Updated: February 21, 2026, 5:01 PM IST
| Washington
چاند کی سطح پر موجود ان دراڑوں کو Small Mare Ridges کہا جاتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ’ماریا‘ کے علاقوں میں اس قدر بڑے پیمانے پر ان علامات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ سائنس دانوں کی ٹیم نے ۱۱۱۴؍ نئی دراڑیں دریافت کی ہیں، جس سے چاند پر معلوم دراڑوں کی کل تعداد ۲۶۳۴؍ تک پہنچ گئی ہے۔
سائن دانوں نے حالیہ تحقیق میں چاند کی سطح پر ایک ہزار سے زائد نئی دراڑیں دریافت کی ہیں۔ ’نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم‘ کے سینٹر فار ارتھ اینڈ پلانیٹری اسٹڈیز کے محقیقن کے اس مطالعے کے بعد سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاند آہستہ آہستہ سکڑ رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق، چاند اندرونی طور پر ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ جیسے جیسے یہ ٹھنڈا ہوتا ہے، یہ سکڑتا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کی سطح پر جھریاں پڑ جاتی ہیں جو آگے چل کر دراڑیں بن جاتی ہیں۔ سائنسدان ۲۰۱۰ء سے اس عمل کے بارے میں جانتے ہیں۔ اس سے پہلے دراڑیں زیادہ تر چاند کے بالائی علاقوں میں پائی گئی تھیں لیکن اب محققین نے ’لونار ماریا‘ (lunar maria) میں بھی اسی طرح کی علامات دریافت کی ہیں۔ ماریا، چاند پر قدیم آتش فشاں پھٹنے کے نتیجے میں وجود میں آنے والے سیاہ میدانی علاقے ہیں۔
چاند کی سطح پر موجود ان دراڑوں کو ’اسمال میئر رجیز‘ (Small mare ridges یا SMRs) کہا جاتا ہے۔ تحقیق کے مرکزی مصنف کول نائپاور نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب ’ماریا‘ کے علاقوں میں اس قدر وسیع پیمانے پر ایسی علامات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ ٹیم نے ۱۱۱۴؍ نئی دراڑیں دریافت کی ہیں، جس سے چاند پر معلوم دراڑوں کی کل تعداد ۲۶۳۴؍ تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ: اختراعی صلاحیت میں تبدیلی پر غوروخوض
محققین کا خیال ہے کہ ارضیاتی لحاظ سے یہ دراڑیں نسبتاً پرانی ہیں۔ حال ہی میں دریافت کی گئی دراڑوں کی عمر کا تخمینہ تقریباً ۱۲۴؍ ملین سال لگایا گیا ہے، جبکہ پہلے دریافت شدہ ’لوبیٹ اسکارپس‘ (lobate scarps) تقریباً ۱۰۵؍ ملین سال پرانے ہیں۔ سائنسدان ٹام واٹرز نے کہا کہ یہ دریافت ایک متحرک چاند کی عالمی تصویر مکمل کرنے میں مددگار ہے جو اب بھی بدل رہا ہے۔
سکڑنے کا یہ عمل ’مون کوئیکس‘ (moonquakes) یعنی چاند پر آنے والے زلزلوں کا سبب بھی بنتا ہے۔ یہ چھوٹے زلزلے اس وقت آتے ہیں جب چاند کی اوپری تہہ (crust) اپنی جگہ بدلتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ عمل چاند پر ان مستقبل کے انسانی مشنوں کو متاثر کر سکتا ہے جن کا مقصد سیارچہ پر تحقیقی اڈے تعمیر کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی مشمولات انسانوں کے ذہنوں میں غلط یادیں بنارہے ہیں: ماہرین کا انتباہ
یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ناسا اور دیگر خلائی ایجنسیاں `آرٹیمس` جیسے مشنز کے تحت خلاء بازوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ امریکی خلائی ایجنسی ۲۰۲۸ء تک خلاء بازوں کو چاند کی سطح پر بھیجنا چاہتی ہے۔ محققین کو امید ہے کہ یہ مشن چاند کی ٹیکٹونک سرگرمیوں کے بارے میں مزید ڈیٹا اکٹھا کریں گے۔ چاند کے زلزلوں اور سطح کی تبدیلیوں کی بہتر تفہیم انجینئرز کو مستقبل کی قمری بستیوں اور طویل مدتی تحقیقی منصوبوں کے لئے محفوظ ڈھانچے ڈیزائن کرنے میں مدد کرے گی۔