ممبئی سینٹرل کے انصاری صغیر احمد عبدالخالق نے آٹو الیکٹریشین کی حیثیت سےعملی زندگی گزاری، اپنے ہنر سےانہیں بڑی دلچسپی ہے،اسلئے آج بھی وہ اُن اوزاروں (ہتھوڑی ، ڈرل اور اسکرو ڈرائیور وغیرہ) کو سنبھال کررکھے ہیں اور انہیں دیکھ کر اپنے گیراج کےدنوں کو یاد کرتےہیں۔
انصاری صغیر احمد عبدالخالق۔ تصویر: آئی این این
ممبئی سینٹرل کے ۹۲؍سالہ انصاری صغیر احمد عبدالخالق کی پیدائش ۱۵؍اگست ۱۹۳۴ء کو جنوبی ممبئی کی گنجان آبادی والے علاقے کماٹی پورہ میںہوئی تھی۔مقامی مدرسہ غوث العلوم اور گھوگھاری محلہ میونسپل اُردو اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ عملی زندگی کا آغاز چھوٹی عمر ہی سے شروع کر دیاتھا۔پہلے سائیکل کی دکان پر ملازمت کی جہاں کام کرتے کرتے سائیکل بنانے کا کام سیکھا۔ چند برسوں تک یہ کام کرنے کے بعد تقریباً ۲۰؍سال کی عمر میں آٹوالیکٹریشین کے کام سےوابستہ ہوئے تو پھر ۵۰؍ سال تک اسی پیشے میں مصروف رہے۔ آٹو الیکٹریشین کا کا م سیکھ کر کچھ دنوں تک ملازمت کی اور پھربیلاسس روڈ پر واقع عمرجمال کمپائونڈ، جو گیراج اور موٹرگاڑیوں کے سبھی قسم کےکاموں کامرکز تھا،وہاں اپنی گیراج شروع کی۔ زندگی کابیشتر حصہ اسی جگہ گزرا۔ تقریباً ۸۰؍ سال کی عمر تک فعال رہے۔ آج بھی گھر میں پنکھا ، لائٹ ، واشنگ مشین اور فریج وغیرہ کی مرمت کا کام خود ہی کرتےہیں۔ اسی کے ساتھ مطالعہ کا شوق بھی تھا جو آج بھی برقرار ہے۔ پرندوں بالخصوص مرغ کےمداح ہیں۔ ان کے کھانےپینےکا نظم ۱۰؍سال کی عمر سے کررہےہیں۔ چہل قدمی کی عادت ہے اور کبھی کبھار دور دراز کاسفربھی تنہا کرلیتےہیں۔طویل عمری کے باوجود صحت کے اعتبار سے چاق و چوبند ہیں،اسلئے کسی نہ کسی کام میں دن بھر مصروف رہتےہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کوئلہ لئے کھڑی عورتیں ٹرین پلیٹ فارم پر پہنچتے ہی انجن میں کوئلہ بھر دیتی تھیں
صغیر احمد کواپنے ہنراور پیشے سے بڑی دلچسپی رہی ہے۔گیراج بند ہونےکےباوجودگھر کی ایک الماری میں سارے اوزار ، مثلاً ہتھوڑی، ڈرل ، اسکرو ڈرائیور، ویلڈنگ اورالیکٹرک مشینوں کو سنبھال کر رکھے ہیں۔ جب کبھی گھر میں کوئی کام نکلتاہے،وہ اوزارلے کر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ کام کرتے ہوئے اپنے گیراج کےدنوں کو یاد کرتےہیں۔ گھر والوں کے بار بار کہنے کے باوجود انہوں نے ان اوزاروں کو گھر سےنہیں ہٹایا ہے۔ ان کا کہناہےکہ ان اوزاروں سے میری زندگی کی بے مثال یادیں وابستہ ہیں۔انہی اوزاروں کے ساتھ رہ کر میں نے اپنے۳؍بیٹوں(جو اَب اس دنیامیںنہیں رہے )اور۵؍ بیٹیوںکی پرورش کی ہے۔
صغیر احمد کے دادا کو مرغ پالنے کا بہت شوق تھا۔ ان کی دیکھ بھال اور ان کے کھانےپینےپر خاص توجہ دیتےتھے۔انہیںبادام اور پستہ کھلاتے تھے۔ایک وقت میں ۳۔۲؍ ایسے مرغ پالتے تھے جو تندرست ہونےکےساتھ ہی خاصے اُونچے ہوتےتھے۔ مولاناشوکت علی روڈ پر واقع چھوٹا سونا پور میدان میں مرغوںکے مابین ہونے مقابلوںمیں ان کے مرغے بھی حصہ لیتےتھے۔ اس دورمیں جس کا مرغ ہار جاتا تھا،وہ اپنا مرغ جیتے والےکےحوالے کردیتاتھا۔ان ساری سرگرمیوںکو صغیر احمد نے قریب سے دیکھا ہے۔ اسی وجہ سے انہیں مرغوں کے علاوہ کوئوں اور کبوتروںکو پالنے اور انہیں کھلانے پلانےکا شوق چھوٹی عمر ہی سے ہے۔ ان کا یہ مشغلہ اب بھی برقرار ہے۔ انہوںنے گھر کی بالکنی میں ان کیلئے خاص اہتمام کیاہے ۔ان کیلئے مخصوص دانے خریدنے وہ ممبئی سینٹرل سے نوجیون سوسائٹی( لیمنگٹن روڈ) پیدل جاتےہیں۔ پرندے بھی ان سے خوب مانوس ہیں۔جب وہ بالکنی کےپاس کھاناکھانےبیٹھتےہیں توکچھ کوے بالکنی میں لگی جالی کےقریب آجاتےہیں ،وہ روٹی کاٹکڑا اپنے ہاتھ سے ان کی جانب بڑھاتےہیں، جسے کوے اپنی چونچ سے پکڑ لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’صبح کے وقت اخبار بینی اور عشاء کے بعد کتب بینی آج بھی میرے معمول کا حصہ ہے‘‘
گیراج کے پیشے سے جڑے ہونےکی وجہ سےصغیر احمد کو متعدد قسم کی موٹرگاڑیوںکاکام کرنے،انہیں دیکھنے اور چلانے کا موقع ملا ہے۔ان گاڑیوںکا کام کرنے کےبعداس کے ٹرائل کیلئے شہر سےدوردراز علاقوں میں جانے کابھی بہت تجربہ ہے۔ ایک مرتبہ بارش کے موسم میں پوائی جھیل کے چھلکنے پر وہ اہل خانہ کے علاوہ اپنے ایک دیرینہ ساتھی راجن کے ساتھ پوائی جھیل گئے تھے۔بارش میں جھیل کامنظر بہت دلکش تھا۔ جھیل سے پانی چھلک رہاتھا۔ گھر کے سبھی افراد انجوائے کررہے تھے۔ دریں اثنااُن کی ۲؍جڑواں بیٹیا ں آسیہ اور سائرہ نہ جانےکب اور کیسے اور چلی گئیں اورجھیل میں گر گئیں ۔ ایک شور اُٹھا، سب پریشان ہوگئے ۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں؟ ایسےمیں راجن ،جنہیں تیراکی آتی ہے، نے فوراًجھیل میں غوطہ لگایا۔ بڑی تگ ودوکےبعد دونوں کوجھیل سے نکالا۔ اگر اس دن راجن ان کے ساتھ نہ ہوتےتو ان بچوںکا بچنا مشکل تھا۔
صغیر احمد کو بچپن سے کیرم کھیلنے کاشوق رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس عمرمیںبھی وہ کیرم کھیلنے کا موقع نہیں چھوڑتے ہیں۔ان کے سرہانے اب بھی ان کا جیتا ہواکیرم بورڈ اور اس کی گوٹیاں رکھی ہوئی ہیں۔ کیرم کے متعدد مقابلوںمیں اپنی مہارت کامظاہرہ کرچکےہیں۔ایک مرتبہ ایک کلب والے سے بات ہی بات میں یہ طے ہواکہ اگر بریک کے ساتھ بورڈ فنیش کردیاگیاتو ،کلب کے سارے کیرم بورڈ اور دیگر سامان ،ان کے ہوجائیں گے۔صغیر احمد نے چیلنج قبول کیا۔ بریک کےساتھ، کوئن کے ہمراہ ۹؍وائٹ پیس لے کر ، وہ فاتح رہے ۔ کلب والےنے بھی اپنی زبان پر کلب کے۴؍کیرم بورڈ ، ۱۶؍ بیٹھنے والے اسٹول اور دیگر سامان بطور ِ تحفہ انہیں دیاتھا جو آج بھی ان کے پاس محفوظ ہے۔ یہ پچاس سال پہلے کاواقعہ ہے۔
صغیراحمد کےساتھ ایک ٹریجڈی یہ رہی ان کے بیٹے پیدائش کے بعد زیادہ دنوں تک باحیات نہیں رہ سکے ۔ پیدائش کے چندسال بعد ،یکے بعد دیگر ے ۳؍بیٹوں کی رحلت ہوگئی۔ الحمدللہ ان کی ۵؍بیٹیاں بقید حیات ہیںجن میں ۲؍جڑواں ہیں۔ وہ خود تو زیادہ پڑھائی نہیں کرسکے لیکن اپنی بچیوںکو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنے کے خواہشمند تھے۔ اس دورمیں گیراج کی محدود آمدنی سے سبھی لڑکیوںکو پڑھانا مشکل تھا۔ ایسے میں ان کی اہلیہ نے ان کا بڑا ساتھ دیااور لڑکیوں کی تعلیم وتربیت میں اہم کردار اداکیا۔ بچوںکی کتابوں اور کاپیوںکی خریداری کیلئے مطلوبہ پیسوں کا انتظام نہ ہونےپر وہ اپنی بیٹیوںکے ہمراہ مدنپورہ میں واقع سماجی ادارہ حلقہ احباب جاتی تھیں ،جہاں سے اس دورمیں مفت میں کاپیاںاور کتابیں دی جاتی تھیں۔اس طرح سے انہوںنے اپنی بیٹیوں کی تعلیم پوری کی ہے۔ ان کی سبھی بیٹیاں ٹیچر ہیں اور اب ان کی بیٹیاں بھی حلقہ احباب کی طرح مستحق بچوں کو تعلیمی اشیا فراہم کرکے اپنا قرض اتار رہی ہیں۔ یہ سب دیکھ کر اب والدین کو بہت خوشی ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وزیر تعلیم کی اسکول آنے کیلئے شرط تھی کہ استقبال کیلئے بچے دھوپ میں نہ کھڑے ہوں
صغیر احمد جب بائیکلہ ،ہنس روڈ پر مقیم تھے ، اس دور میں ان کے پڑوسی راجن اور ان کےاہل خانہ سے ان کے مراسم ہوئےجو آج بھی برقرار ہے۔ ان کی دوستی کو تقریباً ۶۵؍سال ہوچکےہیںلیکن ان کے تعلقات میں فرق نہیں آیاہے۔ راجن کا خاندان حالانکہ ابملنڈ منتقل ہو چکاہے لیکن دونوں خاندان ایک دوسرےکے خوشی اور غم میں برابر شریک ہوتےہیں اور وقتاً فوقتاً ایک دوسرے سےملاقاتیںبھی کرتے رہتےہیں۔ان دنوں راجن صاحب فراش ہیں۔ ایسے میں تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل ایک دن اچانک صغیر احمد اپنی رہائش گاہ(ممبئی سینٹرل) سے گھر والوںکو بغیر اطلاع دیئے نکلے اور ملنڈپہنچ گئے۔ وہ اسٹیشن پر تھے کہ اچانک راجن کے گھرسے راجن کی بیٹی نے خیر خیریت کیلئے انہیں فون کر کے پوچھا کہ آپ کیسے ہیںتو انہوںنے جواب دیاکہ میںٹھیک ہوں اور تمہارے گھر آرہاہوں اور اِس وقت ملنڈاسٹیشن پر ہوں ۔ راجن کی بیٹی نے کہا،آپ جہاں ہیں ،وہیں کھڑے رہیں میں بیٹے کو بھیجتی ہوں ، وہ آپ کو گھر لائے گا۔کچھ دیرمیں بیٹا آکر انہیں گھر لے گیا۔ دن بھر راجن کے ساتھ گزار کر صغیراحمد کوبڑی خوشی ملی تھی۔اس دوران راجن کی بیٹی نے صغیراحمد کی بیٹی کو فون کرکے سارا ماجرہ بیان کیاتھا۔