Inquilab Logo Happiest Places to Work

الوداع وہ لمحات!

Updated: March 19, 2026, 2:47 PM IST | Rukhsana Jabeen | Mumbai

جب سحر کے وقت اور طاق راتوں میں فرشتے اترتے رہے ،مومنین کو دیکھتے رہے ، ان کی دعاؤں پر آمین کہتے رہے، جبریلؑ خوش نصیبوں سے مصافحہ کرتے رہے ، اللہ فرشتوں سے مومنین کے تنافس پر فخر کرتا رہا یہاں تک کہ رمضان گزر گیا اور اجر کی رات آ گئی ۔

Where were the preparations for welcoming Ramadan and where is it now that it is time to say goodbye? Photo: INN
کہاں تو یہ کہ استقبالِ رمضان کی تیاریاں تھیں اور کہاں اب کہ الوداع کہنے کا وقت آگیا ہے۔ تصویر: آئی این این

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت کو رمضان المبارک میں پانچ ایسی خصوصیات عطا کی گئی ہیں جو اس سے قبل کسی امت کو عطا نہیں کی گئیں: پہلی یہ کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی لگتی ہے۔ دوسری یہ کہ فرشتے ان کے لئے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ افطار کر لیں۔ تیسری یہ کہ اللہ تعالی ہر روز اپنی جنت کو مزین کرتا ہے، پھر فرماتا رہا عنقریب میرے صالحین بندے دنیا کی تھکاوٹ اور تکالیف سے میرے گھر اور میرے دارِ رحمت میں پہنچ کر آرام حاصل کریں گے، چوتھا یہ کہ اس مہینے میں سرکش شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے، پانچواں یہ ہے کہ جب (رمضان کی) آخری رات ہوتی ہے ان (روزہ داروں) کو بخش دیا جاتا ہے۔ ایک صحابی نے عرض کیا: کیا یہ(آخری رات) شب ِ قدر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ جب مزدور اپنے کام سے فارغ ہو جاتا ہے تو اسے مکمل مزدوری دی جاتی ہے؟‘‘ 

(بروایت امام احمد ، بیہقی )

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۶): تراویح کا حال یہ کہ بچےآگے، خادم صاحب ڈنڈا لئے پیچھے

لیجئے مہمان کے رخصت ہونے کا وقت آگیا۔ رحمت، مغفرت اور آتش دوزخ سے رہائی حاصل کرنے کی فکر میں مومنین نے مہینہ بھر محنت اور مشقت میں گزارا، دن بھر بھوک پیاس برداشت کی، زبان، آنکھ، کان اور  دیگر اعضاء کو ہر طرح کے گناہوں سے روکے رکھا، قرآن و اذکار وردِ زبان رہے اور راتیں اپنے رب ذولجلال والاکرام اﷲ کے حضور قیام و سجود میں گزاریں ۔اس کا پاک کلام سنا۔ غفلت کی نیند سے بچ بچ کر راتیں گزارنے کی سعی کرتے رہے۔ سحر و افطار رب کے حضور گڑ گڑاتے رہے اور الرحمان و الرحیم اور الودودو المجیب اﷲ سب کچھ محبت سے دیکھتا رہا ۔ سحر کے وقت اور طاق راتوں میں فرشتے اترتے رہے، مومنین کو دیکھتے رہے، ان کی دعاؤں پر آمین کہتے رہے اور جبریلؑ خوش نصیبوں سے مصافحہ کرتے رہے ۔  اﷲ فرشتوں سے مومنین کی ملاقات پر فخر کرتا رہا۔ یہاں تک کہ رمضان گزر گیا اور اجر کی رات (لیلۃ الجائزہ) آ گئی ۔ 

وہ رات بھی عجیب رات ہوتی ہے جو آخری رات ہوتی ہے۔ جس کے بعد صبح عید آتی ہے۔ ایک جانب غافلین ہوتے ہیں اور دوسری جانب محنت کرنے والے مومنین ہوتے ہیں جو کچھ اور ہی کیفیات سے گزرے ہوتے ہیں۔ رمضان کی رحمتوں کے بادل چھٹ جانے کا ایک عجیب افسردہ کرنے والا احساس طاری ہوتا ہے ۔ اپنی کم مائیگی کا بہت زیادہ احساس کہ نہ جانے کچھ کر پائے یا نہیں اور  نہ جانے اﷲ کے حضور قبولیت کا کیاعالم ہے۔ ایسے میں پیارے نبی ﷺ کا یہ فرمان ٹھنڈک بن کر ان کے اعصاب میں اترتا ہے کہ ’’رمضان کی آخری رات کو میری امت کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: کیا یہی وہ لیلۃ القدر ہے؟ حضورؐ  نے ارشاد فرمایا، نہیں بلکہ مزدور کو اس کی مزدوری اس وقت دی جاتی ہے،  جب وہ اپنا کام مکمل کر لیتا ہے۔ ‘‘(احمد)

اس رات کو آسمان پر لیلۃ الجائزہ کا نام دیا گیا اور یقیناً جس نے جتنا کمایا ہو گا اتنا ہی اجر اور مزدوری پائے گا: ’’اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اﷲ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر شخص کو جو کچھ عمل اس نے کیا ہے اس کی پوری پوری جزا دی جائے گی اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔‘‘ (البقرہ:۲۸۱)

یہ بھی پڑھئے: ہولناک دن کی کیفیات،غفلت کا علاج، ابرہہ کا انجام اور شر سے پناہ کی دُعا سنئے

اﷲ تعالیٰ ظلم کو ہرگز پسند نہیں کرتا لیکن بہت سے بدنصیب اس مغفرت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ وہ جنہوں نے نہ اﷲ کی رحمت کی قدر کی، نہ رمضان کا حق ادا کیا، نہ روزے کی حفاظت کی،اور جو کبائر سے بھی نہ باز آئے ان کے بارے میں بہت سخت وعید ہے ۔ لیلۃ القدر میں فرشتے جبریل علیہ السلام سے پوچھتے ہیں کہ ’’ اﷲ تعالیٰ نے محمدؐ  کی امت کے مومنوں کی حاجتوں اور ضرورتوں میں کیا معاملہ کیا؟‘‘  وہ کہتے ہیں: ’’اﷲ نے ان پر توجہ فرمائی اور چار اشخاص کے علاوہ سب کو معاف فرما دیا !‘‘ صحابہؓ نے پوچھا: ’’یا رسولؐ اﷲ وہ چار شخص کون ہیں؟‘‘ارشاد ہوا ’’ایک وہ جو شراب کا عادی ہو، دوسرا وہ جو والدین کی نافرمانی کرنے والا ہو، تیسرا وہ جو قطع رحمی کرنے والا اور ناطہ توڑنے والا ہو  اور چوتھا وہ جو کینہ رکھنے والا اور آپس میں قطع تعلق کرنے والا ہو۔‘‘(ترغیب۔بیہقی) 

اس طرح کی احادیث پڑھتے ہوئے یہ واضح رہنا چاہئے کہ مخاطب کون سے مسلمان ہیں۔   صحابہ کرامؓ جو اس طرح کی نمازوں اور روزوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہو ں گے جیسا کہ آج کے مسلمانوں نے ان عبادات کا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں انعام لینے والوں میں  شامل فرمائے اور ہمارا شمار نیک لوگوں میں ہو۔ آمین! 

یہ بھی پڑھئے: رمضان کے آخری ایام دراصل خود احتسابی کے دن ہوتے ہیں

یہ عام مشاہدہ ہے کہ ’چاند رات‘ کو کچھ زیادہ ہی خریداری اور گھومنا پھرنا یا کھانا پینا ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ رحمت و برکت اور نجات کی ان اہم ساعتوں کو فضولیات کی نذر کرنے کے  بجائے عبادت میں گزاریں تا کہ اﷲ سے اپنی پوری پوری مزدوری حاصل کر سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK