Updated: March 20, 2026, 9:56 PM IST
| Tehran
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران سیاسی بیانات اور عوامی ردعمل میں شدت آ گئی ہے۔ امریکہ میں ایک سروے کے مطابق عوام کو خدشہ ہے کہ صدر ٹرمپ ایران میں فوجی تعیناتی کر سکتے ہیں اور اس امکان کی بڑی حد تک مخالفت کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت جاری نہیں ہے اور ان ممالک کو خبردار کیا ہے جو امریکی اڈوں کی میزبانی کر رہے ہیں۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای۔ تصویر: ایکس
(۱) امریکی عوام کو خدشہ، ایران میں فوجی تعیناتی کی مخالفت
ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکی عوام کو خدشہ ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران میں فوجی تعیناتی کا فیصلہ کر سکتے ہیں، جس کی بڑی تعداد مخالفت کر رہی ہے۔ سروے میں شامل افراد نے کہا کہ ’’ہم ایک اور بڑی جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔‘‘ نتائج کے مطابق اکثریت نے بیرون ملک فوجی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’امریکی عوام جنگ کے پھیلاؤ سے پریشان ہیں اور مزید فوجی اقدامات کے حق میں نہیں ہیں۔‘‘ یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ پر امریکہ کے اندر بحث جاری ہے۔ عوامی سطح پر خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تل ابیب اور یروشلم میں سائرن، ایران کے مسلسل حملے، شہری بنکروں میں
(۲) ایرانی صدر، امریکی اسرائیلی مہم عالمی قوانین کیلئے خطرہ
ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی مہم عالمی قانونی اصولوں کیلئے خطرہ بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ کارروائیاں ایک ایسی مثال قائم کر رہی ہیں جو عالمی نظام کو کمزور کر سکتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کیلئے اقدامات جاری رکھے گا۔ انہوں نے عالمی برادری سے اس صورتحال پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے اثرات عالمی سطح پر زیر بحث ہیں۔
(۳) ایران، امریکہ سے کوئی بات چیت نہیں، امریکی اڈوں والے ممالک کو وارننگ
ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت جاری نہیں ہے اور ان ممالک کو خبردار کیا ہے جو اپنے علاقوں میں امریکی فوجی اڈوں کی اجازت دے رہے ہیں۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ’’جو ممالک امریکی اڈوں کو اپنے علاقے میں رکھیں گے، انہیں دشمن سمجھا جائے گا۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کا کوئی عمل جاری نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران اپنی سلامتی کے تحفظ کیلئے ہر اقدام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم کسی بھی خطرے کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔‘‘ یہ بیان خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر حملے کیلئے امریکہ و اسرائیل کو اپنی زمین دینے ولاے ممالک سے مطاوضے کا مطالبہ
(۴) ایرانی وزیر خارجہ، جنگ کے خاتمے کیلئے ضمانتیں ضروری
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کیلئے ایسے معاہدے کی ضرورت ہے جس میں مستقبل کے حملوں کے خلاف واضح ضمانتیں شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ’’صرف جنگ بندی کافی نہیں، ہمیں اس بات کی یقین دہانی چاہئے کہ دوبارہ حملے نہیں ہوں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی معاہدے کو اسی صورت میں قبول کرے گا جب اس میں ٹھوس ضمانتیں شامل ہوں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران سفارتی حل کیلئے تیار ہے لیکن اس کے بنیادی مطالبات پورے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے خاتمے کیلئے ممکنہ مذاکرات پر بات ہو رہی ہے۔