اس ویڈیو میں ملازم کو صبح سے شام تک مسلسل کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بیٹھ کر کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں نہ تو کسی تفریحی سرگرمی کی جھلک نظر آتی ہے اور نہ ہی کھانے پینے یا آرام کے وقفوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: November 01, 2026, 8:06 PM IST | New Delhi
اس ویڈیو میں ملازم کو صبح سے شام تک مسلسل کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بیٹھ کر کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں نہ تو کسی تفریحی سرگرمی کی جھلک نظر آتی ہے اور نہ ہی کھانے پینے یا آرام کے وقفوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔
مائیکروسافٹ کے ایک ٹیک ملازم کا ’ڈے اِن مائی لائف‘ (Day in My Life) ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس ویڈیو میں ملازم کو صبح سے شام تک مسلسل کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بیٹھ کر کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں نہ تو کسی تفریحی سرگرمی کی جھلک نظر آتی ہے اور نہ ہی کھانے پینے یا آرام کے وقفوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اسی لیے سوشل میڈیا صارفین نے اسے ’صفر فیصد طرزِ زندگی، ۱۰۰ فیصد اسکرین کو گھورنا‘ کا عنوان دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایشین چیمپئنز لیگ کے اہم مقابلے میں کرسٹیانو رونالڈو النصر کی ٹیم سے باہر
عام طور پر سوشل میڈیا پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین اپنی روزمرہ زندگی کی ویڈیوز شیئر کرتے ہیں، جن میں خوب صورت دفاتر، مفت کھانا، کافی، ناشتے، تفریحی سرگرمیوں اور جدید دفتری سہولتوں کو دکھایا جاتا ہے۔ تاہم اس بار مائیکروسافٹ کے ملازم کی ویڈیو نے اس مقبول رجحان سے بالکل مختلف تصویر پیش کی ہے، جس میں کام کی مصروفیات اور طویل وقت تک اسکرین کے سامنے بیٹھنے کو دکھایا گیا ہے۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X)، جو پہلے ٹویٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، پر @tQuietEngineer نامی صارف نے شیئر کی ہے۔ ویڈیو میں ملازم کو صبح ۸ ؍بج کر ۵۵ منٹ سے شام ۶ بج کر ۳۸ منٹ تک اپنے ورک اسٹیشن پر کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس دوران زیادہ تر مناظر میں وہ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی اسکرین پر توجہ مرکوز کیے نظر آتے ہیں۔ویڈیو میں دفتری زندگی کے ان خوش گوار پہلوؤں کو جگہ نہیں دی گئی جو عام طور پر ’ڈے اِن مائی لائف‘ ویڈیوز کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس کے بجائے ملازم کے کام کرنے کے معمول اور مسلسل اسکرین کے سامنے گزارے جانے والے وقت کو نمایاں کیا گیا ہے۔
bro saw what happened to the "Day in the Life" influencers and pulled the ultimate Uno Reverse... 0% lifestyle, 100% staring at a screen we need to appreciate the people finally showing what an actual software engineering job looks like https://t.co/Wg6z3lXgka
— The Quiet Engineer (@tQuietEngineer) October 31, 2026
ویڈیو شیئر کرنے والے صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ اس ملازم نے شاید ’ڈے اِن مائی لائف‘ بنانے والے انفلوئنسرز کے انداز کو دیکھ کر اس کے بالکل برعکس ویڈیو بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نے اسے ’صفر فیصد طرزِ زندگی اور ۱۰۰؍ فیصد اسکرین کو گھورنا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ملازمین کی تعریف ہونی چاہیے جو سافٹ ویئر انجینئر کی حقیقی ملازمت کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اس پر مختلف ردعمل ظاہر کیے۔ کچھ لوگوں نے اسے سافٹ ویئر انجینئرز کی روزمرہ زندگی کی حقیقت قرار دیا، جب کہ بعض صارفین نے ویڈیو کی صداقت پر سوال اٹھائے۔
ایک صارف نے سوال کیا کہ یہ کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ ملازم نے واقعی پورا دن کام کیا ہے؟ ممکن ہے کہ اس نے صرف چند سیکنڈ کے لیے ویڈیو ریکارڈ کی ہو اور بعد میں اس میں وقت تبدیل کرکے اسے پورے دن کی سرگرمی کے طور پر پیش کیا ہو۔ ایک دوسرے صارف نے تبصرہ کیا کہ سافٹ ویئر انجینئر کی زندگی میں بعض اوقات گھنٹوں تک ایک ہی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش جاری رہتی ہے، کئی گھنٹے کی محنت کے بعد کوڈ کی صرف ایک لائن درست ہوتی ہے اور پھر احساس ہوتا ہے کہ پورا دن گزر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:انیل کپور نے شاہ رخ خان سے پہلی ملاقات اور ’منت‘ سے جڑا قصہ بتایا
کچھ صارفین نے مزاحیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ ایسی ویڈیو شیئر کرنے کے بعد ملازم کو شاید کمپنی کے انسانی وسائل کے شعبے (ایچ آر) کی جانب سے وضاحتی ای میل موصول ہوئی ہوگی۔ ایک اور رائے یہ سامنے آئی کہ ممکن ہے یہ ویڈیو ملازم کی کسی سابقہ دفتری ویڈیو پر ہونے والی تنقید اور ٹرولنگ کے جواب میں بنائی گئی ہو۔ تاہم ویڈیو کی ریکارڈنگ اور تدوین سے متعلق ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اس ویڈیو نے ایک مرتبہ پھر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین کی روزمرہ زندگی، کام کے دباؤ اور دفتری ماحول پر بحث چھیڑ دی ہے۔ عام طور پر مائیکروسافٹ، گوگل اور دیگر بڑی کمپنیوں کے ملازمین کی ویڈیوز میں جدید دفاتر، مفت کھانے، کھیلنے کی سہولتوں اور آرام دہ ماحول کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ ایسی ویڈیوز دیکھ کر لوگوں کے ذہن میں بڑی ٹیک کمپنیوں میں ملازمت کے حوالے سے ایک خوش گوار اور پُرکشش تصور پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس حالیہ وائرل ویڈیو میں کام کے طویل دورانیے اور مسلسل اسکرین کے سامنے بیٹھنے کو دکھایا گیا ہے۔ اس لیے صارفین کے درمیان یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ سوشل میڈیا پر پیش کی جانے والی دفتری زندگی کی تصویریں کسی ملازم کے حقیقی کام کے معمول کی مکمل عکاسی کرتی ہیں یا نہیں۔ بہرحال، یہ ویڈیو مائیکروسافٹ میں کام کرنے والے ہر ملازم کے روزمرہ معمول کی نمائندگی نہیں کرتی، لیکن اس نے سافٹ ویئر انجینئرز کی ملازمت، کام کے اوقات اور سوشل میڈیا پر کارپوریٹ زندگی کی پیش کش کے حوالے سے ایک نئی بحث ضرور شروع کر دی ہے۔