• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوٹیوب کی کریئیٹر معیشت نے ۲۰۲۵ء میں ملک کی جی ڈی پی میں ۱۸ ہزار کروڑ روپے کا حصہ ڈالا

Updated: October 06, 2026, 10:05 PM IST | New Delhi

یوٹیوب اپنے ”کریئیٹ وِد اے آئی“ (Create with AI) اقدام کے ذریعے وزارتِ اطلاعات و نشریات اور آئی آئی سی ٹی کے ساتھ بھی تعاون کر رہا ہے اور ورثے کے تحفظ اور روایتی لوک و قبائلی موسیقی کو عالمی سطح پر فروغ دینے کیلئے وزارتِ ثقافت کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے۔ یوٹیوب انڈیا کا کہنا ہے کہ ”ہم ابھرتے ہوئے تخلیق کاروں کو باہمی سیکھنے اور پائیدار آمدنی کے ذرائع سے جوڑنے کیلئے ’یوٹیوب کریئیٹر کلیکٹیوز‘ جیسے پروگراموں کو وسعت دینا جاری رکھے ہوئے ہیں۔“

Photo: X
تصویر: ایکس

آکسفورڈ اکنامکس کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، یوٹیوب کی کریئیٹر معیشت نے ۲۰۲۵ء میں ملک کی جی ڈی پی میں ۱۸ ہزار کروڑ روپے سے زائد کا حصہ ڈالا ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان میں یوٹیوب کے ۱۰ کروڑ سے زیادہ چینلز موجود ہیں، جن میں سے ۱۵ ہزار سے زائد کنٹینٹ کریئیٹرز کے سبسکرائبرز کی تعداد ۱۰ لاکھ یا اس سے زیادہ ہے۔

اس کریئیٹر معیشت نے ملک بھر میں ۹۶۰۰۰۰ سے زائد فل ٹائم ملازمتوں کو سہارا دیا ہے۔ اس کی وجہ سے سنیماٹوگرافرز، ساؤنڈ انجینئرز، اسکرپٹ رائٹرز اور پروڈکشن سے وابستہ پیشہ ور افراد کیلئے پائیدار کریئرز کے مواقع پیدا ہوئے، جبکہ آمدنی حاصل کرنے والے تخلیق کاروں کے ذریعے ۳ لاکھ سے زائد اپرنٹسز کو بھی معاونت فراہم کی گئی۔ یہ ترقی بڑے شہروں سے نکل کر جے پور، لکھنؤ اور کوچی جیسے ٹائر-۲ اور ٹائر-۳ قصبوں کے ساتھ ساتھ دیہاتوں تک بھی پھیل چکی ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال سنجو راٹھوڑ کی ہے، جن کے مراٹھی گانے ”گلابی ساڑی“ نے ۵۰ کروڑ سے زیادہ ویوز حاصل کئے، جس نے علاقائی موسیقی کو عالمی سامعین تک پہنچانے میں مدد فراہم کی۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی بینک نے ہندوستان کی معاشی ترقی کی شرح کا اندازہ بڑھایا

سال ۲۰۲۴ء میں یوٹیوب نے تخلیق کاروں کی کمائی کو بڑھانے کیلئے شاپنگ ایفیلی ایٹ پروگرام متعارف کرایا تھا، جو ابتدا میں لاکھوں فالوورز رکھنے والے تخلیق کاروں تک محدود تھا لیکن رواں سال کے اوائل میں اسے ۵۰۰ فالوورز رکھنے والوں تک بھی وسیع کر دیا گیا۔ یہ پروگرام تخلیق کاروں کو فلپ کارٹ، منترا، نائیکا، شاپسی، تیرا اور پرپل جیسے برانڈز اور ای کامرس پلیٹ فارمز کے ساتھ اشتراک کرنے اور براہِ راست مصنوعات کے لنکس دے کر کمیشن کمانے کی اجازت دیتا ہے۔ ۲۰۲۵ء کی پہلی سہ ماہی اور ۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی کے درمیان ہندوستانی کنٹینٹ کریئیٹرز کے اوسط ایفیلی ایٹ معاوضوں میں سال بہ سال ۱۶۰ فیصد سے زائد کا زبردست اضافہ دیکھا گیا، جس نے ۱۰۰ فیصد کی عالمی ترقی کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اب نصف سے زائد اہل ہندوستانی کریئیٹرز اس میں شامل ہو چکے ہیں اور وہ تقریباً ۲ کروڑ سے زائد ویڈیوز کو ٹیگ کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کابینہ نے ۱۰؍ ہزار کروڑ روپے کے ایس ایم ای گروتھ فنڈ کی منظوری دے دی

یوٹیوب اپنے ”کریئیٹ وِد اے آئی“ (Create with AI) اقدام کے ذریعے وزارتِ اطلاعات و نشریات اور آئی آئی سی ٹی کے ساتھ بھی تعاون کر رہا ہے اور ورثے کے تحفظ اور روایتی لوک و قبائلی موسیقی کو عالمی سطح پر فروغ دینے کیلئے وزارتِ ثقافت کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے۔ یوٹیوب انڈیا کا کہنا ہے کہ ”ہم ابھرتے ہوئے تخلیق کاروں کو باہمی سیکھنے اور پائیدار آمدنی کے ذرائع سے جوڑنے کیلئے ’یوٹیوب کریئیٹر کلیکٹیوز‘ جیسے پروگراموں کو وسعت دینا جاری رکھے ہوئے ہیں۔“ یوٹیوب انڈیا کی کنٹری منیجنگ ڈائریکٹر گنجن سونی نے کہا کہ تخلیق کار ”ایک متحرک نئے میڈیا کے منظر نامے“ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل تخلیق ”ملازمتوں، ہنر مندی اور قومی ترقی کیلئے ایک طاقتور انجن“ ثابت ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK