Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ پر عالمی اختلاف، اسپین، اٹلی اور اقوام متحدہ نے سخت مؤقف اختیار کیا

Updated: March 20, 2026, 9:55 PM IST | Madrid

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ پر عالمی سطح پر اختلافات واضح ہو گئے ہیں۔ اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے جنگ میں شامل نہ ہونے کا اعادہ کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی دوران یورپی لیڈروں نے بھی امریکہ کے فیصلوں پر سوال اٹھائے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

(۱) پیڈرو سانچیز کا ایران جنگ میں شامل نہ ہونے کا اعادہ
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے اور ان کا ملک اس تنازع میں شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرا مؤقف واضح ہے، میں جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا اور اس وقت میں غزہ اور ایران کے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘‘ سانچیز نے مزید کہا کہ ان کے اس مؤقف کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے مختلف ممالک سے پیغامات اور خطوط موصول ہو رہے ہیں جن میں اس موقف کی تعریف کی جا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں جنگ کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ کے کئی ممالک اس جنگ میں براہ راست شامل ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جنگی اخراجات بڑھ گئے، اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی منظوری، ۲۰۰؍ بلین ڈالر فنڈ مسترد

(۲) انتونیو غطریس کا امریکہ اور اسرائیل سے جنگ بند کرنے کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے امریکہ اور اسرائیل سے ایران کے خلاف جاری جنگ فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ تنازع مکمل طور پر قابو سے باہر ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہری نقصان ہو سکتا ہے۔‘‘ غطریس نے خبردار کیا کہ جنگ کے جاری رہنے سے خطے میں انسانی بحران مزید بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم تمام فریقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری جنگ بندی کریں اور سفارتی حل کی طرف بڑھیں۔‘‘ انہوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ کشیدگی کم کرنے کیلئے کردار ادا کرے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں حملوں کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

(۳) امریکہ نے ایران پر حملے سے پہلے ہم سے بات نہیں کی: یورپ
یورپی قیادت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکہ نے ایران پر حملے سے پہلے اپنے اتحادیوں سے مشاورت نہیں کی۔ ایک اعلیٰ یورپی لیڈر نے کہا کہ ’’امریکہ نے ہم سے پہلے بات نہیں کی، اور اگر وہ مشورہ لیتا تو ہم اسے ایسا کرنے کا مشورہ نہیں دیتے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فیصلے عالمی سطح پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور انہیں مشاورت کے بغیر نہیں کیا جانا چاہئے۔ بیان میں کہا گیا کہ یکطرفہ کارروائیاں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل میں ایسے اقدامات سے پہلے اتحادی ممالک کے ساتھ مشاورت ضروری ہے۔ یہ بیان مغربی اتحاد کے اندر اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تل ابیب اور یروشلم میں سائرن، ایران کے مسلسل حملے، شہری بنکروں میں

(۴) ہرمز میں فوجی مشن مسترد، سفارت کاری کی حمایت: اٹلی کی میلونی
اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یورپی یونین سفارتی حل کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس تنازع کا حل فوجی کارروائی میں نہیں بلکہ سفارت کاری میں دیکھتے ہیں۔‘‘ میلونی نے کہا کہ یورپ کو کشیدگی کم کرنے کیلئے کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اٹلی اس وقت کسی فوجی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ یہ بحران بات چیت کے ذریعے حل ہو۔‘‘یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی ممالک جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK