Inquilab Logo Happiest Places to Work

islam

ایران جنگ پر پینٹاگون کا ۲۰۰؍ ارب ڈالر کا مطالبہ، خامنہ ای کی وارننگ

ایران جنگ کے دوران امریکہ کے اندر سیاسی اور سیکوریٹی دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پینٹاگون نے جنگی اخراجات کیلئے۲۰۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ کی ہنگامی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ایک امریکی اہلکار نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنی تشویش ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسی دوران ایف بی آئی نے مبینہ لیکس کے معاملے میں سابق انسداد دہشت گردی سربراہ کینٹ کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’خون کے ہر قطرے کی قیمت ہوتی ہے۔‘‘

March 19, 2026, 4:24 PM IST

۹۱۰۰؍ کلومیٹر کی بے مقصد پرواز، ایران میں ۴۴۴؍ گھنٹے بعد بھی انٹرنیٹ بند

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے اثرات غیر معمولی واقعات کی صورت میں بھی سامنے آ رہے ہیں۔ فضائی حدود کی بندش کے باعث ایک پرواز کو ۹۱۰۰؍ کلومیٹر کا اضافی چکر لگا کر لوٹنا پڑا۔ دوسری جانب ایران میں انٹرنیٹ طویل بلیک آؤٹ کے بعد مختصر طور پر بحال ہوا، تاہم بعد میں دوبارہ بند کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سیکوریٹی وجوہات کے تحت کئے جا رہے ہیں۔

March 19, 2026, 4:09 PM IST

پوتن کا پیغام، نیٹو اور میکرون کا مطالبہ: ایران جنگ پر سفارتی دباؤ بڑھ گیا

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ پر عالمی سطح پر سفارتی بیانات میں شدت آ گئی ہے۔ روسی صدر پوتن نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو تعزیتی پیغام بھیجا اور لاریجانی کے کردار کو سراہا۔ نیٹو کے سربراہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جانا چاہئے اور اتحادی اس کیلئے کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

March 19, 2026, 3:55 PM IST

بوشہر جوہری پلانٹ اور قطر گیس مرکز پر نشانہ، ٹرمپ نے مزید حملوں کی مخالفت کی

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں توانائی اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی حملے میں ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب دھماکہ رپورٹ ہوا جبکہ جنوبی پارس گیس فیلڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے جواب میں ایران نے قطر کے راس لافان انڈسٹریل سٹی پر بیلسٹک میزائل حملہ کیا جس سے بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اس حملے میں شامل نہیں تھا اور مزید توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مخالفت کی ہے۔

March 19, 2026, 3:39 PM IST

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK