EPAPER
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) پر موجود ہند نژاد امریکی خلا باز انیل مینن نے زمین کے گرد مدار میں گردش کے دوران خلا سے نظر آنے والی دلکش قطبی روشنیاں (Auroras) کی تصاویر شیئر کی ہیں۔ ناسا کے مطابق یہ روشنیاں سورج سے آنے والے برقی ذرات کے زمین کے مقناطیسی میدان اور فضائی ذرات سے ٹکرانے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔
August 03, 2026, 10:01 PM IST
دنیا بھر میں راکٹ لانچز اور سیٹیلائٹ کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے باعث خلائی ملبہ (Space Junk) زمین پر پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ رفتار سے واپس گر رہا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اب تقریباً ایک میٹرک ٹن وزنی خلائی ملبہ اوسطاً ہر سات دن بعد زمین کے ماحول میں دوبارہ داخل ہو رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلائی ملبے کو محدود کرنے کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں فضائی سفر، سیٹیلائٹ اور زمینی آبادیوں کے لیے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
August 03, 2026, 4:14 PM IST
امریکی خلائی ادارے ناسا نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر موجود خلابازوں کو فضائی رساؤ کے خدشات کے پیش نظر عارضی طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے اور ممکنہ انخلاء کی تیاری کرنے کی ہدایت دی۔ مسئلہ روسی ماڈیول ’’زویزدا‘‘ کے ٹرانسفر ٹنل (PrK) میں سامنے آیا، جہاں برسوں سے دراڑیں اور معمولی لیکس رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
June 06, 2026, 6:02 PM IST
سائنسدانوں اور ماحولیاتی گروپس نے خبردار کیا ہے کہ اس خیال پر درآمد کرنا سنگین خطرات کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ محققین کا کہنا ہے کہ رات کے وقت مصنوعی روشنی ’سرکاڈین ردھم‘ (انسانوں اور جانوروں میں نیند اور طرزِ عمل کو کنٹرول کرنے والے قدرتی حیاتیاتی چکر) کو درہم برہم کر سکتی ہے۔
March 11, 2026, 4:31 PM IST
