Updated: October 18, 2026, 4:10 PM IST
| Kheda
گجرات کے کھیڑا ضلع میں نوراتری کے وقت ہندو اکثریتی علاقے میںمبینہ تنازع کے دوران ۲۱؍ سالہ مسلم نوجوان کا قتل کر دیا گیا ،نوجوان کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ اسے دانستہ طور پر قتل کیا گیا ، جبکہ زخمی ہونے کے باوجود طبی امداد ملنے میں دیری ہوئی جس کے سبب نوجوان کی موت واقع ہوگئی ۔ فی الحال علاقے میں پولیس کی تعیناتی ہے اور اس معاملے میں دونوں فریقین کی جانب سے ایف آئی آر بھی درج کرائی جا چکی ہے ، ابھی تفتیش جاری ہے۔
گجرات کے ضلع کھیڑا میں واقع ڈاکورقصبے میں نوراتری کی تقریبات کے دوران ۱۴؍ اکتوبر کو ستیم سوسائٹی کے قریب ہونے والے ایک پُرتشدد تصادم میں ۲۱؍ سالہ مسلم نوجوان سلطان اقبال بھائی شیخ کی موت واقع ہوگئی ۔اگرچہ ابتدائی رپورٹس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس تشدد کا سبب مقامی انتخابی سیاست پر ہونے والا تنازع تھا، لیکن سلطان کے اہل خانہ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ یہ دونوں فریقوں کے درمیان کوئی باہمی لڑائی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ سلطان اور ان کے والد پر مخالف گروہ کے لوگوں نے حملہ کیا تھا اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے میں شدید تاخیر کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: مدھیہ پردیش: ٹیچر نےمسلم طلبہ کو دہشت گرد بتایا، پاکستان جانے کہا، طلبہ کا الزام
رشتہ داروں کے مطابق، سلطان ، محمد اقبال شیخ کے اکلوتے بیٹے تھے اور اپنے پورے خاندان میں واحد فرد تھے جنہوں نے تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ ۱۴؍ اکتوبر کی رات ہونے والے اس تصادم میں شدید زخمی ہو گئے تھے۔ ان کے والد بھی اس واقعے میں شدید زخمی ہوئے، جنہیں بعد میں طبی امداد کیلئے لے جایا گیا۔ اہل خانہ نے الزام لگایا کہ جب انہیں سب سے پہلے ڈاکور کے سرکاری اسپتال لے جایا گیا، تو وہاں کے عملے نے ان کے زخموں کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے علاج کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد انہیں تقریباً ایک گھنٹے کے فاصلے پر واقع نڈیاڈ لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے سلطان کو مردہ قرار دے دیا۔سلطان کے چچا الطاف نے بتایا کہ اس دوران قریب ہی نوراتری کی تقریبات جاری تھیں اور علاقے میں تیز آواز میں ڈی جے کی موسیقی کا شور گونج رہا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس زور دار شور کی وجہ سے لوگوں کیلئے یہ سمجھنا مشکل ہو گیا تھا کہ یہ حملہ کس طرح اور کیسے ہو رہا ہے۔ الطاف نے دی آبزرور پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا ، ’’یہ سب کچھ رات کے وقت ہوا۔ ہمیں سمجھ ہی نہیں آیا کہ اصل میں کیا ماجرا پیش آیا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کال کرنے کے تقریباً ۳۰؍ منٹ بعد ایمبولینس پہنچی۔ دی آبزرور پوسٹ کی جانب سے حاصل کی گئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سلطان کی گردن پر شدید زخم ہےاور بہت زیادہ خون بہنے کی وجہ سے وہ زمین پر بے ہوش پڑے ہیں۔ رشتہ داروں کے مطابق، خاندان کی خواتین نے ایمبولینس کا انتظار کرتے ہوئے انہیں بنیادی طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ خون بہنے سے روکنے میں ناکام رہیں۔ واقعے کے بارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سلطان کی والدہ بے ہوش ہو گئیں۔ اہل خانہ کے مطابق، سلطان کے والد اقبال شیخ اور چچا الطاف ڈاکور میں یومیہ اجرت پر مزدوری کرتے ہیں اور ان کی آمدنی بہت معمولی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نوراتری کے بعد مہنگے گربا ملبوسات کی واپسی کا انبار، منترا ڈیلیوری ورکر کا ویڈیو وائرل
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ تصادم ۱۴؍ اکتوبر کی رات تقریباً ۱۱؍ بجے نوی نگری علاقے میں ستیم سوسائٹی کے قریب شروع ہوا۔ یہ جھڑپ مبینہ طور پر پچھلے بلدیاتی انتخابات میں ووٹنگ کے رجحانات اور ایک آزاد امیدوار کی حمایت پر ہونے والی بحث کے نتیجے میں پیش آئی۔ یہ تنازع دیکھتے ہی دیکھتے تیز دھار ہتھیاروں سے لیس سڑک پر ہونے والی لڑائی میں تبدیل ہو گیا۔ اس تصادم میں آٹھ افراد زخمی ہوئے، جن میں پانچ مسلم فریق سے اور تین دوسرے گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ گجرات فرسٹ کی رپورٹ کے مطابق زخمیوں میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔کھیڑا کے ایس پی وجے پٹیل نے بتایا کہ ۱۶؍ افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہےاور دونوں فریقوں سے آٹھ آٹھ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق پولیس نے دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف کراس مقدمات درج کر لئے ہیں اور ڈاکور میں اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دئیے گئے ہیں۔ تاہم، سلطان کے اہل خانہ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ باہمی تصادم تھا اور اصرار کیا کہ سلطان اور ان کے والد پر مخالف گروہ نے حملہ کیا تھا۔
مقامی رپورٹس کے مطابق نڈیاڈ کے ایک مسلم لیڈرنے بھی سلطان کی وفات کے بعد ان کے گھر کا دورہ کیا اور اس واقعے کی شدید مذمت کی۔ واضح رہے کہ ڈاکور ، کھیڑا ضلع کا ایک ہندو اکثریتی قصبہ ہے، جہاں مسلم آبادی نسبتاً بہت کم ہے۔بعد ازاں گجرات کے صحافی سہل قریشی نے بتایا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت کے دور میں ہندو اکثریت کے گروہوں کو ایک طرح کا تحفظ حاصل ہے، جو اس طرح کے پرتشدد جرائم کے بار بار رونما ہونے کا سبب بن رہا ہے۔