Inquilab Logo Happiest Places to Work

gosha e buzurgaan

’’میرے بچپن میں مدنپورہ میں صبح گوشت چار آنے، شام دو آنے ملتا تھا‘‘

آگری پاڑہ کے ۷۸؍سالہ خالد ماسٹرعبدالستار انصاری نے میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد عملی زندگی کا آغاز مل میں کام کرکے کیا، اس کے بعد سعودی عرب گئے، واپس آکر ٹیکسی ڈرائیونگ سیکھی اور ۲۵؍ سال تک ٹیکسی چلاکر اپنے اہل خانہ کی کفالت کی۔

June 14, 2026, 5:57 PM IST

’’ بامبے اسپتال میں دلیپ کمار مریض کی عیادت کیلئے پہنچے تو دیگر مریض بھی آگئے‘‘

بائیکلہ میں  مقیم ۹۱؍سالہ حسن عبدالرحمٰن دلوی کا رتنا گیری کے چھوٹے سے گاؤں  سے ممبئی تک کا سفر کئی اتار چڑھاؤ سے پر ہے، وہ اپنے چچا کو نہیں  بھولتے جوقطرمیں  برسر روزگار تھے اور وہاں  سے اُن کی تعلیم کیلئے پابندی سے ۵۰؍ روپے جو اس وقت اچھی خاصی رقم ہوا کرتی تھی بھیجتے تھے۔

June 07, 2026, 5:35 PM IST

’’اداکار دھرمیندر کو سلائی میں کچھ کمی نظر آئی تو انہوں نے وہ شرٹ مجھے دے دی‘‘

مدنپورہ کے ۷۸؍سالہ محمد حسین بچپن ہی سے کپڑوں کی سلائی کے کام سے وابستہ رہے ہیں جہاں ان کی ملاقات فلمی فنکاروں سے بھی ہوتی رہی ہے، ابتدائی دنوں میں جہاں وہ کام سیکھتے تھے، وہاں دھرمیندر، رحمان اور پران جیسے بڑے فنکار بھی اپنے کپڑے سلواتے تھے۔

May 24, 2026, 5:10 PM IST

’’گاؤں سے ممبئی آنے والوں کوچھوڑنے کیلئے پورا گاؤں جمع ہو جاتا تھا‘‘

رائے گڑھ کے ۷۸؍سالہ محمدانصارعرف باپوخطیب نے۳۲؍سال ’بانڈرائٹر‘ کی حیثیت سے خدمات پیش کیں، دیگر سماجی خدمات کے ساتھ ہی فی الحال گاؤں کی جامع مسجد کے چیف ٹرسٹی کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں ، اخبارات کا مطالعہ کرنا روزانہ کا معمول ہے۔

May 17, 2026, 7:28 PM IST

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK