• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

gosha e buzurgaan

’’۱۹۸۴ء فساد میں رابوڑی میں پناہ گزیں مسلمانوں کیلئے دیگوں میں کھانا پکتا تھا‘‘

۸۰؍سالہ اکبری رحیم مکرانی ۱۸۔ ۱۷؍ سال کی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ جھانسی سے رابوڑی، تھانے آئیں اور پھر یہیں کی ہوکر رہ گئیں، ۲۵؍ سال تک سلائی اور پھر تقریباً اتنے ہی عرصے تک کپڑے فروخت کرکے بچوں کے تعلیمی اخراجات میں شوہر کا ہاتھ بٹایا۔

October 11, 2026, 6:23 PM IST

’’بچپن میں حادثے کا شکار ٹرک سے بروقت نہ اترتی تو آج زندہ نہ ہوتی‘‘

بھیونڈی کے سوداگر محلہ کی ۷۸؍سالہ سلمیٰ سکندر کشیلکر کی ایک جفاکش اور باہمت خاتون ہیں، شوہر کا انتقال ہوا تو بچے چھوٹے چھوٹے تھے لیکن وہ ہمت نہیں ہاریں اور بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کیلئےخون پسینہ ایک کردیا اور اپنے مقصد میں کامیاب رہیں۔

October 05, 2026, 7:54 PM IST

’’بلڈنگ گری تومیں بھی ملبے میں دب گیا تھا لیکن پلائی ووڈ کے سہارے سے بچ گیا‘‘

کرلاکے ۸۳؍سالہ مامون رشید نے میٹرک کاامتحان پاس کرنے کے بعد۳۲؍سال تک مجگائوں ڈاک میں بحیثیت ٹیلی کلرک خدمات پیش کیں، ۱۹۹۲ء میں وہاں سے علاحدگی اختیار کرنے کے بعد گزشتہ ۳۴؍برسوں سے ٹورس اینڈ ٹراویلس سمیت کئی کاروبار کر چکےہیں ۔

September 29, 2026, 9:33 PM IST

’’ہاشمیہ اسکول کے ایک پروگرام میں سنیل دت نے خالص اُردو میں تقریر کی تھی‘‘

مدنپورہ کے۷۶؍سالہ محمد یاسین درگاہی ایک ہی اسکول میں ۳۳؍سال تک تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد سبکدوش ہوئے لیکن تعلیمی سلسلہ جاری ہے، گزشتہ ۱۹؍ برسوں سے کوچنگ کلاس میں ریاضی پڑھارہےہیں اور ’دی مالیگاؤں سوسائٹی آف ایجوکیشن‘ سے بھی وا بستہ ہیں ۔

September 28, 2026, 9:16 PM IST

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK