گئی ہیں۔ تاہم اب کانگریس نے میدان میں اتر تے ہوئے بی جےپی حکومت کی قلعی کھولنے کی کوشش کی ہے۔ یوپی کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے نے لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’اگر مورتی سے متعلق ویڈیو اے آئی سے تیار کردہ ہے تو اس کے ٹھوس ثبوت عوام کے سامنے پیش کئے جائیں، ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا جائے کہ وہ مورتی کہاں گئی اور فی الحال کس جگہ پر رکھی گئی ہے۔‘‘
کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’حکومت کے افسران اور وزراء اس بات کو قبول کر رہے ہیں کہ مورتی توڑی گئی ہے جبکہ دوسری جانب اسے’ اے آئی ویڈیو‘ بتا کر سچ کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ تضاد خود حکومت کی نیت پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔‘‘ اجے رائے نے یاد دہانی کرائی کہ سنیچر کو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بنارس کے دورے پر تھے۔ ان کا منی کرنیکا گھاٹ جانے کا پروگرام تھا، لیکن اسے اچانک منسوخ کر دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوال یہ ہے کہ آخر یہ دورہ کیوں منسوخ کیا گیا؟ کیا اس لیے کہ سچائی سامنے نہ آ جائے؟اجے رائے نے کہا کہ جائے وقوعہ پر گئے بغیر، زمینی حقیقت دیکھے بغیر صرف پریس کانفرنس کر دینا اور جو لوگ سچ بول رہے ہیں ان پر مقدمے درج کرانا جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی پر براہ راست حملہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کانگریس واضح کرتی ہے کہ کاشی کے عقیدے، ثقافت اور وراثت کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کی جائے گی ،سچ کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔متعلقہ خبر صفحہ ۸؍ پر