Inquilab Logo Happiest Places to Work

گاؤں میں کھجور کی دستیابی مشکل تھی اس لئے اکثر غریب لوگ نمک سے روزہ کھولتے تھے

Updated: March 15, 2026, 9:47 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

مورلینڈروڈ کی ۷۹؍سالہ مجراون النساءضیاءالدین اعظم گڑھ کے بندول جے راج گاؤں میں پیدا ہوئیں، وہیں  پڑھائی لکھائی کی ،پلی بڑھیں اور پھر شادی کے بعد ممبئی منتقل ہوگئیں، وہ گاؤں اور بمبئی کی زندگی کے دلچسپ واقعات بیان کرتی ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مورلینڈ روڈ کی ۷۹؍سالہ مجراون النساء ضیاءالدین شاہ (آدھار کارڈ پر ان کایہی نام ہےاور اُردومیں بھی وہ اسی اِملےکے ساتھ نام لکھتی ہیں )کی پیدائش ۱۹۴۶ء میں ضلع اعظم گڑھ کے بندول جے راج پور گائوں میں ہوئی ۔ اس دور میں دیہی علاقوں میں لڑکیوں کو پڑھائی کیلئے گھر سے باہر بھیجنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔اس وجہ سے ان کی پڑھائی ایک ایسے گھر میںہوئی، جہاں گائوں کی متعدد لڑکیاں پڑھنے کیلئے آتی تھیں۔ یہاں ایک آپا اردو اور عربی کی تعلیم دیتی تھیں ۔ ان ہی کے گھر میں مجراون النساء نے اُردو اور عربی کی پڑھائی مکمل کی ۔ پڑھائی کے ساتھ سلائی، کروشیا، پینٹنگ، کڑھائی اور بنائی وغیرہ بھی سیکھا ۔اس دور میںوالدین ، بیٹیوں کی شادیاں جلد ازجلد کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ان کی بھی شادی ۱۷؍سال کی عمر میں ہوگئی تھی ۔ شادی کے بعد ۱۹۶۵ء میں ممبئی منتقل ہوئیں  اور تب سے عروس البلاد میں ہی  مقیم  ہیں ۔پیرانہ سالی  کے باوجود متحرک ہیں اور گھریلو کام کاج میں بھی  حصہ لیتی ہیں ۔ بقیہ وقت بیمار شوہر کی تیماداری اور بال بچوںکی تربیت پر صرف کرتی ہیں ۔

یہ بھی پڑھئے: ’’چاند رات کو دف بجاتا اور خوشی کے گیت گاتا ایک گروپ محلے میں نکلتا تھا‘‘

مجرا ون النساء جس گھر میں پڑھائی کیلئے جاتی تھیں ،وہاں کی آپا نے پڑھائی کے ساتھ انہیں گھریلو کام کاج کی بھی تربیت دی تھی ۔ سبق پورا ہونے کے بعد پڑھائی کرنے کیلئے آنے والی لڑکیاں بڑے جوش وخروش سے آپا کے گھرکی صفائی ، جھاڑو پوچھا، لیپائی ، برتن دھونے اور کنویں سے پانی نکال کر لانے کا کام خوشی خوشی کرتی تھیں ۔ کبھی کبھی اناج کی صفائی بھی کیا کرتی تھیں ۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ ا ن لڑکیوں کو بچپن میں ہی گھریلو کاموں کی تربیت ملی اور کام کرنے کی عادت بھی پڑگئی ۔ اس کی وجہ سے وہ اپنے گھر وںمیں بھی اس طرح کے کاموں میں ہاتھ بٹانے لگی تھیں۔

مجراون النساء کو پڑھائی سے زیادہ کھیل کود میںدلچسپی تھی۔ پڑھائی کے بعد بچنے والا زیادہ وقت اپنی سہیلیوں قافیہ، متون، سروری، صافیہ اور صدرُن وغیرہ کے ساتھ کھیل کود میں گزارتی تھیں ۔ اس دور میں لنگڑی ، چھپاچھپی اور گُڑیا گُڈے کا کھیل عام تھا ۔ گُڑیا گُڈے کی شادی بڑے دھوم دھام سے کی جاتی تھی ۔ ساری سہیلیاں مل کر گُڑیا گُڈے کی شادی کی تیاری کرتی تھیں ۔ ان کے کپڑے ،جوتے چپل اور دیگر سامان اپنے ہاتھوں سے تیار کرتی تھیں۔ شادی والے دن کھانے کاانتظام بھی سب مل کرتی تھیں ۔ اپنے گھروں سے مختلف قسم کا اناج مثلاً مٹر، چنا، چاول ، مکئی اور دال وغیرہ لاکر ’’بھرسائیں ‘‘سے بھجواتی تھیں ۔ اس دور میں بھرسائیں بھجوائی کا پیسہ نہیں لیتے تھے بلکہ اپنی اجرت کے طورپر تھوڑے  دانے نکال لیا کرتے تھے۔ان دانوں میں مرچ مسالہ ملاکر بڑے شوق سے ضیافت ہوتی تھی ۔مہمانوں کا بھیلی (گُڑ ) اور ریوڑی سے منہ مٹھا کیا جاتا تھا ۔  

یہ بھی پڑھئے: کوئلہ لئے کھڑی عورتیں ٹرین پلیٹ فارم پر پہنچتے ہی انجن میں کوئلہ بھر دیتی تھیں

مجراون النساء ۱۲۔۱۰؍ سال کی عمرمیں ایک مرتبہ اپنے گائوں سے ایک کلومیٹر کی دوری پر واقع قصائی محلہ سے گوشت خریدنے گئی تھیں ۔ دکان پر پہنچ کر گوشت والے سے گوشت دینے کیلئے کہا، اسی دوران نہ معلوم کیسے ان کا ایک پیر دکان کے نیچے لیٹے کُتے پر پڑگیا ۔ کُتے نے  پلٹ کر  انہیں کاٹ لیا ۔ وہ گھبرا گئیں ۔ انہوں نے اپنی بڑی بوڑھیوں سے ایک ٹوٹکا سن رکھا تھا ،جس کے مطابق کُتے کے کاٹنے پر اگر ۷؍کنوئیں  جھانک لئے جائیں تو اس کا اثر زائل ہو جاتا ہے ۔یہ ٹوٹکا انہیں یاد تھا، چنانچہ وہ گھر لوٹتے وقت راستے میں پڑنے والے متعدد کنوئوں میں سے ۷؍کنوؤں کو جھانکتے ہوئےآئیںتاکہ کُتے کا کاٹا ہوا اثر ختم ہو جائے ۔ گھر پہنچ کر والدہ کو پوری بات بتائی ۔ والدہ نے ٹوٹکا پورا کرنے پر شاباشی دی مگر  ڈاکٹرکو دکھا کر علاج بھی کروایا۔ مجراون النساء ۱۰؍سال کی عمر سے روزہ رکھ رہی ہیں ۔ متمول گھرانے سے تعلق تھا اس لئے  سحری اور افطار میں گھر میں خورد ونوش کی متعدد اشیاء دسترخوان پر سجی ہوتی تھیں ۔ اس لئے انہیں روزہ میں کبھی کسی طرح کی قلت کا احساس نہیں ہوا لیکن گائوں میں ان کے کچھ ہمسایہ ،جو غریبی اور مفلسی کی وجہ سے بڑی کسمپرسی میں روزہ رکھتے تھے ۔ ان کے گھروں میں افطاری کے وقت رات کیلئے بنایا جانے والا کھانا دسترخوان پر ہوتا تھا ،وہ لوگ افطار میں کھانا کھا کر روزہ کھولتےتھے ۔ ایسے گھروں میں مجراون النسا ء کے گھر سے بڑی خاموشی سے افطاری بھیجی جاتی تھی تاکہ ان کے بھی دسترخوان پر افطاری دسیتاب ہو۔ اس زمانے میںگائوں میں  میسر نہیں ہوتی تھی۔ مغرب کی اذان ہونے پر اکثر روزہ دار زبان پر نمک رکھ کربھی روزہ کھولتے تھے ۔

مجراون النساء ایک مرتبہ حج اور ۵؍بار عمرہ کرچکی ہیں۔ان کا ۱۹۸۳ء میں پہلی مرتبہ طیارہ سے حج پر جانے کا تجربہ انتہائی تلخ رہا ۔ جہاز سے سفر کرنے کافوبیا اس قدر غالب تھا کہ گھر سے ائیر پورٹ کیلئے نکلتےہی کار میںان کی طبیعت خراب ہوگئی ۔ٹھنڈی لگ کر بخارآنے اور بار بار دست ہونے سے بےحال ہوگئی تھیں ۔ ایسے میں نیم بے ہوشی کے عالم میں انہیں کسی طرح جہاز میں سوار کیا گیا ۔ انہوںنے پورا سفر نیم بے ہوشی میں طے کیا۔ جدہ پہنچنے پر بھی ۲؍ دنوں تک ان کی طبیعت خراب ر ہی۔  جہاز میں سفر کاسوچ کر وہ خوفزدہ ہوجاتی تھیں ۔ جہاز کے اُڑنے پر کیا ہوگا؟ اس احساس سے وہ ڈر جاتی تھیں لیکن حج سے واپسی میں ان کا یہ خوف جاتا رہا اور اب وہ بڑے شوق سے جہاز کا سفر کرتی ہیں۔

  بابری مسجد کی شہادت کے بعد پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فساد کے دوران مجراون النساء نے اپنے اہل خانہ کیلئے جو قربانیاں پیش کیں ،وہ اپنی مثال آپ ہیں ۔پولیس مدنپورہ اور اطراف کے محلوں سے مسلم نوجوانوں کو گرفتارکر رہی تھی ، اس بات کی اطلاع ملنے پر، وہ اپنے ۷؍ بچوںکو گھر کے ایک علاحدہ مالے پر بندکر کے کرفیو میں ایک گھنٹہ کی چھوٹ ملنے پر کھانے پینے کی ضروری اشیاء کی خریداری کیلئے خود باہر نکلتی تھیں۔ دودھ ،شکر ، پائو اور سبزیاں خریدنے کیلئے ایک سے دوسری جگہ بھاگ کر جاتی تھیں تاکہ خاوند اور بچوں کو کھانے پینے کی تکلیف نہ ہو لیکن اپنےشوہر یا بچوں کو گھر سے باہر نہیں نکلنے دیتی تھیں ۔ ایک مرتبہ سامان خریدنے کی تگ ودو میں گھر لوٹنے میں تاخیر ہوگئی  اورکرفیو میں باہر دکھائی دینے والوں پر پولیس نے آنسو گیس چھوڑنا شروع کردیا۔ یہ بھی اس کی زد میں آگئیں گیس کااثر بہت بھیانک تھا۔ پورے علاقے میں اندھیرا چھا گیا تھا۔ آنکھ میں گیس جانے سے آنسو نکل آئے۔ بڑی مشکل سے وہ گھر پہنچی تھیں ۔

یہ بھی پڑھئے: میرے دادا مرغ پالتے، انہیں بادام، پستہ کھلاتے اور مرغوں کے مقابلوں میں لڑاتے تھے

۱۹۶۵ء میں مجراون النساء جب ممبئی آئی تھیں  تب سستائی کادور تھا لیکن لوگوں کے پاس پیسے نہیں تھے ۔ راشن کی دکانوں پر اناج بہت سستاتھا ۔ مہینے میں ۲؍مرتبہ راشن تقسیم کیا جاتا تھامگر پیسوں کی قلت سے لوگ راشن نہیں خرید پاتےتھے۔ مجبوراً جو اپنی باری کا راشن نہیں خرید پاتا تھا وہ کسی جاننے والے سے کہتا کہ  اگر تمہارے پاس پیسے ہوں  تو میرا راشن  لے لو۔ مجرون النساء نےمتعدد مرتبہ اس طرح کےلوگو ں کا راشن خریدا  ہے ۔مجراون النساء کے گائوں میں آمدورفت کیلئے ہاتھ رکشا، یکہ اور بیل گاڑی اہم سواریاں تھیں۔ ان کے گھر والوں کو شادی بیاہ میں گائو ں سے باہر جانا ہوتا تو بیل گاڑی کی جاتی تھی ۔ ایک بیل گاڑی میں گھر کے آٹھ سے ۱۰؍ افراد بڑی آسانی سے بیٹھ جاتے تھے ۔ دھوپ سے بچنے کیلئے بیل گاڑی کے اُوپری سرے پر پردہ باندھ دیا جاتا تھا ۔ سفر کے دوران کھانے پینے کے سامان کاانتظام گھر سے  ہی کرلیا جاتاتھا۔ ۱۲۔۱۰؍ کلومیٹر کا سفر تقریباً ۵۔۴؍ گھنٹوں میں طے ہوتاتھا۔ بیل گاڑی کچے اور غیرہموار راستوں سے گزر کر منزل تک پہنچاتی تھی ۔ اس دوران متعدد مقامات پر راستوں پرہونے والے بڑے گڑھوں کی وجہ سے سبھی کو بیل گاڑی سے اُترنا بھی پڑتا تھا ۔ گڑھا پار کرنے کےبعد بیل گاڑی چلانے والا مسافروں کو دوبارہ گاڑی پر بٹھاتاتھا۔ دوپہر کے پروگرام میں شرکت کیلئے لوگ فجرکے وقت گھر سےنکلتے تھے تاکہ وقت پرپہنچ سکیں ۔ دونوں جانب کرا یہ ۶۰۔۵۰؍ روپے ہوتا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK