• Fri, 02 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ظہران ممدانی کی حلف برداری، تاریخ رقم

Updated: January 01, 2026, 10:51 PM IST | New York

حلف برداری کی تقریب نیو یارک کے تاریخی سٹی ہال سب وے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر منعقد کی گئی جس میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی ، قرآن مجید کے ۲؍ نسخوں پر حلف لیا ، ممدانی نے کہا کہ ’’ میں اس عظیم شہر کی روایت کو آگے بڑھانے کا حلف لے رہا ہوں۔‘‘

New York Mayor Zahran Mamdani with his wife. On the right are his father Mahmoud Mamdani and mother Meera Nair. (Photo: Agency)
نیو یارک کے میئر ظہران ممدانی اپنی بیگم کےساتھ ۔ دائیں جانب ان کے والد محمود ممدانی اور والدہ میرا نائر ۔(تصویر: ایجنسی )

امریکہ کے معروف شہر نیویارک سٹی میں ایک تاریخی لمحہ اس وقت سامنے آیا جب ظہران ممدانی نے شہر کے ۱۱۲؍ویں میئر کی حیثیت سے حلف لیا۔  انہوں نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر عہدے اور راز داری کا حلف لیا، جسے امریکی سیاست میں ایک علامتی اور غیر معمولی واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس موقع نے نہ صرف  امریکہ میں بلکہ پوری دنیا میں توجہ حاصل کرلی ہے۔ حلف برداری کی  یہ تقریب روایتی سرکاری تقاریب سے مختلف انداز میں منعقد کی گئی۔    یہ تقریب نیو یارک کے مرکزی علاقے مین ہٹن میں واقع سٹی ہال پارک کے نیچے واقع پرانے سٹی ہال سب وے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ہوئی۔ یہ تاریخی اسٹیشن اپنی محرابی چھت، رنگین شیشوں کے روشندانوں اور قدیم طرز کے فانوسوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ ۱۹۴۵ء میں بند  کئے گئے اس اسٹیشن کو عام طور پر عوام کے  لئےکھولا نہیں جاتا ہے لیکن  ۳۴؍سالہ ظہران ممدانی کی حلف برداری کی تقریب کیلئے اسےکھول دیا گیا تھا ۔ممدانی نے حلف لینے کے لئے قرآن کے جن نسخوںکا استعمال کیا  ان میں ایک ان  کے دادا کا  نسخہ تھا اور ایک سیاہ فام مصنف اور مورخ آرتورو شومبرگ کا قرآنی نسخہ تھا جو نیو یارک پبلک لائبریری سے لیا گیا تھا۔
 نیویارک اسٹیٹ کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمس نے انہیں حلف دلایا۔ ممدانی نے اس موقع پر انہیں اپنی سیاسی رہنمائی اور تحریک کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ حلف لینے کے بعد اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ نیویارک سٹی کو زیادہ منصفانہ، قابلِ رہائش اور عام شہریوں کے  لئے بہتر شہر بنانے کے لئے پوری سنجیدگی سے کام کریں گے۔یوگانڈا میں پیدا ہوئےظہران ممدانی  نیویارک سٹی کے پہلے مسلم میئر ہونے کے ساتھ ساتھ پہلے جنوبی ایشیائی نژاد میئر بھی ہیں جبکہ  انہوں نے گزشتہ ۱۰۰؍ برس کے دوران سب سے کم عمر میئر بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا ہے۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران مہنگائی، رہائش کے بڑھتے اخراجات اور عام شہریوں کی روزمرہ مشکلات کو مرکزی موضوع بنایا۔ انتخابی مہم کے دوران ممدانی نے عوام سے کئی  اہم وعدے  کئےتھے  جن میں یونیورسل چائلڈ کیئر پروگرام کا آغاز، تقریباً  ۲۰؍لاکھ کرایہ کنٹرول کے تحت رہنے والے مکینوں کے لئے کرایہ منجمد کرنا اور شہر کی بس سروس کو تیز اور مفت بنانا شامل ہے۔ واضح رہے کہ ظہران ممدانی  کی سرکاری حلف برداری کی تقریب ایک بجے سٹی ہال میں ہو گی جو پرائیویٹ ہو گی۔ اس میں صرف ان کی فیملی کے افراد شامل ہوں گے۔
  ظہران ممدانی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ’’ میں اس عظیم شہر کی روایات کو آگے بڑھانے کا حلف لے رہا ہوں۔ یہ شہر اور یہاں کا اولڈ سٹی اسٹیشن سب تاریخی ہیں۔  یہ بلند حوصلہ شہر ہے اور یہ بلند حوصلگی محض ماضی کی ایک یاد بن کر نہیں رہنی چا ہئے اور نہ ہی اسے صرف سٹی ہال کے نیچے سرنگوں تک محدود ہونا چا ہئے۔ یہ اس انتظامیہ کا مقصد ہوگا جسے نیویارک کے عوام کی خدمت کا شرف حاصل ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ میں اس موقع کی عظمت کے سامنے سر جھکاتا ہوں کہ مجھے نیویارک کے لاکھوں شہریوں کی قیادت کرنے کا موقع مل رہا ہے۔اس بات پر  مجھے فخر بھی ہے اور اپنی ذمہ داری کا احساس بھی ہے کہ مجھے نیو یارک کے شہریوں کیلئے کیا کرنا ہے۔ ‘‘ قابل ذکر ہے کہ ممدانی امریکہ میں قرآن پاک پر حلف لینے والے پہلے مسلم لیڈر نہیں ہیں۔قرآن پاک پر حلف لینے والے پہلے امریکی مسلم لیڈر ہونے کا اعزاز کیتھ ایلیسن کو حاصل ہے۔باقی صفحہ ۱۳؍ پر ملاحظہ کریں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK