Inquilab Logo Happiest Places to Work

کوئلہ لئے کھڑی عورتیں ٹرین پلیٹ فارم پر پہنچتے ہی انجن میں کوئلہ بھر دیتی تھیں

Updated: February 22, 2026, 9:33 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

آگری پاڑہ کے ۸۶؍سالہ محمد عقیل قریشی نے صندوق کی فٹنگس سے اپنے کریئر کاآغاز کیا،بعد میں جاوا، بجاج اور مہندرا اینڈ مہندرا جیسی معروف کمپنیوں کو آٹوپارٹس سپلائی کیا۔ اس عمر میں بھی اپنے بچوں کے ساتھ کاروبار کی نگرانی کررہے ہیں۔

Muhammad Aqeel Qureshi Photo: INN
محمد عقیل قریشی۔ تصویر: آئی این این

آگری پاڑہ کے ۸۶؍سالہ محمد عقیل قریشی کی پیدائش ۱۱؍ستمبر۱۹۴۰ء کو دہلی کے اجمیر ی گیٹ علاقے میں ہوئی تھی۔ مقامی اینگلوعربک ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ٹرنک فٹنگس کا آبائی کاروبار دہلی میں سیٹ ہونے کی وجہ سےچھوٹی عمر ہی سے کاروبارمیں مصروف ہوگئے۔ ۱۷؍ سال کی عمر میں دہلی کے کاروبار کو ممبئی میں بھی شروع کرنےکی غرض سے بڑے بھائی کے ساتھ ۱۹۵۷ءمیں ممبئی آئے۔ یہاں آکر پہلے ٹرنک فٹنگس  بعدازیں آٹو پارٹس کے کاروبارسے وابستہ ہوئے جو اَب بھی جاری ہے۔ فی الحال ان کے بچوں نے پورا کاروبار سنبھال لیاہے لیکن وہ، ان کی نگرانی اب بھی کرتےہیں۔معاشی مصروفیات کےساتھ ہی سماجی، تعلیمی اور ملّی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتےہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’صبح کے وقت اخبار بینی اور عشاء کے بعد کتب بینی آج بھی میرے معمول کا حصہ ہے‘‘

محمدعقیل قریشی ممبئی میں صندوق کی فٹنگس بنانے سے کاروبار سے جڑے ہوئے تھے کہ اسی درمیان ایک دوست کے توسط سے’جاوا‘ موٹر سائیکل کمپنی کیلئے اتفاقاً کام کرنےکا موقع ملا۔ یہ کام دراصل موٹر سائیکل کے کچھ پارٹس بنانے کا موقع تھا جو اُن کیلئے نہایت کارآمد ثابت ہوا۔ ا ن کابنایاہوا پارٹ پاس ہوگیا، اس کےبعدانہیں جاوا کمپنی کے کئی پارٹس بنانےکا آرڈر ملا۔ یکے بعد دیگر ے کاموں کےملنے سے کامیابی ملتی گئی۔ ان کی ایمانداری اور محنت کی وجہ سے جاوا کمپنی کے مالکان اورذمہ داران سے ان کے قریبی مراسم ہوگئے، جوآج بھی قائم ہیں۔ یہاں سے تجربہ اور حوصلہ ملاتو آگے چل کر مہندرا اینڈ مہندرا، بجاج اور اس طرح کی دیگر موٹرسائیکل بنانےوالی کمپنیوں کے بھی آرڈر ملے۔

جاوا موٹرسائیکل کاایک پارٹ محمد عقیل کی جاٹ میٹلس پریسنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی نے بنایاتھالیکن اس میںآنےوالی ایک تکنیکی دشواری کی وجہ سے وہ پارٹ صحیح طورپر کام نہیں کررہاتھا، ایسےمیں ان کے بڑے بھائی کوکمپنی چیکوسلواکیہ لے گئی تھی جہاں سےاوریجنل پارٹ بن کر آتاتھا، وہاں جانےپر ان کے بھائی کی سمجھ میں آگیا کہ اس پارٹ کو کیسے بناناہے۔ وہاں سے واپس آکر انہوںنے اس پارٹ کو دوبارہ بنایا، جو کامیاب رہا۔ اس کی وجہ سے محمد عقیل اور ان کےبھائیوں پر جاوا کمپنی کا بھروسہ اور بڑھ گیا۔ اس کےبعد کام کے علاوہ ان کے گھریلو مراسم بڑھتےگئے۔ جاواکمپنی کے مالکان اپنے بنگلے پر عقیل قریشی اور ان کے اہل خانہ کو مدعو کرتے تھے۔ اپنے گھر کی تقریبات میں دعوت دیتےتھے۔ حالانکہ اب جاواموٹرسائیکل بند ہوگئی ہے لیکن ان کےمراسم اب بھی اسی طرح برقرار ہیں جیسے پہلے تھے۔ 

عقیل قریشی کو بیرونی ممالک کادورہ کرنے کابڑا شوق رہا ہے۔ امریکہ، انگلینڈ، فرانس، کینیڈا اور دیگر کئی ممالک کی تفریح کرچکےہیں۔ ۱۹۹۸ء میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ امریکہ گئے تھے۔ اس دورے میں ان کے ایک دوست اور ان کی اہلیہ بھی شریک تھیں۔ ایک دن تفریح کے دوران ان کی اہلیہ بچھڑ گئی تھیں۔چونکہ وہ امریکہ کے جغرافیائی حالات سے زیادہ واقف نہیں تھیں، اسلئے وہ اس ہوٹل پر نہیں پہنچ سکیں جہاں ان لوگوں کاقیام تھا۔ یہ تو اچھا ہواکہ ان کے پرس میں ان سب کا پاسپورٹ تھا، انہوںنے مقامی لوگوںکو اپنا پاسپورٹ دکھایااور خاوند سے بچھڑ جانے کی بات بتائی جس پر ان لوگوںنے پاسپورٹ پردرج تفصیلات کی بنیاد پر انہیںاس ہوٹل میں پہنچادیا۔ ۱۰۔۸؍ گھنٹوں بعد ایک دوسرے سے ملنے پر جان میں جان آئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: وزیر تعلیم کی اسکول آنے کیلئے شرط تھی کہ استقبال کیلئے بچے دھوپ میں نہ کھڑے ہوں

جس دور میں عقیل قریشی دہلی سےممبئی آئے تھے، اُس وقت ۸؍ ڈبے کی فرنٹیر میل دہلی سے ممبئی ۳۲؍ گھنٹوں میں آتی تھی۔ بھاپ والے انجن سے گاڑی چلتی تھی۔ انجن سے اُٹھنے والے کوئلے کے کالے دھویں سے ممبئی آتے آتے پورا چہر ہ سیاہ ہوجاتاتھا۔ ۳۰۰؍ کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنےکےبعد کوئلہ ختم ہوجاتا تھا۔ ایسے میں مخصوص اسٹیشنوں پر کوئلہ کا ذخیرہ کیاجاتاتھا۔ ایسے اسٹیشنوں کے پلیٹ فارم پر انجن کے قریب والے حصے کی اونچائی عام پلٹ فارم کی اُونچائی سے زیادہ ہوتی تھی۔ اس حصہ پر ٹرین کے پہنچنے سے پہلے کئی عورتیں سرپر کوئلہ کی ٹوکری اُٹھائے کھڑی رہتی تھیں، جیسے ٹرین پلیٹ فارم پر پہنچتی، عورتیں انجن میں کوئلہبھر دیتی تھیں۔ کوئلہ کاذخیرہ پورا ہونے کے بعد ٹرین اسٹیشن سے روانہ ہوتی تھی۔

آزادی کےبعدجب مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد یہاں سے پاکستان منتقل ہورہی تھی، اُس دور میں مولانا ابوالکلام آزاد نے دہلی کے رام لیلا میدان سے بلند آوازمیں مسلمانوں سے ملک چھوڑ کر پاکستان نہ جانےکی اپیل کی تھی۔ وہ اپیل تاریخ کا ایک حصہ ہے اور عقیل قریشی کیلئے بہت اہم ہے کیونکہ مولانا آزاد کی اُس تاریخی تقریر کو عقیل قریشی نے اپنے کانوں سے سنا تھا۔وہ مسلمانوں کےپاکستان جانےکے فیصلے سے ناخوش تھے۔وہ چاہتے تھےکہ ہندوستان کے مسلمان یہیں رہیں، اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ان کی تقریر کے بعد لوگوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کردیا۔ جن لوگوں نےاپنا سامان باندھ لیا تھا، وہ بھی رک گئے۔

یہ بھی پڑھئے: میری والدہ اور ہم بھائی بہنوں نے پھوپھا کے حسن اخلاق سے متاثر ہو کر گاؤں کی زمین ان کے حوالے کر دی 

ملک کی آزادی کےبعد پھوٹ پڑنےوالے فساد سے دہلی کے مسلمانوں کوکافی مالی اور جانی نقصان پہنچاتھا۔ ایسےمیں عقیل قریشی کے پھوپھا عبداللہ بھائی نے اجمیری گیٹ کو جانےوالی سڑک پر ایک گیٹ بنوایا تھا تاکہ شرپسند اس علاقےمیں داخل نہ ہوسکیں۔ گیٹ بنانے پر محلے والوںنے ان پر فقرہ کساتھاکہ عبداللہ دیوانہ ہوگیاہے، کیاگیٹ بنانےسے شرپسند رک جائیں گے، لیکن حقیقت یہ ہےکہ اس گیٹ کے بنانے سے شرپسندوںنے وہاںکےمسلمانوں پر حملہ کرنےکی ہمت نہیں کی تھی۔ اس دور میں جو لوگ پاکستان منتقل ہورہےتھے، ان کیلئے پرانے قلعہ میں کیمپ لگایاگیاتھا، جہاں لوگ جمع ہوکر ٹرین سے پاکستان روانہ ہوتےتھے۔ کیمپ والوں کیلئے عقیل قریشی کےوالد اپنی کار سے ریلیف کاسامان پہنچاتے تھے تاکہ انہیں بھوک پیاس کا سامنا نہ کرناپڑے۔

 

۱۹۶۲ءکی بات ہے۔ دلیپ کمار کی گنگاجمنا فلم کسی وجہ سے سینسر بورڈمیں رکی ہوئی تھی۔ اس فلم کے تعلق سے دلیپ کمار دہلی آئے ہوئے تھے۔اسی دوران رام لیلامیدان میں ایک جلسہ رکھاگیاتھا جس میں جواہر لال نہرو تقریر کرنےوالے تھے۔نہروجی کو دلیپ کمار کے دہلی میں ہونےکی اطلاع ملی تو انہوںنے دلیپ کمار سے جلسے میں آنےکی اپیل کی۔ دلیپ کمار کےہامی بھرلینےپر جلسے میں دلیپ کمار کی شرکت کا اعلان کردیاگیا جس کی وجہ سے رام لیلا میدان عوام سے بھرگیا، لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے میدان میں اُمڈ آئے تھے۔ نہروجی کی تقریر کےبعد دلیپ کمار نےبڑی جذباتی تقرر کی تھی۔ لوگ انہیں ہمہ تن گوش سن رہےتھے۔ عوام میں نہرو ہی کی طرح دلیپ کمار کا بھی کریزتھا۔

یہ بھی پڑھئے: جن کے کا مستقل ٹھکانہ نہیں تھا، وہ میری دکان کے پتے پر اپنے خطوط منگواتے تھے

۱۹۹۲ء کے فرقہ وارانہ فسادکے دوران ان کاہم وطن ایک خاندان ان کے آگری پاڑہ کے مکان میں بطور کرایہ دار مقیم تھا۔ فساد بڑھنے پرکچھ لوگوںنےمشورہ دیاکہ ایسےمیں انہیں یہاں رکھنا مناسب نہیں ہے چنانچہ انہیں یہاں سے کہیںاور منتقل کردیناچاہئے۔ اپنے دوست کی ایماء پرعقیل قریشی نے پولیس سیکوریٹی میں انہیںیہاں سے منتقل کیاتھا۔ آج بھی اس دوست سے ان کےمراسم بڑے اچھے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK