بائیکلہ کے ۷۶؍سالہ خطیب وامام مولانا عبدالجبار اعظمی ۱۹۸۰ء سے چشتی ہندوستانی مسجد سے وابستہ ہیں ، اسی طرح کئی ملّی اورسماجی تنظیموں بشمول ادارہ عالیہ شرعیہ سُنّی دارالقضا ممبئی اور آل انڈیاتنظیم سُنّی علمااینڈ آئمہ مساجد سے بھی جڑے ہوئے ہیں اورپوری طرح سے فعال ہیں۔
مولاناعبدالجباراعظمی ماہر القادری۔ تصویر: آئی این این
چشتی ہندوستانی مسجدبائیکلہ کےخطیب وامام مولاناعبدالجباراعظمی ماہر القادری ابن ولی محمد انصاری کی پیدائش ۶؍جون ۱۹۴۹ءکو ضلع اعظم گڑھ کےقصبہ مہاراج گنج کےموضع بھیماکول میں ہوئی تھی۔ گائوں میں بڑا مدرسہ نہ ہونےکی وجہ سے پھول پور کے مصبا ح العلوم مدرسہ میں ۸؍ویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد بقیہ پڑھائی مبارکپور کے مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم سےمکمل کی۔مولوی، عالم اورفاضل کاکورس کرنے کے ساتھ ہی ماہرالقادری کی سندبھی حاصل کی اور ایم اے کی پڑھائی مکمل کر کے ۱۹۶۶ء میں اسی مدرسے میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس دوران کئی مرتبہ ممبئی بھی آئے۔ ۷۳۔۱۹۷۲ءسےمستقل طورپر ممبئی میںقیام پزیر ہیں۔ ممبئی میںمستقل قیام کےبعد انہوںنے مسجداورمدرسے کے ساتھ ہی کلیان کے نیشنل اُردوہائی میں بحیثیت معلم طلبہ کو اُردو ،ہندی اور تاریخ وغیرہ بھی پڑھایا۔ ۱۹۹۲ء کےفرقہ وارانہ فساد کےبعد انہوںنے یہ ملازمت چھوڑ دی۔ ۱۹۸۰ء سے چشتی ہندوستانی مسجد کے خطیب اور امام کےمنصب پر فائزہیں۔شہرکی متعدد ملّی اورسماجی تنظیموں سے وابستہ ہیں جن میں ادارہ عالیہ شرعیہ سُنّی دارالقضاءممبئی، آل انڈیاتنظیم سُنّی علمااینڈ آئمہ مساجد، جن سیوا چشتی فائونڈیشن،کل ہندمسلم فیڈریشن،قومی متحدہ محاذ اور ایکسی لینٹ کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ کے مختلف عہدوںسے جڑے ہوئے ہیں۔ حج کمیٹی آف مہاراشٹر کے سابق رکن بھی رہ چکےہیں۔
یہ بھی پڑھئے: میرے دادا مرغ پالتے، انہیں بادام، پستہ کھلاتے اور مرغوں کے مقابلوں میں لڑاتے تھے
۱۹۶۷ءمیں مولانا عبدالجبارپیسوںکی قلت کی وجہ سے مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارکپور سے اپنے گائوں بھیما کول کیلئے پیدل روانہ ہوئے تھے۔ گرمی کاموسم تھا۔ تیز دھوپ میں تقریباً ۳۰؍کلو میٹرکاسفرغیرہموار راستوں کے ذریعے طے کرنا مشکل تھا۔ ان کی جیب میں صرف ۵۰؍پیسے تھے۔ ایک جگہ رک کر انہوں نے ۲۵؍پیسےکی برفی کھاکر پانی پی لیا تھا۔ اس کے بعد ان کے پاس صرف ۲۵؍پیسے رہ گئے تھے۔ایسےمیں انہوں نے سوچاتھاکہ جہاں سے ۲۵؍پیسےمیں یکہ کرکے گائوں پہنچا جاسکتاہے، وہاں سے یکہ کرلیں گے۔ مبارکپور سے گجرپاراور اس کےبعد جین پور کے قریب تیز دھوپ میں چلنے سے تھک جانے پرایک درخت کے سائے میں کچھ دیر کیلئے آرام کرنےکی غرض سے رک گئے۔ اس دوران سامنے کھیت میں کام کرنےوالے۳۔۲؍ لوگ ،انہیں دیکھ کر ان کے پاس آئے۔ انہوں نے چونکہ شیروانی اور ٹوپی پہن رکھی تھی ،اسلئے انہیں دیکھ کر گاؤں والوں نے کہا کہ مولوی صا حب اتنی تیز دھوپ میں پیدل کہاں جا رہے ہیں؟ پانی وانی پی لیں۔ یہ کہہ کر ان لوگوںنے انہیںبھیلی کھلائی اورپانی پیش کیا۔ بعدازیں ان لوگوںنے کہاکہ یکہ کرلیں، پیدل کیوں جا رہے ہیں؟ جس پر مولاناعبدالجبار نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کےجواب نہ دینےسے وہ لوگ سمجھ گئے کہ ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ان میں ایک خاتون بھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو یکہ ہی سے جاناہوگا،یہ کہہ کر انہوںنے ۲؍روپے ان کی جیب میں ڈال دیئے اورانہیںمہاراج گنج کیلئے ایک یکہ کرکےدے دیا۔ ان تمام کسانوں کا تعلق ’یادو‘ برادری سے تھا۔ آج بھی مولانا عبدالجبار جب کبھی گائوں جاتےہیں توان کے بال بچوں سے ملاقات کیلئے جین پور ضرور جاتےہیں۔
مولاناعبدالجبار اپنے والدمحترم کے ساتھ ایک مرتبہ املاک کے تنازع میں پھول پور تحصیل گئے تھے۔ اُس وقت وہاں ایک سیاسی جلسہ جاری تھا۔ وہاں بھیڑ دیکھ کر انہوںنے دریافت کیا کہ معاملہ کیا ہے تو وہاں موجود لوگوں نے بتایا، رام منوہر لوہیاتقریرکررہےہیں۔ انہیں سننےکیلئے وہ بھی رک گئے۔ وہ پنڈت جواہر لال نہرو کومخاطب کرکے کہہ رہےتھے کہ ’’پنڈت جی میں آپ کو آگاہ کرناچاہتاہوں، یہ جوآپ آہنی دیوار بنانا چاہتے ہیں ،اس کیلئے حزب مخالف کی رائے لینانہایت ضروری ہے ، ورنہ میں لوہیاہوں ، میں آپ کی آہنی دیوار میں سوراخ کردوںگا۔‘‘ لوہیا جی کا یہ فقرہ مولانا عبدالجبار کو ابھی بھی یادہے۔
یہ بھی پڑھئے: کوئلہ لئے کھڑی عورتیں ٹرین پلیٹ فارم پر پہنچتے ہی انجن میں کوئلہ بھر دیتی تھیں
مولانا عبدالجبار کے مراسم عظیم موسیقار نوشاد صاحب سے بڑے قریبی رہے۔ نوشاد صاحب کی اہلیہ کاانتقال ہونےپر ان کے ایصال ِ ثواب کیلئے محمدعلی روڈ کےمینارہ مسجد میں قرآن خوانی رکھی گئی تھی، حالانکہ اس دور میں نوشاد صاحب باندرہ میں رہائش پزیرتھےلیکن شہرکےلوگوںکی سہولت کیلئے قرآن خوانی مینارہ مسجد میں رکھی تھی۔ قرآن خوانی کابورڈ لکھنے والے صاحب کسی وجہ سے وقت پر نہیں پہنچ سکےتھے،ایسےمیں مولانا عبدالجبار نے جو خوش خط بھی تھے، قرآن خوانی کے۲؍بورڈ لکھے تھے۔ قرآن خوانی کےبعد نوشاد صاحب نے بورڈ لکھنےکیلئے مولانا عبدالجبار کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہاتھاکہ میں مختصر اور جامع تحریر کاشیدائی ہوں، آپ نے جو بورڈ لکھا تھا وہ میری پسند کےمطابق تھا۔
طالب علمی کےزمانےمیں مولانا عبدالجبار کو کبڈی کھیلنے کابہت شوق تھا۔لمبی اور اُونچی چھلانگ لگانےپر انہیں ۲؍مرتبہ انعام بھی مل چکا ہے۔ ایک مقابلے میں بطور انعام انہیں ایک بڑا غبارہ ملاتھا،اس دورمیں غبارہ بچوں کو بہت اچھالگتا تھا۔اسی طرح ایک دوسرے مقابلے میں اوّل انعام کے طورپر ۲۵؍پیسے نقد کے ساتھ اوکھ ( گناّ) ملاتھا۔ کبڈی کھیلنے کے دوران ایک مرتبہ ان کےپیرمیں شدید چوٹ بھی لگ چکی ہے۔ اُس وقت لوگوں نے بانس کی چھال لاکر ان کے پیرپر باندھاتھا۔ یہ چھال بہت گرم ہوتی ہے، اس نے بہت کام کیا۔آدھاگھنٹے میں ہی انہیں آرام مل گیاتھا۔
مولانا عبدالجبار کے گائوںمیں ایک مرتبہ اس علاقے کے ایک بڑے عالم دین اورپیر صاحب آئے تھے۔ ان سے ملاقات کیلئے گائوںکے ایک حصے میں جہاں ۲۲۔۲۰؍ تارکےبڑے بڑے درخت تھے۔لوگ بیٹھے پیر صاحب سے فیض حاصل کررہےتھےکہ اچانک پیر صاحب نے تمام چارپائیوںکو ہٹانےکیلئے زوردار آوازلگائی۔ جیسے ہی آخری چارپائی ہٹائی گئی۔ ایک بڑا درخت زمین پر آگرا،درخت کےگرنےکےساتھ ہی اس میں سے ایک خطرناک بڑا سانپ بھی نکلا۔اسے دیکھ کر تھوڑی دیر کیلئے سب کے اوسان خطا ہوگئے۔ وہ تواچھا ہوا کہ دوسرے ہی لمحے وہ ایک دوسرے درخت پر چڑھ ہوگیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’صبح کے وقت اخبار بینی اور عشاء کے بعد کتب بینی آج بھی میرے معمول کا حصہ ہے‘‘
مولانا عبدالجبار جس دورمیں چشتی ہندوستانی مسجد سے وابستہ ہوئے تھے ،اس زمانےمیں رمضان المبارک میں ہر مسجدمیں افطاری کانظم نہیں ہوتاتھا۔بڑی مساجد مثلاً مینارہ مسجد، زکریااور حمیدیہ مسجد وںمیں افطاری کا انتظام ہوا کرتا تھا۔ چھوٹی مساجد کےمصلیان گھر سےافطاری کرکے نماز پڑھنے آتے تھے لیکن اب تو ہر مسجد میں افطاری کاانتظام کیاجاتاہے۔ سحری کے وقت روزہ داروںکو بیدارکرنےکیلئے ایک خاص گروپ محلوں کا گشت کرتا تھا۔ دف کی آواز کے ساتھ ’’طاقوںمیں سجایا جاتاہوں، آنکھوں میں لگایا جاتا ہوں، ہے قول ِ محمد قولِ خدا، فرمان نہ بدلا جائے گا، بدلے گازمانہ لاکھ مگر قرآن نہ بدلاجائےگا، اُٹھوروزہ دارو، اُٹھوروزہ دارو، اُٹھو روزہ دارو‘‘کی صدا لگاتاتھا۔ چاند رات کو بھی اسی طرح ’’کیاسبب ہےکہ خوشی چھائی ہے، آج دنیامیں بہار آئی ہے۔ یہ دن اللہ نے دکھلایا ہے، عید کا چاند نظرآیاہے۔‘‘ ان اشعار کے ساتھ لوگوںکو عیدکی مبارکباد پیش کی جاتی تھی۔ یہ ساری روایتیںرفتہ رفتہ اب معدوم ہوتی جارہی ہیں۔