EPAPER
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران دھمکیوں اور سائبر حملوں کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے۔ ایران نے دنیا بھر کے سیاحتی مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے جبکہ ایران سے منسلک ہیکر گروپ نے امریکی ویب سائٹس پر حملے کئے ہیں۔ اسی دوران برطانیہ کو امریکی اڈوں کی اجازت دینے پر سخت وارننگ دی گئی ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کے بعض علاقوں میں انخلا کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
March 21, 2026, 6:07 PM IST
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران عالمی اتحاد اور فوجی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ نیٹو نے سیکوریٹی خدشات کے پیش نظر عراق سے اپنے اہلکاروں کو یورپ منتقل کر دیا ہے۔ دوسری جانب برطانیہ نے امریکہ کو ایران کے خلاف حملوں کیلئے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اسی دوران رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
March 21, 2026, 6:02 PM IST
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث توانائی اور ثقافتی ورثے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اصفہان میں ۲۱؍ تاریخی مقامات کو نشانہ بنائے جانے سے بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی کا بحران جاری رہا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ۱۸۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
March 21, 2026, 5:58 PM IST
ایران جنگ کے دوران قیادت اور کنٹرول کے حوالے سے اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں ایرانی قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے بعد حکومتی ڈھانچے پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کی موت کو ’’شہادت‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کا دفاع دشمنوں کے اندازے سے زیادہ مضبوط ہے۔
March 21, 2026, 3:07 PM IST
