Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگی اخراجات بڑھ گئے، اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی منظوری، ۲۰۰؍ بلین ڈالر فنڈ مسترد

Updated: March 20, 2026, 7:47 PM IST | Washington

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے دوران مالی اور فوجی فیصلوں میں تیزی آ گئی ہے۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات، کویت اور اردن کو ۵ء۱۶؍ بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دی ہے۔ دوسری جانب امریکی قانون سازوں نے ۲۰۰؍  بلین ڈالر کی اضافی جنگی فنڈنگ کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف ۲۰؍ دنوں میں جنگی اخراجات ۶ء۴؍ بلین ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

(۱) امریکہ نے خلیجی ممالک کو ۵ء۱۶؍ بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دی
امریکہ نے ایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات، کویت اور اردن کو مجموعی طور پر ۵ء۱۶؍ بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس معاہدے میں جدید دفاعی نظام، میزائل ٹیکنالوجی اور دیگر فوجی ساز و سامان شامل ہیں۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ اقدام خطے میں اتحادیوں کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کیلئے کیا گیا ہے۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’ہم اپنے شراکت داروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں۔‘‘ یہ منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور دفاعی تیاریوں کو بڑھایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پرھئے: ایران جنگ امریکی سلطنت، ڈالر کے تسلط کا خاتمہ بن سکتی ہے:امریکی ارب پتی رے ڈالیو

(۲) امریکی قانون سازوں نے ۲۰۰؍ بلین ڈالر کی جنگی فنڈنگ مسترد کر دی
امریکی قانون سازوں نے ایران جنگ کیلئے ۲۰۰؍ بلین ڈالر کی اضافی فنڈنگ کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ قانون سازوں نے کہا کہ ’’ہم اس وقت اتنی بڑی رقم کی منظوری نہیں دے سکتے۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ جنگی اخراجات پہلے ہی بڑھ چکے ہیں اور مزید مالی بوجھ قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے اندر جنگی اخراجات پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ حکام نے کہا کہ اس معاملے پر مزید غور کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: دُنیا کے سب سے بڑے ایل این جی پلانٹ پر ایران کا حملہ

(۳) ایران جنگ میں ۲۰؍ دنوں میں ۶ء۴؍ بلین ڈالر کا نقصان
ایک رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے ابتدائی ۲۰؍ دنوں میں تقریباً ۶ء۴؍ بلین ڈالر کا مالی نقصان ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور جنگی سرگرمیوں کے باعث مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ اخراجات فوجی کارروائیوں، دفاعی نظام اور دیگر جنگی ضروریات پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔‘‘ اعداد و شمار کے مطابق جنگ جاری رہنے کی صورت میں یہ اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگ کے مالی اثرات پر عالمی سطح پر توجہ دی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK