• Fri, 30 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شام کا ’نیا دور‘: الشرع کی قیادت کو ایک سال مکمل؛ ملک تعمیرِ نو، استحکام اور قومی وحدت کی طرف گامزن

Updated: January 29, 2026, 9:58 PM IST | Damascus

الشرع کی صدارت کے بطور صدر پہلے سال میں شام نے بین الاقوامی پابندیوں سے نجات حاصل کرلی، اپنی خودمختاری بحال کی اور ایک واضح سیاسی روڈمیپ کے ساتھ نئے سال ۲۰۲۶ء کا آغاز کیا۔

Ahmed al-Sharaa. Photo: X
احمد الشرع۔ تصویر: ایکس

دسمبر ۲۰۲۴ء میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام کے پُرآشوب دور میں عہدہ سنبھالنے والے احمد الشرع کے دور صدارت کے پہلے سال میں ملک کی سیاسی، معاشی اور سفارتی پالیسیوں میں غیر معمولی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ان تبدیلیوں نے شام کے حکومتی اداروں کو نئی شکل دی اور ملک کی ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط بین الاقوامی تنہائی کا خاتمہ کر دیا۔ شامی حکام احمد الشرع کے بطور صدر پہلے سال کو ’’ایک نئے دور‘‘ کی بنیاد قرار دے رہے ہیں، جس کا ہدف شام کی تعمیر نو اور خود مختاری کو بحال کرنا ہے۔

پرانے نظام کا خاتمہ

ملٹری آپریشنز کمانڈ کی جانب سے اسد حکومت کے خاتمے کے اعلان کے بعد، الشرع نے باضابطہ طور پر ۲۹ جنوری ۲۰۲۵ء کو صدارتی فرائض سنبھالے تھے۔ انہوں نے اسی دن ۲۰۱۲ء کے آئین کو معطل کرنے، پیپلز اسمبلی کو تحلیل کرنے اور تمام مسلح گروپس کو ریاستی اداروں میں ضم ہونے کے احکامات جاری کئے۔ اس کے علاوہ، الشرع نے بعث پارٹی کے ساتھ سابقہ فوج اور سیکوریٹی ایجنسیوں کو ختم کرکے دہائیوں پر محیط آمرانہ دور سے مکمل علیحدگی کا اعلان کیا۔ مارچ ۲۰۲۵ء میں، الشرع نے ایک عبوری آئینی اعلامیے پر دستخط کئے جس میں پانچ سالہ منتقلی کا خاکہ پیش کیا گیا۔ انہوں نے قانون سازی کا اختیار منتخب پارلیمنٹ کو دیا گیا، جبکہ مستقل آئین کی تشکیل تک انتظامی اختیارات صدر کے پاس رکھے گئے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں جنگ بندی سےلاکھوں بچوں کی زندگی میں بہتری آئی ہے : اقوام متحدہ

علاقائی وحدت اور ادارہ جاتی اصلاحات

۱۰ مارچ ۲۰۲۵ء کو الشرع نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا جب دمشق اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسیز (ایس ڈی ایف) کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت ایس ڈی ایف کو ملکہ کے فوجی و سلامتی ڈھانچے میں ضم کر دیا گیا اور شام کی علاقائی سالمیت کا اعادہ کیا گیا۔

الشرع نے مذہبی اور شہری اداروں کی بھی تشکیلِ نو کی اور ۲۸ مارچ کو شیخ اسامہ الرفاعی کو مفتیِ اعظم مقرر کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد حکام کے مطابق اعتدال پسندی کو فروغ دینا اور قومی مذہبی اداروں پر اعتماد بحال کرنا تھا۔ اگست میں، الشرع نے ماضی میں اسد حکومت کی زیادتیوں کی تحقیقات، متاثرین کی مدد اور مفاہمت کو آگے بڑھانے کیلئے نیشنل ٹرانزیشنل جسٹس کمیشن قائم کیا۔

معاشی اور سماجی اقدامات

الشرع نے اپنے پہلے سال میں شامی معیشت کے متعلق کئی جرأت مندانہ فیصلے کئے۔ جون ۲۰۲۵ء میں، انہوں نے سرکاری شعبے کی تنخواہوں میں ۲۰۰ فیصد اضافے کا حکم دیا تاکہ برسوں کی جنگی کفایت شعاری کے بعد زندگی کے دباؤ کو کم کیا جاسکے۔ حکومت نے ستمبر میں ملک کی تعمیرِ نو کے منصوبوں کی سربراہی کیلئے سیریئن ڈویلپمنٹ فنڈ بھی قائم کیا۔

الشرع کی صدارت میں توانائی کے میدان میں بھی کلیدی اصلاحات دیکھنے ملیں۔ مئی ۲۰۲۵ء تک، بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ نئے معاہدوں نے بجلی کے گرڈ کی بحالی میں مدد کی، جس کی وجہ سے بیشتر صوبوں میں بجلی کی فراہمی دوبارہ شروع ہوئی۔ ستمبر میں، شام نے ۱۴ سال سے زائد عرصے میں خام تیل کی پہلی باضابطہ کھیپ برآمد کی اور عالمی تیل مارکیٹ میں اس کی واپسی کا اشارہ دیا۔ ۲۰۲۵ء کا اختتام ایک بڑی مالیاتی اصلاحات کے ساتھ ہوا۔ ۳۱ دسمبر کو، الشرع نے نئی قومی کرنسی کا اعلان کیا، پاؤنڈ سے دو صفر ختم کئے اور سابقہ حکومت سے وابستہ علامات سے پاک نئے ڈیزائن کے نوٹ متعارف کرائے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران اور امریکہ کے درمیان لفظی جنگ، تہران ’منصفانہ‘ مذاکرات کیلئےتیار، ایٹمی ہتھیاروں کی خواہش نہیں

قومی انتخابات اور کردوں کے حقوق

الشرع نے ملک کے سیاسی معاملات پر بھی توجہ دی۔ اگست میں منظور کئے گئے ایک عارضی انتخابی قانون کے ذریعے نئی پارلیمنٹ کی نشستوں کی تعداد ۲۱۰ مقرر کی گئی۔ شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ۵ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو منعقد ہوئے، جسے حکام نے مسابقتی اور عوامی شرکت کے لحاظ سے کامیاب قرار دیا۔

جنوری ۲۰۲۶ء میں، الشرع نے شامی کردوں کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے ایک تاریخی حکم نامہ جاری کیا۔ اس اقدام کے تحت کرد زبان کو قومی زبان مانا گیا، ۱۹۶۲ء کے حسکہ مردم شماری کے نتائج منسوخ ہوئے، غیر رجسٹرڈ کردوں کو شہریت ملی اور نوروز کو قومی تعطیل قرار دیا گیا۔

سفارت کاری اور تنہائی کا خاتمہ

الشرع نے داخلی اصلاحات کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھرپور سفارتی کوششیں بھی کیں۔ انہوں نے واشنگٹن اور ماسکو کے دورے کئے اور انقرہ سمیت عرب ممالک اور یورپی لیڈران کے ساتھ رابطے بڑھائے۔ ستمبر ۲۰۲۵ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ان کا خطاب گزشتہ تقریباً ۶۰ برسوں میں کسی شامی صدر کا پہلا خطاب تھا۔

شامی صدر نے ماسکو میں ولادیمیر پوتن اور واشنگٹن میں ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ہائی پروفائل ملاقاتیں کیں۔ ان کے امریکہ دورے نے قیصر ایکٹ (Caesar Act) اور شام پر عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے کی راہ ہموار کی، جس کا باضابطہ اعلان دسمبر ۲۰۲۵ء میں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: لبنان: گزشتہ ۳؍ ماہ میں اسرائیل نے جنگ بندی کی۶؍ ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کی ہیں

ملک کی تاریخ کا ایک نیا باب

۲۸ جنوری ۲۰۲۶ء کو، ماسکو کے ایک اور دورے کے دوران، الشرع نے مشرقی شام میں تیل اور گیس کے کنوؤں پر ریاست کے مکمل کنٹرول کی بحالی کا اعلان کیا اور ملک کے علاقوں کو متحد کرنے کی کوششوں کو کامیاب قرار دیا۔ 

الشرع کی صدارت کے صرف ایک سال میں شام نے بین الاقوامی پابندیوں سے نجات حاصل کرلی، اپنی خودمختاری بحال کی اور ایک واضح سیاسی روڈمیپ کے ساتھ نئے سال ۲۰۲۶ء کا آغاز کیا۔ اگرچہ الشرع کے سامنے کئی چیلنجز اب بھی موجود ہیں، لیکن بطور صدر پہلے ہی سال میں ان کے فیصلوں نے ملک کو نازک ترین مرحلے سے نکال کر تعمیرِ نو، استحکام اور قومی وحدت کی طرف گامزن کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK