چکن کے دام سن کر ہمیں اندازہ ہوا کہ بیوپاریوں کو اس بات کا احساس ہے کہ کیلے، تربوز ، انگور انناس ہر چیز کے دام کم کردو مگر ایکسپورٹ بند ہو جانے کے بعد بھی گوشت کے دام کم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: March 19, 2026, 2:38 PM IST | Nadir | Mumbai
چکن کے دام سن کر ہمیں اندازہ ہوا کہ بیوپاریوں کو اس بات کا احساس ہے کہ کیلے، تربوز ، انگور انناس ہر چیز کے دام کم کردو مگر ایکسپورٹ بند ہو جانے کے بعد بھی گوشت کے دام کم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
رمضان المبارک کےشروع میں آپ تربوز والوںکی اکڑ دیکھتے، وہ سیدھے منہ بات کرنے کوتیار نہیں تھے۔ دام پوچھنےپر گاہک کی طرف نظر ڈالےبغیر جواب دیتے ’۵۰؍ روپے کلو‘ اگر گاہک نے ذرا بھی چوں چرا کی تو اسے چھوڑ کر فوراً دوسرے کی طرف متوجہ ہو جاتے۔ دام بتانے کا وقت نہیں تھا۔ دھوپ کی وجہ سے پریشان اور روزہ کی وجہ سے مجبور گاہک بے چارے جو تربوز مشکل سے ۳۰؍ یا ۴۰؍ روپے کا ہونا چاہئے، وہ کلو کے حساب سے دستیاب ہونے کے سبب ۸۰؍ اور ۹۰؍ روپے میں خرید لیتے۔ لیکن آج منظر کچھ بدلا بدلا سا نظر آ رہا تھا۔ تربوز والے آواز لگا لگا کر گاہک کو اپنی طرف بلا رہے تھے’ ۳۰؍ روپے کلو،‘ ہم ٹھہر گئے، تربوز والے کا لہجہ بھی بدلا بدلا سا تھا۔ ’بولو بھائی‘ ہم نے سودے کی بات کرنے کے بجائے پوچھا ’ بھائو گرگیا؟‘‘ اس نے بڑی متانت سے کہا’’ ہاں، ختم کرکے جانا ہے۔‘‘ یہ وہی آدمی ہے جس نے کچھ دن پہلے ایک گاہک سے کہا تھا: ’’کوئی بات نہیں ابھی نہیں بکے گا تو رمضان کے بعد بک جائے گا۔ یہ تربوز خراب ہونے والا نہیں ہے۔‘‘ ایک صاحب کہنے لگے ’’بھائو گرے گا ہی ناں، فروٹ کا ایکسپورٹ بند ہو گیا ہے۔‘‘ ہمیں سمجھتے دیر نہیں لگی کہ تربوز والوں کے اخلاق اور تربوز کے داموں میں تبدیلی دراصل ایران کے میزائلوں کی مرہون منت ہے۔ ایران نے اسرائیلی حملے کے جواب میں آبی راستوں کو مسدود نہ کیا ہوتا تو ہمیں آج بھی تربوز کے ۹۰؍ روپے ہی ادا کرنے پڑتے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۷): جب ایک چائے فروش تقسیمِ زکوٰۃ سے متعلق دِل میں کانٹا چبھو گیا!
تربوز والوں کے سامنے سڑک کے اس طرف سبزیوں کا بازار لگتا ہے۔ ممبرا والے جسے گلاب پارک مارکیٹ کہتے ہیں، اسکے ایک کونے پر ایک کیلے والا ’’ کیلا چالیس، کیلا چالیس، ‘‘ کی آواز لگاکر گاہکوں کو متوجہ کرتا ہے۔ کیلوں سے زیادہ اس کی آواز مشہور ہے۔ وہ اس وقت بھی آواز لگا رہا تھا مگر آوازکے اتار چڑھائو میں کچھ فرق معلوم ہو رہا تھا۔ ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہ ’کیلا چالیس‘ کے بجائے ’ کیلا تیس ، کیلا تیس‘ کی صدا بلند کر رہا تھا۔ رمضان بیوپاریوں کے کمانےکا موقع ہوتا ہے۔ وہ دام بڑھاتے چلے جاتے ہیں اور دام نہ ملیں تو مال لانا بند کر دیتے ہیں مگر کم نہیں کرتے۔ یوں کیلے کے دام گرتے دیکھ ہم نے پوچھا: ’’ کیا بات ہے سیدھے ۱۰؍ روپے کم لگا دیئے؟‘‘ اس نے کہنا شروع کیا: ’’بھائی جو بھائو مارکیٹ میں ملتا ہے وہ بھائو بیچنا پڑتا ہے۔ جب ۴۰؍ والا مال تھا تو وہ بیچا اب ۳۰؍ والا مل رہا ہے ۔ خوب کھائو رمضان کی برکت ہے۔‘‘ یہ کیلے والے کی انکساری تھی یا سیاسی سوجھ بوجھ کہ وہ جنگ کے اثرات کو رمضان کی برکت بتا رہا تھا۔ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سیکڑوں کنٹینر یہیں نوی ممبئی کی بندر گاہ پر کھڑے ہیں جو خلیجی ممالک بھیجے جانے والے تھے مگر آبی راستوں پر ایران کا پہرہ ہونے کی وجہ سے وہ جنگ کے خاتمےکا انتظار کر رہے ہیں۔ ظاہر سی بات ہےکہ کیلوں کی اگلی کھیپ بیوپاریوں کو مقامی مارکیٹ ہی میں فروخت کرنی ہوگی۔ لامحالہ اسکے دام بھی کم کرنے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۶): تراویح کا حال یہ کہ بچےآگے، خادم صاحب ڈنڈا لئے پیچھے
کیلے کے دام سن کر ہمیں دھوپ کی شدت کم معلوم ہونے لگی اور خریداری کا حوصلہ کچھ بڑھ گیا کیونکہ روزانہ کے مقابلے میں آج ہمارا بجٹ کنٹرول میں معلوم ہو رہا تھا۔ ہم نے اسی جوش میں چکن کی دکان کا رخ کیا۔ اس سے بون لیس (بغیر ہڈی) چکن کے دام پوچھے تو ہمارے حوصلے پھر پست ہو گئے۔ وہ ۴۰۰؍ روپے کلو دام بتا رہا تھا۔ ہم نے تصدیق کیلئے کہا: ’پھر سے بولو!‘ اس نے بلا جھجھک دہرا دیا: ’ ۴۰۰؍ روپے‘۔ چکن والوں کا اصول ہے کہ ہڈی والے چکن کے جو دام ہوتے ہیں، بغیر ہڈی کے دام اس سے سو روپے زیادہ ہوتے ہیں۔ ہم نے پوچھا ’’ ہڈی والے کا کیا بھائو ہے۔‘‘ اس نے بتایا ’’ ۲۴۰؍ روپے‘‘ ہم نے کہا ’’تب بون لیس کے دام ۳۴۰؍ ہونے چاہئے ، اتنے زیادہ کیوں لے رہے ہو؟‘‘ اس نے سمجھا یا: ’’کیا کریں بھائی، رمضان میں جو بھی آتا ہے ، وہ بون لیس ہی مانگتا ہے۔ اسلئے بھائو بڑھانا پڑا۔ تاکہ اسکی مانگ کچھ کم ہو۔ ‘‘ اس نے اتنی ہمدردی اور جتائی کہ ’’آپ ۲۰؍ روپے کم دیدینا۔ اب تک کسی کیلئے بھائو کم نہیں کیا، آپ کو دے رہا ہوں۔‘‘ چکن کے دام سن کر ہمیں اندازہ ہوا کہ بیوپاریوں کو اس بات کا احساس ہے کہ کیلے، تربوز ، انگور، انناس ہر چیز کے دام کم کردو مگر ایکسپورٹ بند ہو جانے کے بعد بھی گوشت کے دام کم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ گوشت چاہے کتنا ہی بچ جائے یہاں کے مسلمان اسے کھا ہی لیں گے۔‘‘