۲۵؍ سالہ راجیو چودھری نے یہ ڈیش بورڈ اُن مظاہرین کی بحفاظت گھر واپسی کیلئے بنایا ہے جنہیں حراست میں لینے کے بعد پولیس دور دراز علاقوں میں لے جاکر چھوڑ دیتی ہے۔
EPAPER
Updated: October 18, 2026, 4:16 PM IST | Owais Siddiqui | Mumbai
۲۵؍ سالہ راجیو چودھری نے یہ ڈیش بورڈ اُن مظاہرین کی بحفاظت گھر واپسی کیلئے بنایا ہے جنہیں حراست میں لینے کے بعد پولیس دور دراز علاقوں میں لے جاکر چھوڑ دیتی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر اور ایس آئی آر کے خلاف مظاہروں کے بیچ دہلی پولیس کی جانب سے مظاہرین کو حراست میں لے کر دور درازعلاقوں میں چھوڑ دیا جاتاہے۔ کئی مظاہرین نے بتایا کہ انہیں ایسے علاقوں میں لے جاکر رہاکیا گیا جو کافی دور ہیں اور دیر رات رہا کیاگیا اس لئے کیب یا واپسی کا کوئی اور ذریعہ ملنا مشکل تھا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے ایک ۲۵؍ سالہ نوجوان نے اے آئی کے ذریعے ’ ڈیٹینی گھر واپسی یوجنا ‘ نام سے ایک ڈیش بورڈ بنا دیا ہے۔
’ڈیٹینی گھر واپسی یوجنا ‘ ڈیش بورڈ کیسے کام کرتا ہے؟
یہ اے آئی کے ذریعے ڈیزائن کیا گیا ایسا ڈیش بورڈ ہے جس کے ذریعے حراست میں لئے گئے نوجوانوں کو ٹریک کیا جا تا ہے کہ انہیں کہا ں لے جایا جا رہا ہےیا کس راستے سے لے جایا جا رہا ہے۔ اس ڈیش بورڈ کو دہلی کے ایک ۲۵؍ سالہ نوجوان راجیوچودھری نے بنایا ہے۔ راجیو نے انقلاب سے خصوصی بات چیت میں بتایا کہ، یہ کوئی ویب سائٹ نہیں بلکہ بیکیڈہے جو انہوں نے کلاؤڈ اے آئی کے ذریعے بنایا ہے۔ ان کے مطابق ’’اس کے ذریعے ہم کوشش کرتے ہیں کہ جن طلبہ کو احتجاج کے مقام سے حراست میں لیا گیا ہے ان کو ٹریک کیا جائے اورانہیں جس بھی مقام پر لے جایا گیا ہے وہاں پہنچ کر طلبہ کو کھانا، پانی، طبی اور قانونی ضروریا ت سے متعلق امداد پہنچائی جا سکے۔ ‘‘
اب تک تقریباً۱۸۰۰؍ سے زائد لوگوں کی مدد
اس ڈیش بورڈکے ذریعے اب تک تقریباً ۱۸۰۰؍ سے زیادہ افراد کو مدد پہنچائی جا چکی ہے۔ ڈیش بورڈ کے تکنیکی پہلو کے تعلق سےراجیو نے بتایا کہ ’’ہم نے اس نیٹ ورک کو سوشل میڈیا کے ذریعے عام کر دیا ہے جب احتجاج کے دوران طلبہ کو حراست میں لیا جاتا ہےتو وہ ہم سے رابطہ کر تے اور اپنی لائیو لوکیشن بھیج دیتے ہیں۔ کئی بار بس یا گاڑی کا نمبر بھی ہم سے شیئر کرلیتے ہیں جس کےبعد ہم انہیں ٹریک کرکے اپنےوکیلوں اور طبی عملہ کی ٹیم کو اس مقام پر تمام کھانے پینے اور دیگر ضروری اشیا ء کے ساتھ روانہ کر دیتے ہیں ۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ممبرا کلوا کے ووٹروں کے نام حذف کرنے کی سازش کا دعویٰ
ٹیم کے بغیر یہ کام ناممکن تھا
راجیو نےیہ بھی بتایا کہ یہ ڈیش بورڈ انہوں نے جب بنایا تو انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ اس سے حراست میں لئے گئے طلبہ کیلئے کیسے مفید بنا پائیں گے، لیکن انہوں نے سوشل میڈیاکے ذریعے ہی اسکی تشہیر کی اور محض ایک ہی دن کے اندر کئی سو افراد نے رابطہ کیا اور اس کام کیلئے آمادگی ظاہر کی۔ راجیو کا کہنا ہے کہ رضاکاروں کی ٹیم کے بغیر یہ کام کرنا ا ن کیلئے ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وکیلوں اور ڈاکٹرس کی ٹیمیں بھیجنے کےبعد جب طلبہ کو رہا کیا جاتا ہے تو وہ ان کیلئے کیب اور دیگر گاڑیاں وغیرہ کا انتظام کرکے انہیں باحفاظت ان کے گھروں تک پہنچانے میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔ پورے دہلی این سی آر، فریدآباد، ہریانہ اور نوئیڈا کے مختلف علاقوں سےلوگ ان سے ساتھ والینٹئیر کے طور پرجڑ رہے ہیں جن میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی گاڑیوں کے ذریعے طلبہ کی مدد کرتے ہیں اور انہیں ان کے گھروں تک باحفاظت پہنچاتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس طرح کے تقریباً ۲۰۰؍ ڈرائیورز کا نیٹ ورک فی الحال انکے ساتھ کام کر رہاہے۔
کون ہیں راجیو چودھری؟
راجیوبنیادی طور پرممبئی سے تعلق رکھتے ہیں لیکن گزشتہ کچھ برسوں سےدہلی میں مقیم ہیں۔ پیشہ وارانہ طور پر اپنا کاروبار شروع کرنے والے افراد کی مدد کرتے ہیں اور اے آئی میں خاصی دلچسپی ہے۔ اس طرح کے ڈیش بورڈس بنانے میں ماہر ہیں۔ حالانکہ ان کا گریجویشن کامرس اسٹریم سے ہوا ہے۔ راجیو نےانقلاب کو یہ بھی بتایا کہ ’’میں ذاتی طور پر ان مظاہروں کی حمایت کرتا ہوں اور مظاہرین اور اس کو کو َر کرنےوالے صحافیوں کیلئےکچھ کرنا چاہتاتھا اسی لئے ۳؍ اکتوبر کے احتجاج کے وقت جب میں نے دیکھا کہ طلبہ اور صحافیوں کو کس طرح سے ہراساں کیا جا رہا ہے تو اس ڈیش بورڈ کو بنانے کا خیال آیا اورپھر میں نے اس پر کام شروع کیا اور نتیجہ سامنے ہے، ہم سیکڑوں طلبہ کوراحت پہنچانے میں کامیاب ہو پائےہیں اور ہماری یہ خدمات اب بھی جاری ہے۔ ‘‘