EPAPER
ناٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے عالمی لیڈروں کو ریوالور تحفے میں دینے کے فیصلے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سفارتی روایات میں اس نوعیت کا تحفہ غیر معمولی تصور کیا جا رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے ترکی نے اپنی دفاعی صنعت، بڑھتی ہوئی اسلحہ برآمدات اور ناٹو میں اپنے اسٹریٹجک کردار کا بھرپور اظہار کرنے کی کوشش کی ہے۔
July 10, 2026, 7:11 PM IST
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے ناٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر پیش کیا گیا خصوصی ریوالور کئی عالمی لیڈروں کے لیے غیر متوقع پریشانی کا سبب بن گیا۔ بعض وفود کو واپسی کے سفر کے دوران کسٹمز اور اسلحہ قوانین کا سامنا کرنا پڑا، کچھ لیڈر اپنے وطن پہنچنے کے بعد ہی جان سکے کہ تحفے کے ڈبے میں زندہ کارتوسوں سمیت فعال ریوالور موجود ہے، جبکہ متعدد ممالک نے اسلحہ ترکی ہی میں چھوڑ دینے یا اسے غیر فعال کرنے کا فیصلہ کیا۔
July 10, 2026, 7:08 PM IST
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے ناٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر رکن ممالک کے سربراہان کو غیر معمولی سفارتی تحفہ پیش کرتے ہوئے ترکی میں تیار کردہ ۳۵۷؍ میگنم ریوالور دی جس پر ہر لیڈر کا نام کندہ تھا۔ لکڑی کے خصوصی ڈبے میں پیش کیے گئے اس تحفے کے ساتھ زندہ کارتوس، صفائی کا سامان اور یادگاری تختی بھی شامل تھی۔ اس غیر روایتی اقدام نے عالمی سفارتی حلقوں میں توجہ حاصل کر لی ہے اور اسے ترکی کی دفاعی صنعت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
July 10, 2026, 7:03 PM IST
نیٹو اجلاس میں اتحاد کو درپیش خطرات، عالمی سلامتی، یوکرین کی صورتحال ،مستقبل کی دفاعی حکمت عملی اور متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیاگیا، میزبان ملک ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے باہمی اتحاد پر زور دیا۔
July 09, 2026, 11:21 AM IST
